پولیوکیسز میں اضافہ لمحہ فکریہ ہے، ظہوربلیدی
کوئٹہ؛صوبائی وزیر خزانہ میر ظہور احمد بلیدی نے کہا ہے کہ پولیو کے خلاف جہاد کرنے والے خراج تحسین کے مستحق ہیں، پولیو ورکرز کئی انکاری والدین کا سامنا ہے تو ان کے جانوں کو خطرات لاحق ہیں، رواں سال پولیو کیسز کی تعداد میں اضافہ باعث تشویش ہے، دنیا بھر سے پولیو جیسے موذی مرض کا خاتمہ ہوچکا ہے مگر بدقسمتی سے پاکستان اور افغانستان میں ابھی تک بچوں کو موذی مرض میں مبتلا ہونے کا خطرہ لاحق ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے عالمی انسداد پولیو مہم کے دن کے مناسبت سے کوئٹہ کے مقامی ہوٹل میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے کوارآرڈینیٹر راشد رزاق کے علاوہ پولیو مہم میں حصہ لینے والے ورکرز نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ تقریب کے دوران پولیو مہم میں جان کا نذرانہ پیش کرنے والے ورکرز اور سیکورٹی اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ صوبائی وزیر خزانہ میر ظہور بلیدی نے انسداد پولیو کے عالمی دن پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پولیو کے خلاف جہاد میں کام کرنے والے تمام افراد کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ وہ صوبے میں پولیو جیسے موذی مرض کے خاتمے کیلئے اپنی خدمات بہت بہادری اور تندہی سے ادا کر رہے ہیں۔پولیو مہم کے دوران ورکرز کو بہت ساری مشکلات درپیش ہیں۔ کہیں انکاری والدین کا سامنا ہے اور کہیں ورکرز کو جان کے خطرات لاحق ہیں مگر ان تمام مشکلات اور خطرات کے باوجود ہمارے پولیو ورکرز پر عزم ہیں اور اس موذی مرض کے خلاف جنگ میں صف اول کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ صوبائی وزیر ظہور بلید ی کا کہنا تھا کہ وہ انسداد پولیو کے عالمی دن پر تمام پولیو ورکرز خصوصا خواتین ورکرز کو سلام پیش کرتا ہوں جو گھر گھر جا کر پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو سے بچاکے قطرے پلا رہے ہیں تاکہ بلوچستان اور پاکستان کا مستقبل محفوظ ہو سکے۔ صوبائی وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ پولیو نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کیلئے خطرہ ہے جس کے مکمل خاتمے کیلئے تمام سیاسی، مذہبی رہنماں کو آگے آنا پڑے گا تاکہ پولیو ویکسین سے متعلق جو ابہام ہمارے معاشرے میں موجود ہیں وہ دور کئے جا سکیں۔رواں سال پولیو کیسز کی تعداد میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی وزیر خزانہ نے کہا کہ رواں سال صوبے میں پولیو کے 23نئے کیسز سامنے آچکے ہیں جو کہ ایک لمحہ فکریہ ہے جس کے تدارک کیلئے ہمیں ایک نئی حکمت عملی بنانے ضرورت ہے۔انسداد پولیو کے عالمی دن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے کورآرڈینیٹر راشد رزاق نے کہا کہ پوری دنیا سے پولیو جیسے موذی مرض کا خاتمہ ہو چکا ہے مگر بد قسمتی سے پاکستان اور افغانستان وہ واحد ممالک ہیں کہ جہاں اب بھی پانچ سال سے کم عمر بچوں کو اس موذی مرض میں مبتلا ہونے کا خطرہ لاحق ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولیو وائرس کے خلاف جنگ میں ہمارے ملک کے بہادر پولیو ورکرز اور سیکورٹی فورسز نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے لہذا اس جنگ کو جیتنے کیلئے ہمیں بحیثیت معاشرہ متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ تقریب کے اختتام پر صوبائی وزیر خزانہ ظہور بلیدی اور ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے کوآرڈینیٹر راشد رزاق نے پولیو مہم میں حصہ لینے والے ورکرز میں اسناد پیش کیں۔


