بلوچستان اسمبلی میں بی ایم سی ایکٹ کا ترمیمی مسودہ منظور، اے این پی اور پشتونخوامیپ کا احتجاج

کوئٹہ :بلوچستان اسمبلی میں بلوچستان کیڈٹ کالجز،بلوچستان قبضہ ومنجمد اداروں (مدارس اور سکولز)،(مساجد) اور(ہسپتالوں اور ڈسپنسریوں)اوربولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز کا(ترمیمی) مسودات پیش،اپوزیشن نے مسودات قائمہ کمیٹیوں کے سپردکرنے کامطالبہ کیااجلاس میں اپوزیشن اور حکومتی ارکان مسلسل بولنے سے کان پڑی آواز سنائی نہ دی،بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز کا(ترمیمی) کے مسودے پر اے این پی کے اصغرخان اچکزئی اور پشتونخوامیپ کے نصراللہ زیرے نے احتجاجاً ایوان سے واک آؤٹ کیا جبکہ ان کی غیر موجودگی میں ایوان نے مسودہ قانون کی منظوری دی۔ پیر کے روز بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں صوبائی وزیر تعلیم سرداریارمحمدرند نے بلوچستان کیڈ ٹ کالجز کامسودہ قانون مصدرہ 2020(مسودہ قانون نمبر5مصدرہ 2020 ایوان میں پیش کیا جس پر اپوزیشن لیڈر ملک سکندرخان ایڈووکیٹ نے کہاکہ بل کومنظوری کی بجائے متعلقہ کمیٹی کے حوالے کیاجائے تاکہ اس پر بحث کی جائے اور اس کے بعد آئینی طریقہ کار کے مطابق اس ایوان میں لاکر منظور کیاجائے جبکہ حکومتی ارکان نے اسرار کیا کہ بل کوبلوچستان اسمبلی کے مجریہ 1974ء کے قاعدہ 84اور 85 کے تقاضوں سے مستثنیٰ قراردیاجائے اس موقع پر حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے مسلسل بولنے سے کان پڑی آواز سنائی نہ دی،صوبائی وزیر میر ظہور بلیدی نے کہاکہ متعلقہ محکموں نے قانون کے تمام امور کو دیکھ لیاہے لہٰذاء اس سے منظور کیاجائے جس پر اسپیکر نے مسودہ قانون منظوری کیلئے ایوان میں رائے شماری کیلئے پیش کیا جس کی ایوان کی اکثریت رائے سے منظوری کے بعد سپیکر نے مسودہ قانون کو بلوچستان اسمبلی کے مجریہ 1974ء کے قاعدہ 84اور 85 کے تقاضوں سے مستثنیٰ قرار دینے کی رولنگ دی۔اجلاس میں صوبائی وزیر تعلیم سرداریارمحمدرند نے بلوچستان قبضہ ومنجمد اداروں (مدارس اور سکولز) کامسودہ قانون مصدرہ 2020 (مسودہ قانون نمبر7مصدرہ 2020 پیش کیااس موقع پر پشتونخواملی عوامی پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی نصراللہ زیرے نے کہاکہ ہم نے یہ مسودہ قانون ابھی نہیں پڑھا لہٰذااس سے کمیٹی کے سپرد کیاجائے کمیٹیاں اسی لئے بنائی جاتی ہے کہ وہاں پر بحث کرکے مسودہ کو بہترانداز میں ایوان میں لایاجائے جس پر سرداریارمحمدرند نے کہاکہ مسودہ قانون ارکان کو بھیج دیاگیا یہ الگ بات ہے کہ انہوں نے نہیں پڑھا اس موقع پر ایک مرتبہ پھر اپوزیشن اور حکومتی ارکان مسلسل بولتے رہے اسپیکر نے نصراللہ زیرے کے بعض ریمارکس کارروائی سے حذف کرائے اور مسودہ قانون کو منظوری کیلئے ایوان کے سامنے پیش کیاایوان کی رائے شماری کے بعد اسپیکر نے مسودہ قانون کی منظوری کی رولنگ دیدی۔اجلاس میں بلوچستان رکن صوبائی اسمبلی ماہ جبین شیراں نے وزیربرائے مذہبی امور کی طرف سے بلوچستان قبضہ ومنجمد اداروں (مساجد) کامسودہ قانون مصدرہ 2020 (مسودہ قانون نمبر8مصدرہ 2020ایوان میں پیش کیا جس کی ایوان نے منظوری دی،اجلاس میں پارلیمانی سیکرٹری برائے صحت بلوچستان ڈاکٹرربابہ بلیدی نے بلوچستان قبضہ اور منجمد سہولیات (ہسپتالوں اور ڈسپنسریوں) کا مسودہ قانون مصدرہ 2020مسودہ قانون نمبر10مصدرہ 2020ایوان میں پیش کیا جس کی ایوان نے منظوری دی تاہم قبل ازیں جب پارلیمانی سیکرٹری ڈاکٹر ربابہ بلیدی نے بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز کا(ترمیمی) مسودہ قانون مصدرہ 2020مسودہ قانون نمبر9مصدرہ 2020 ء ایوان میں پیش کیا تو اس پر نہ صرف اپوزیشن رکن نصراللہ زیرئے نے شدید احتجاج کیا بلکہ حکمران اتحاد میں شامل عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر اصغرخان اچکزئی نے بھی شدید احتجاج کیا ان کا کہنا تھا کہ اس مسودہ قانون کو اس طرح منظور نہ کیا جائے بلکہ اس پر نظرثانی کی ضرورت ہے اس طرح تو ہم یونیورسٹی کو واپس کالج کے درجے پر لارہے ہیں منظوری کی بجائے اسے پہلے قائمہ کمیٹی میں بھیجا جائے یا اس پر ایوان میں بحث کرائی جائے جس پر وزیر خزانہ میر ظہور بلیدی نے کہا کہ اس مسئلے پر طویل احتجاج ہوتا رہا ہے ابھی ہمیں دیگر معاملات میں نہیں پڑنا چاہئے بلکہ مسودہ قانون منظور کرناچاہئے۔انہوں نے کہا کہ ملازمین کو چھ مہینوں سے تنخواہیں نہیں ملیں اور انہیں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ا صغرخان اچکزئی نے کہا کہ احتجاج وائس چانسلر کے رویئے کے خلاف تھا وائس چانسلر کے رویئے سے طلبہ اور اساتذہ کو تحفظات تھے انہوں نے کہا کہ قانون سازی کے حوالے سے ایوان کو اعتماد میں لیا جائے۔اس موقع پر جب مسودہ قانون کی منظوری سے متعلق تحریک ایوان میں لائی گئی تو اس پر پشتونخوا میپ کے نصراللہ زیرئے نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ مسودے کی منظوری سے احتجاج کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوجائے گا۔ بعدازاں اصغرخان اچکزئی اور نصراللہ زیرئے نے احتجاجاً ایوان سے واک آؤٹ کیا جبکہ ان کی غیر موجودگی میں ایوان نے مسودہ قانون کی منظوری دی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں