صدارتی آرڈیننسز، رضا ربانی نے 61صفحات پر مشتمل جواب عدالت میں جمع کروادیا

اسلام آباد(آئی این پی)صدارتی آرڈیننسزکے خلاف کیس میں سینیٹر رضا ربانی نے بطور عدالتی معاون تحریری جواب اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کروادیا، سینیٹر رضا ربانی کا عدالت میں جمع کرایا گیا جواب 61صفحات پر مشتمل ہے عدالت میں جمع کرائے گئے جواب میں رضا ربانی نے موقف اپنایا کہ آئینی تقاضوں کو پورا کیے بغیر جاری کیا جانے والا آرڈیننس منسوخ کیا جا سکتا ہے، آئینی تقاضوں کو پورا کیے بغیر جاری کیا گیا آرڈیننس خلاف آئین ہے اور اسکی کوئی قانونی حیثیت نہیں، پارلیمنٹ اجلاس نہ ہونے پر غیرمعمولی حالات میں فوری ایکشن کیلئے صدر پاکستان آرڈیننس جاری کر سکتا ہے، آئین کے مطابق صدر پاکستان کابینہ کی تجویز پر غیرمعمولی حالات میں آرڈیننس جاری کر سکتا ہے۔ جواب میں مزید کہا گیا ہے کہ آئین پاکستان سنگین اور ناگزیر حالات میں پارلیمنٹ کا اجلاس نہ ہونے پر صدر کو محدود اختیار دیتا ہے، صدر پاکستان کے مضحکہ خیز، بدنیتی پر مبنی اور غیرمتعلقہ بنیادوں پر جاری کردہ آرڈیننس پر سوال اٹھایا جا سکتا ہے، سینیٹ کا طے شدہ اجلاس نہ بلا کر آرڈیننس جاری کرنے سے صاف ظاہر ہے کہ فی الفور آرڈیننس کی ضرورت نہ تھی، آرڈیننس مقننہ میں ہونے والی بحث اور بات چیت کو بائی پاس کرنے کیلئے جاری کیا گیا

اپنا تبصرہ بھیجیں