وفاق کا سندھ اور بلوچستان کے جزائر پر قبضہ قبول نہیں، آفتاب شیرپاؤ
کوئٹہ؛قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے کہا ہے کہ ڈھائی سال میں ثابت ہوگیا ہے کہ موجودہ حکمران واقعی سلیکٹڈ ہے، پی ڈی ایم کو عوامی مشکلات کاادراک ہے اسی لئے میدان عمل میں نکلے ہیں تاکہ انہیں مشکلات سے نجات دلایاجائے،جب ملک میں صاف شفاف وغیرجانبدار انتخابات ہوں گے تب تمام ملک کو درپیش چیلنجز کاخاتمہ ممکن ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ 2018 کے عام انتخابات میں عوام کی مینڈیٹ کوچوری کیاگیااس وقت ہم نے کہاتھاکہ موجودہ حکومت سلیکٹڈ ہے،ڈھائی سالہ حکومت نے اپنی کارکردگی سے ثابت کردیاکہ یہ واقعی سلیکٹڈ ہے،حکمرانوں کی کارستانیوں نے ملک کونقصان پہنچاہے۔جن لوگوں نے سلیکٹڈ کو ووٹ دیاتھا آج وہ خود اس پرشرمندہ ہے آج حکمران اپنے ہی کارکنوں کاسامنا کرنے سے کترارہے ہیں،گزشتہ روز عمران خان نے کہاکہ نوازشریف کو لانے کیلئے اگر انہیں برطانیہ کے وزیراعظم کے ساتھ بات کرناپڑی تو وہ بات کرینگے جس پر عمران خان کو شرم آنی چاہیے۔ وہ یہ عوام کے مفاد کے لئے نہیں بلکہ پی ڈی ایم کے جلسوں سے خائف ہو کر کہہ رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ گوجرانوالہ جلسے کے بعد پی ڈی ایم کے قائدین پر غداری کے مقدمے درج کئے گئے اور کراچی کے جلسے کے بعد وفاق نے سندھ کے صوبائی حکومت پر حملہ کیااور آئی جی پولیس سندھ کو یرغمال بنایا بعد ازاں کیپٹن (ر) صفدر حسین کی گرفتاری کیلئے ان سے زبردستی دستخط کروائے گئے اور کیپٹن صفدر کے کمرے کے دوازے توڑ کر انہیں گرفتارکیاگیا جو کہ شرمناک عمل ہے۔ ایسا کرنے کے احکامات جنہوں نے دئیے اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہم بلوچستان حکومت کی جانب سے محسن داوڑ کوائیرپورٹ پر روکنے اورانہیں واپس بھیجنے کی مذمت کرتے ہیں ان کی جلسے میں شرکت سے کسی کو کیانقصان ہوناتھا پی ڈی ایم کے تمام جلسے پرامن ہے۔حکمرانوں کو بتاناچاہتے ہیں کہ یہ توشروعات ہیں پشاور،ملتان اور لاہور میں بھی تاریخ ساز جلسے ہوں گے حکمرانوں کو پتہ چل جائے گاکہ آج ملک کی عوام کس کے ساتھ ہیں۔انہوں نے کہاکہ بلوچستان اور خیبرپشتونخوا میں دہشتگردی کی واقعات حکمرانوں کی نااہلی ہے اور ان کی ہرپالیسی ناکام ہوچکی ہے،حکمرانوں کی ناقص پالیسیوں،مہنگائی،بے روزگاری نے عوام کاجینادوبھر کردیاہے۔آج ایک آدمی دو وقت کی روٹی تک کھلانے کی استطاعت نہیں رکھتا۔بلوچستان کے دوردراز علاقوں میں آٹا نایاب ہوچکاہے،چینی اورگھی کی قیمتیں دوگنی ہوگئی ہے،جبکہ ادویات کی قیمتوں میں 300فیصد سے زیادہ اضافہ کیاگیاہے۔وفاق نے صوبوں کے حقوق پر یلغار کیاہے،سندھ اور بلوچستان کے جزائر پر قابض ہوناچاہتے ہیں جو ہمیں کسی صورت قبول نہیں،وفاق کو چلانا ہم سب کی ذمہ داری ہے تاہم وفاق کو تمام اکائیوں کو زیادہ سے زیادہ اختیارات دینے چاہئیں،اکائیاں خودمختار ہوں گی تو ملک مستحکم ہوگا۔ 18ویں ترمیم کے تحت اکائیوں کو ملنے والے اختیارات کیلئے مرکز حیلے بہانوں 18ویں ترمیم کو ناکام بنانے کی کوشش کررہی ہے،این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو ملنے والے وسائل اب بھی ناکافی ہے،نااہل ملک کوچلا نہیں سکتے تو اپنی ناکامی چھپانے کیلئے 18ویں ترمیم کے خاتمے کی ناکام کوشش کررہے ہیں،ہم چاہتے ہیں کہ پسماندہ صوبوں کے وسائل انہیں کے اقوام پر خرچ کئے جائیں تاکہ وہ دوسرے صوبوں کے برابر آجائیں۔ہم آئین کی پاسداری اس کا تحفظ چاہتے ہیں،پی ڈی ایم کو عوامی مشکلات کاادراک ہے اسی لئے میدان عمل میں نکلے ہیں تاکہ انہیں مشکلات سے نجات دلایاجائے،جب ملک میں صاف شفاف وغیرجانبدار انتخابات ہوں گے تب تمام ملک کو درپیش چیلنجز کاخاتمہ ممکن ہے۔ملک کو ایسے حکمرانوں کی ضرورت ہے جو عوامی مسائل حل کرسکتے ہوں اور عوامی حقوق کی خاطر جیل جانے اور کسی بھی قربانی کیلئے تیارہوں۔


