ملتان ،بلوچ طلبا کونسل کا احتجاجی کیمپ اٹھارہویں دن بھی جاری ،حکومت ٹس سے مس نہیں ہورہی ، طالبا

بلوچ طلبا کونسل کا احتجاجی کیمپ اٹھارہویں دن بھی جاری رہا جوکہ بہاوالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کی طرف سے فیس وصولی اور ڈیرہ غازی خان ڈویژن کے قبائلی علاقوں کےلیے نشستیں تخصیص کرنے کا مطالبہ شامل ہے مگرحکومت ٹس سے مس نہیں ہورہی جہاں بی ایس سی ملتان کے چئیرمین وقاربلوچ نے میڈیاسے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا پہلے کہتے تھے بلوچستان والوں کو سردار ترقی نہیں کرنے دیتے اور نہ ہی ان کے وڈیرے ان کے تعلیم کے حق میں ہیں اب پنجاب میں کون سے ہمارے وڈیرے اور سردار ہیں؟ جوہمیں تعلیم نہیں دینا چاہتے ہیں یہاں تو پڑھا لکھا طبقہ ہے جن میں ہم بلوچوں کےخلاف تعصب پائی جاتی ہے وہ ہمارے تعلیم کےحق میں نہیں ؟ آخرکیوں ؟ حکومت اور یونیورسٹی انتظامیہ ہمارے پڑھانے کےحق میں نہیں ہیں کیوں ہم سے بات چیت نہیں کررہے ؟کیا ہم گونگے ہیں ؟بہرے ہیں ؟کیاہم بات نہیں کرسکتے ؟
انہوں نے کہا کہ پنجاب کےاعلی تعلیم یافتہ طبقہ اور حکومت سے اپیل کرتاہوں ہمیں پڑھنے دیں اور ہماری لیے یونیورسٹی اپنی وہی پرانی پالیسی برقرار رکھے تاکہ ہمارے نئے آنے والے طلبا اپنی تعلیمی سفرجاری رکھ سکیںجبکہ قدیربلوچ کے مطابق فیس وصولی کےخلاف ہماری جدوجہدتب تک جاری رہے گی جب تک یہ فیصلہ واپس نہیں لیاجاتادوسری جانب برکت نگوری نے بلوچ قوم اور حکومت کی ان کے احتجاجی کیمپ سے لاتعلقی پراظہار افسوس کیا اور وزیراعلی پنجاب کے ملتان میں ہوتے ہوئےبھی ان کے کیمپ میں اظہاریکجہتی اور مذاکرات کےلیے نہ آنے پر انہوں نے ناصرف ناراضی کااظہار کیا بلکہ اسے غیرجمہوری حکومت قراردیتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت سیاسی اخلاقیات سے ناصرف ناواقف ہے بلکہ سیاسی مبادیات سے بھی ناواقف ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں