بھارت: دلیت خاتون کا ریپ کے بعد انتقال، شہریوں کا احتجاج

بھارت کی ریاست اتر پرادیش میں ریپ کا شکار ہونے والی خاتون کئی دنوں تک زیر علاج رہنے کے بعد نئی دہلی کے ہسپتال میں دم توڑ گئی جس کے بعد شہریوں بڑی تعداد نے ہسپتال کے باہر احتجاج کیا۔

خبرایجنسی رائٹرز کے مطابق حکام کا کہنا تھا کہ خاتون کو مردوں کے ایک گروپ نے ریپ کا نشانہ بنایا تھا جس کے بعد انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں ہسپتال کے باہر سیکڑوں شہری جمع ہوئے اور واقعے کی مذمت کی اور احتجاج کیا۔حکام کا کہنا تھا کہ 19 سالہ متاثرہ دلیت خاتون کا دہلی سے 62 میل دور ضلع ہتھراس میں 14 ستمبر کو ریپ کیا گیا تھا۔

متاثرین خاتون کو گزشتہ روز اترپرادیش سے نئی دہلی کے صفدر یار جنگ ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں علاج کے دوران جاں بر نہ ہوسکی۔ہسپتال کے باہر شہریوں کی بڑی تعداد جمع ہوئی اور احتجاج شروع کیا، اس دوران پولیس کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئیں اور روڑ بلاک کردیا گیا۔

خواتین کے لیے دنیا بھر میں سب سے زیادہ خطرناک قرار دیے جانے والے ملک بھارت میں ریپ کا یہ نیا کیس ہے۔بھارتی حکومت کی 2018 کی سرکاری رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ بھارت میں ہر 15 منٹ بعد ایک خاتون ریپ کا نشانہ بنتی ہے۔

کانگریس کی رہنما پریانکا گاندھی واڈرا نے ٹوئٹر پر کہا کہ ‘خواتین کے لیے کوئی تحفظ نہیں ہے اور مجرمان سرعام نشانہ بناتے ہیں’۔

دلیت کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم بھم آرمی کے کارکنوں نے ہسپتال کے باہر نعرے لگائے جس کے باعث پیراملٹری کے درجنوں اہلکاروں کو اطراف میں تعینات کردیا گیا۔

بھم آرمی کے سربراہ چندرا شیکھر آزاد نے دلیتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ ملک بھر میں باہر نکل کر احتجاج کریں اور ملزمان کو پھانسی دینا کا مطالبہ کریں۔

رپورٹ کے مطابق متاثرہ خاتون کی آبائی ریاست کو ملک میں خواتین کے لیے سب سے زیادہ غیر محفوظ قرار دیا جاتا ہے جہاں وزیراعظم نریندر مودی کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت قائم ہے۔

اس سے قبل گزشتہ برس دسمبر میں اترپرادیش میں ہی ایک گینگ نے خاتون کو آگ لگادی تھی جب وہ ریپ کا نشانہ بننے کے بعد عدالت جارہی تھی۔

یاد رہے کہ بھارت میں 9 ستمبر کو 86 سالہ خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا جس سے پورے بھارت میں غم و غصہ پھیل گیا تھا اور دنیا بھر میں افسوس کا اظہار کیا گیا تھا۔

بی بی سی کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کی پولیس نے 86 سالہ عمر رسیدہ خاتون کو تشدد اور ریپ کا نشانہ بنانے والے ایک شخص کو گرفتار کرلیا۔

دہلی کمیشن فار ویمن کی سربراہ سواتی مالیوال کا کہنا تھا کہ ‘بزرگ خاتون پیر کی شام کو دودھ والے کا اپنے گھر کے باہر انتظار کر رہی تھیں جب ان پر حملہ کیا گیا’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘حملہ آور نے انہیں بتایا کہ ان کا گوالا آج نہیں آئے گا اور انہیں دودھ کے لیے دوسرے مقام پر لے جانے کی کوشش کی، خاتون نے اس شخص کے ساتھ جانے کا فیصلہ کیا جو انہیں قریبی کھیت میں لے گیا اور وہاں ریپ کا نشانہ بنایا’۔

بھارتی حکومت کے ادارے ’نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو (این سی آر بی) کی جانب سے گزشتہ سال جاری کی گئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ بھارت میں ہر 15 منٹ میں ایک خاتون کا ’ریپ‘ کیا جاتا ہے۔

این سی بی آر کی 2017 کی رپورٹ کے مطابق بھارت بھر میں خواتین کے خلاف تشدد، ریپ، ان پر تیزاب سے حملے، انہیں ہراساں کرنے سمیت دیگر صنفی تفریق کے واقعات میں اضافہ ہوگیا اور گزشتہ برس 2016 سے زیادہ جرائم ریکارڈ کیے گئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ سال 2017 میں مجموعی طور پر بھارت بھر میں خواتین کے خلاف جرائم و تشدد کے 3 لاکھ 60 ہزار سے زائد کیسز رجسٹرڈ ہوئے جن میں سے زیادہ تر ’ریپ‘ کے کیسز تھے

اپنا تبصرہ بھیجیں