حکومتی حکمت عملی کیا ہوگی؟
عام آدمی اپوزیشن کی احتجاجی تحریک کا براہ راست حصہ نہ ہو تب بھی بالواسطہ اس کی دلچسپی برقرار رہتی ہے۔جیسے کسی دنگل میں زور آزمائی کے لئے اکھاڑے میں دو پہلوان اترتے ہیں،تماشائی باہر بیٹھے دونوں پہلوانوں کے داؤ پیچ دیکھ کر کسی ایک سے ہمدردی اور دوسرے کے خلاف خالص تنقیدی رویہ اختیار کرتے ہیں۔یہی کچھ سیاسی محاذآرائی کے دوران دیکھنے میں آتا ہے۔البتہ دونوں جانب کارکن پرجوش ہوتے ہیں۔ حکومت کو سرکاری اداروں کی معاونت حاصل ہوتی ہے،لیکن اس کے باوجود اسے دفاعی کردار ادا کرنا پڑتا ہے۔کبھی کبھار حکومت اس کے برعکس جارحانہ پالیسی اپنا کر اپوزیشن کو جانی و مالی نقصان پہنچانے سے دریغ نہیں کرتی۔لیاقت باغ سے اسلام آباد کے ڈی چوک تک دونوں اقسام کے مناظر لوگ دیکھ چکے ہیں اور ان کے حافظے میں محفوظ ہیں۔جے یو آئی کا اسلام آباد کی سرحد پر دیا گیا دھرنا پرامن رہا۔اس کی وجہ مبصرین کے نزدیک یہ تھی کہ جمیعت کے پاس طالب علموں کی صورت میں جو (سیاسی)ورکر ہیں وہ دیگر جماعتوں کے مقابلے میں قیادت سے روحانی وابستگی رکھتے ہیں اور طے شدہ حدود کے اندر رہتے ہیں۔جبکہ پی پی پی اور مسلم لیگ نون کے ورکرز میں اس قدر ڈسپلن نظر نہیں آتا۔کسی بات پر بپھر جائیں تو قیادت کی بھی نہیں سنتے۔پی پی پی کے جیالوں کا مزاج قدرے جارحانہ رہا ہے، کوڑے کھانے اور جیلوں میں صعوبتیں برداشت کرنے سے ماضی قریب تک نہیں گھبراتے تھے۔نون لیگ کی تاریخ سڑکوں پر دیر تک لڑنے کی نہیں رہی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ قیادت بہت جلد کوئی حربہ استعمال کرکے بیرون ملک جانے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔آج بھی میاں نواز شریف، ان کے دونوں صاحبزادے، ان کے سمدھی، ایک بھتیجا، چھوٹے بھائی کے داماد لندن میں مقیم ہیں۔اس بار ان کی صاحبزادی مریم نواز بیرون ملک نہیں جا سکیں،نیب کی جانب سے دی گئی سزا کے خلاف اپیل کی سماعت ہو رہی ہے اور وہ ضمانت پر ہیں۔اپیل کا فیصلہ آنے کے بعدہی ان کے مستقبل بارے علم ہو سکے گا۔7ستمبر تک مسلم لیگ نون کے رہنما کوئی ماورائے عدالت راستہ نکالنے کی کوشش کرتے رہے ہیں، جو آرمی چیف کے انکار کے بعد بظاہر بند ہوگیا ہے۔عدالتی عمل پیچیدہ ہے، مقدمات کی نوعیت سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ ان کے وکلاء زیادہ پر امید نہیں۔الزامات سادے ہیں مگر جواب دینا آسان نہیں۔اگرچہ لیگی رہنما میڈیا کے روبرو دعویٰ کرتے ہیں کہ شریف فیملی کے خلاف نیب ایک دھیلے کی کرپشن ثابت نہیں ہوئی مگران کے ایسٹبلشمنٹ سے خفیہ رابطے اس دعوے کی نفی کرتے ہیں۔بیرون ملک انتہائی مہنگی جائیدادیں نہ صرف موجود ہیں بلکہ شریف فیملی ایسی ہی متنازعہ جائیداد میں رہائش پذیر ہے۔تضادات بھرے بیانات کی بھرمار سے بھی ان کا دعویٰ کمزور دکھائی دیتاہے۔نواشریف کے اچانک انقلابی ہونے کے بیانیے کو مسلم لیگ نون میں مخالفت کا سامنا ہے۔5اراکین پنجاب اسمبلی کی وزیر اعلیٰ عثمان بزدار سے دوبار ملاقات اور بیانیہ مخالف اظہار رائے کے بعد جو سلوک کیا جارہا ہے اس سے بھی عام آدمی کو یہی پیغام ملتا ہے کہ نون لیگ میں ٹوٹ پھوٹ کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ان حالات میں نون لیگ کتنے عوام کو جلسوں میں لا سکے گی؟ وثوق سے کچھ کہنا مشکل ہے۔آج کا جلسہ بتائے گا کہ شریف فیملی کہاں کھڑی ہے؟یہ اطلاعات بھی گشت کر رہی ہیں کہ پی پی پی کی جانب سے معاہدے کی ایک قسط ادا کر دی گئی ہے، نون لیگ انکاری ہے۔ سیاست کے نشیب و فراز پر نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ ایک سزا یافتہ قیدی کا پر اسرار بیماری کی آڑ میں بیرون ملک جانا کسی معاہدے کے بغیر ممکن نہیں تھا، مولانا فضل الرحمٰن کو آج بھی شک ہے کہ اس تحریک کے نتیجے میں بڑی پارٹیاں ان سے چھپ کر کوئی سمجھوتہ کر سکتی ہیں۔اگر مولانا کے خدشات درست ثابت ہوئے تو جلد ہی معاملات اپنے منطقی انجام کو پہنچ جائیں گے۔حکومت ایک سے زائد بار کہہ چکی ہے کہ پلی بارگین کا راستہ کھلاہے۔وزیر اعظم عمران خان کی تقریر اور باڈی لینگویج کو مبصرین اسی تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔جو لوگ نواز شریف کی شکل میں ”امام خمینی“کی جھلک دیکھ رہے ہیں،انہیں جلد مایوسی ہوگی۔بیٹی کو جیل سے نکالنے کی مجبوری اپنا کام دکھاسکتی ہے۔اشتہاری قرار دینے کے بعد ہر تھانے میں تصویر لگانے کے علاوہ ڈھول بجا کراور لاؤڈ اسپیکر پر اعلانات کاعدالتی حکم بلاوجہ نہیں۔ایف اے ٹی ایف کے دباؤ کے نتیجے میں کی جانے والی قانون سازی بھی منی لانڈرنگ کے خلاف اپنا رنگ دکھائے گی۔یاد رہے کہ عالمی منظر ماضی جیسا نہیں رہا۔اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بعد عرب حکمرانوں کی پوزیشن کمزور ہوئی ہے، انہیں عوامی ناراضگی کاسامناہے۔پاکستان سے اپنی پسند کے فیصلے کرانا ممکن نہیں دکھائی دیتا۔سی پیک پاکستان سے زیادہ چین کے لئے اہم ہے۔چینی صدر کے بیانات اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں۔ شریف فیملی ابھی تک 90کی دہائی میں جی رہی ہے۔ اسے احساس نہیں کہ وقت بہت آگے جا چکا ہے۔معاہدے سے انحراف نقصان دہ ثابت ہوگا۔ جیسے جیسے حکومت گراؤ تحریک آگے بڑھے گی پی ڈی ایم کی دونوں بڑی پارٹیوں کو اندازہ ہو جائے گا کہ ان کے پاس معاہدے پر عمل درآمدآخری آپشن ہے۔معروضی حالات یہی اشارا دے رہے ہیں۔حکومت مخالف تحریک کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے صرف نعرے بازی کام نہیں آتی، مشکل مراحل طے کرنا ہوں گے۔دیگر عوامل کے ساتھ نواز شریف کا بیرون ملک قیام تحریک کے عملی تقاضے پورے کرنے کی راہ میں ایک رکاوٹ ہے۔ نون لیگ کو یہ بھی دیکھناہوگا کہ اس کے پاس ملک میں مریم نواز کے علاوہ کوئی قائد نہیں بچا۔ وہ گرفتاری کے بعد اتنی مؤثر نہیں رہیں گی۔حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ اس مرتبہ جیل سے تحریک چلانے کی سہولت نہیں ملے گی۔


