کوئٹہ،حکومت اور زمینداروں کے درمیان مذاکرات کامیاب، مطالبات حل کرنے کی یقین دہانی کرادی گئی
کوئٹہ:حکومتی مذاکراتی کمیٹی اورزمیندار ایکشن کمیٹی بلوچستان میں مذاکرات کامیاب ،حکومت کی جانب سے 5دن کی مہلت اور مطالبات کے حل کی یقین دہانی پر زمیندار ایکشن کمیٹی نے 5دن کیلئے احتجاج موخر کردیا۔پیر کو زمیندارایکشن کمیٹی بلوچستان کے زیراہتمام صوبے کے زرعی ٹیوب ویلز کی بجلی کی بندش ،صوبائی اور وفاقی حکومتوں کی جانب سے سبسڈی کی عدم فراہمی ،ہمسایہ ممالک سے پیاز،ٹماٹر ودیگر کی غیرقانونی اسمگلنگ کے خلاف ایوب اسٹیڈیم سے وزیراعلیٰ ہائوس کی طرف احتجاجی ریلی نکالی گئی ،وزیراعلیٰ ہائوس کی طرف اجازت نہ ملنے پر مظاہرین جی پی او چوک پر مطالبات کے حق میں سراپااحتجاج بن گئے ،مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے۔احتجاجی مظاہرین میں اراکین صوبائی اسمبلی نصراللہ زیرے ،اصغر علی ترین اورزمیندار ایکشن کمیٹی کے ایگزیکٹو ممبران،سید عبدالقہار آغا،کاظم خان اچکزئی ،جبار کاکڑ، جبار آغا، حاجی عزیز شاہوانی ،حاجی عزیز سرپراہ ،حاجی افضل بنگلزئی خالق داد،پشین،قلات،مستونگ،کچلاک،سمہت دیگر اضلاع کے زمیندارون نے شرکت کی ۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے زمیندارایکشن کمیٹی کے چیئرمین ورکن صوبائی اسمبلی ملک نصیراحمدشاہوانی ،جنرل سیکرٹری حاجی عبدالرحمن بازئی نے کہاکہ صوبے میں بھر میں زروعی ٹیوب ویلوںکو صرف دو گھنٹے بجلی فراہم کی جارہی ہے اوربجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کے باعث زمینداری کا شعبہ تباہی کے دھانے پر پہنچ گیاہیدوسری جانب رہی سہی کسرایران اور افغانستان سے پیاز،انگور،اور ٹماٹر کی اسمگلنگ نے پوری کردی جس سے بلوچستان کے زمیندار معاشی مشکلات سے دو چار ہوگئے ،انہوں نے کہاکہ حکومت اس سلسلے میں اقدامات اٹھانے میں ناکام ہوگئی ہے بلکہ حکومت نے بجلی لوڈشیڈنگ ختم ،ہمسایہ ممالک سے اسمگلنگ روکنے کا وعدہ پورا نہیں کیا،اندرون بلوچستان تمام فیڈروں میں بیس گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے باغات اور فصلیں تباہ ہوچکی ہیں ۔اس موقع پر صوبائی وزیر زراعت زمرک خان اچکزئی نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ زمیندار ایکشن کمیٹی سے مذاکرات ہو چکے ہیں،محکمہ واپڈا کی جانب سے بجلی کے بلوں کی عدم ادائیگی کے باعث بجلی منقطع کردی گئی تھی ،اس سلسلے میں متعلقہ فیڈرز پر میٹر نصب کئے جائیںگے اس پر بھی کام شروع کرینگے تاکہ معلوم ہو سکے زمیندورں کا کتنابجلی استعمال کرتے ہیں،ہمسایہ ممالک سے پھل اورسبزیوں کی آمد کے سلسلے میں وفاق سے بات کریں گے ، زمرک خان اچکزئی نے کہاکہ گرمیوں کے آخر سے میری کوشش تھی کہ زمینداروں کے مسائل سے متعلق وزیراعظم سے اس بارے میں بات کروں ،بلوچستان کے زرعی ٹیوب ویلز کے مسئلے پر وزیراعلیٰ بلوچستان کے ساتھ رابطے میں ہوں ،وزیراعلیٰ کی طرف سے 8گھنٹے بجلی کی فراہمی کامطالبہ منظور کرلیاگیاہے تاہم دیگر مسائل کے حل کیلئے کوشاں ہوں ،انہوں نے کہاکہ مجھے ادراک ہے کہ ٹڈی دل سے سے زمینداروں کا بہت نقصان ہوا ہے تاہم صوبائی حکومت اس کے ازالہ کیلئے اقدامات کررہی ہے ،حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے زمینداروں سے پانچ دن کی مہلت طلب کی اورکہاکہ اگر مطالبات تسلیم نہیں ہوئے تو ہم بھی احتجاج میں شریک ہونگے ،ایسا نہیں ہوسکتا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے کوئی ایسافیصلہ ہو جس سے زمینداروں کو نقصان کاسامنا ہو اور ہم اس پر خاموشی اختیار کرے ۔اس موقع پر زمیندار ایکشن کمیٹی کے جنرل سیکرٹری عبدالرحمن بازئی نے بتایاکہ 4دن بعد وزیراعلی بلوچستان کی ہدایت پر قائم کردہ کمیٹی کااجلاس صوبائی وزیر زراعت انجینئر زمرک خان اچکزئی منعقد ہوگا جس میں صوبائی ووفاقی حکومتوں کی جانب سے سبسڈی کی عدم فراہمی ،ہمسایہ ممالک سے زرعی اجناس کی اسمگلنگ ودیگر سے متعلق گفت وشنید کی جائیگی ۔


