حکومتی بوکھلاہٹ، غیر اخلاقی اور غیر معیاری زبان کے استعمال سے مسائل حل نہیں ہونگے،پشتونخوامیپ
کوئٹہ;پشتونخواملی عوامی پارٹی کے مرکزی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ گوجرانوالہ کے فقیدالمثال جلسہ عام پر پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پی ڈی ایم میں شامل تمام سیاسی جمہوری جماعتوں کے سربراہوں اور سیاسی کارکنوں کو دل کی اتاہ گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں اور ساتھ ہی گوجرانوالہ کے غیور عوام کو داد تحسین پیش کرتے ہیں کہ انہو ں نے اپنے اعلیٰ اور پختہ شعور کا مظاہرہ کرتے ہوئے سلیکٹڈ اور سلیکٹرز پر مکمل عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ مرکزی سیکرٹریٹ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ملکی آئین پر اس کے روح کے مطابق عملدرآمد، ملکی پارلیمنٹ کی خودمختاری وبالادستی اور ملک کے تمام ادارے اس کے ماتحت ہونے، ملک کو قوموں کی برابری کا حقیقی فیڈریشن بنانے، جمہورکی حکمرانی قائم کرنے، آئین کے تحت صوبائی خودمختاری، جمہوریت اور جمہور کی حکمرانی سے ملک اور اس کے ادارے مستحکم ہوسکتے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک کی جی ڈی پی منفی 04ہونے، ملک کی مکمل آمدن قرضہ جات اور سود کی مد میں تقریباً 90%چلے جانے اور تمام ملک کو 10%سے چلانے اپنی نااہلی ناکامی تسلیم کرنے کی بجائے ملک کے جمہوری اپوزیشن جماعتوں پر غصہ نکالنے اور ملکی مسائل کے ذمہ دار ٹھہرانے کا عمل غیر سنیجدگی کی کھلی مظہر ہے۔ اپوزیشن کی اپیل پر عوام کا نکلنا نااہل ناکام اور سلیکٹڈ پر عدم اعتماد اور حکمرانی کے خلاف کھلی ریفرنڈم ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک کے 22کروڑ عوام پر ملکی تاریخ کی بدترین مہنگائی، سخت ترین بیروزگاری کے علاوہ سرکاری ملازمین کے تقریباًڈیڑھ کروڑ کو ملازمت سے برخاست کرنے کا اقدام ناکام حکمرانی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ زرعی، صنعتی اور دیگر ملکی پیداوار میں تقریباً50فیصد کمی پورے ملک کیلئے لمحہ فکریہ بن چکا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومتی بوکھلاہٹ، غیر اخلاقی اور غیر معیاری زبان کے استعمال سے مسائل حل نہیں ہونگے ملک کے سنجیدہ حلقوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ صورتحال کا صحیح جائزہ اور عوام کی رائے کا احترام کرتے ہوئے ووٹ کی تقدس کو بحال کریں اور اس میں مداخلت سے اجتناب کریں۔ بیان کے آخر میں عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ کل 18اکتوبرکو کراچی کے جلسے اور 25اکتوبر کو کوئٹہ کے جلسے کیلئے گوجرانوالہ کے عوام کی تقلید کرتے ہوئے آنیوالے پی ڈی ایم کے جلسوں میں شرکت کرکے نااہل، ناکام اور سلیکٹڈ پر اپنا عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے جمہوریت پسندی اور وطن دوستی کا ثبوت دیں۔


