آزاد بلوچستان کا نعرہ، اویس نورانی کے لیے سزاء بنتی ہے تو گواہی دینے پرعمران خان کے لیے بھی سزا بنتی ہے، سراداراخترمینگل
اسلام آباد /کوئٹہ:بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ ورکن قومی اسمبلی سردار اختر جان مینگل نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم کے جلسے میں آزاد بلوچستان کے نعرے لگائے گئے وہ غلط ہیں جب پورے آئین کو روند اجاتا ہے تو ہمارے وہ جذبات کہاں سوئے ہوتے ہیں حکمران ایوان بالا میں بل لائیں کہ جس نے آرٹیکل 6کی خلاف ورزی کی ہے اس کو سر عام پھانسی دی جائے موجودہ وزیراعظم نے 2019میں کہا تھا جو بلوچستان کی آزادی کی بات کرتے ہیں یہ مظالم کا نتیجہ ہے اگرمیں ان کی جگہ ہوتا میں بھی یہی کہتا جب ملک کا وزیراعظم اس وقت کرسکتا ہے تو شاہ اویس نورانی کی زبان پھسلنے پر ان کوسزا دی جاتی ہے تو عمران خان کا تھوڑی سی سزا ء تو بنتی ہے سندھ بلوچستان کے ساحل اور جزائر پر قبضہ قبول نہیں ہے کیا 70سالوں سے بابائے قوم کی خوابوں کی بے حرمتی نہیں کی گئی ہے کیا بانی پاکستان نے یہ خواب دیکھا تھا کہ بلوچستان میں آباواجداد کی زمینوں کو وفاق کے حوالے کرنا بلوچستان کے لخت جگروں کومسخ شدہ لاشیں ان کے لواحقین کے سامنے پھینکنا اور اجتماعی قبریں دریافت کرنا ہزاروں کی تعداد میں مسنگ پرسنز نہیں دینا،سی پیک آنے کے بعد گوادر کے عوام بے گھر ہونا ان خیالات کااظہاانہوں نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا سردار اختر جان مینگل نے کہا ہے کہ کوئٹہ میں پی ڈی ایم کی جلسے میں ملک کو توڑنے کی باتے کی گئی ہیں اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ مجھے یقین نہیں تھا کہ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ اتنا چاجائے گا اس ایوان کی کارروائی دیکھ کر واقعی چا گئے ہیں ملک میں تمام زبانیں قابل احترام ہیں ایوان کے ممبرنے ایک قبیلے کا نام غلط لیا ہے اس کومعذرت کرنی چاہیے ہے محمود خان ا چکزئی اس ایوان کے ممبر رہ چکے ہیں وہ اچکزئی ہے وہ اُچکزئی نہیں ہے انہوں نے کہا کہ تمام اقوام کے زبانوں کو درجہ دینا چاہیے انہوں نے سب کچھ چھوڑ کر شامل ہوئے ہیں اس لئے نہیں کہ مختلف اقوام کے زبانوں کو اس طرح نظر انداز کیا جائے کہ ہماری آنے والی نسلیں وہ زبانیں بولنا بھول جائیں یہ آپ کا آرٹیکل 28کہتا ہے اور ہم پر الزام لگا یا جاتا ہے کہ ہم نے آرٹیکل 251کیخلاف ورزی کی ہے انہوں نے کہا کہ دوسری اہم بات کوئٹہ میں آزاد بلوچستان کے نعرے لگائے گئے ہیں اچھا ہوا کسی بلوچ نے یہ نعرہ نہیں لگا یا ورنہ کب کا پھانسی دی جاتی تھی جس کے آبا واجداد نے اس ملک کو بنا نے میں بہت بڑا ر ول تھا اس پر الزام لگا ہے ہمیں آئین کی چھوٹی شقیں یاد آتی ہیں لیکن اس پورے آئین کو جب روندا جاتا ہے ہمارے وہ جذبا ت کہاں سوئے ہوئے ہوتے ہیں کیا آرٹیکل 6پورے آئین کا تحفظ کی گارنٹی نہیں دے رہاہے آئیں مراد سعید صاحب ابھی آپ ریزولیشن لائیں کہ جس کسی نے بھی آرٹیکل 6کی خلاف ورزی کی ہے اس کو سر عام پھانسی دی جائے چاہیے سویلین ہو چاہیے ملٹری یا جوڈیشلی ہو اس بل کو میں سپورٹ کروں گا یا یہ کہہ دیں اظہاررائے پر پابندی ہے اسی طرح کی قرارداد لانے سے آپ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ جلسے اور جلوسوں میں کسی کو بات کرنے کی اجازت نہیں اوریہ باتیں مارشل لاء میں ہوتی ہے اور ملک میں اب بھی مارشل لاء نافذ ہے کہتے ہیں آزاد بلوچستان کے نعرے جلسے میں لگائے گئے ہیں آزاد بلوچستان کی باتیں کون کرتا ہے میں نام بتا تا ہوں نواب خیر بخش مری کے بیٹے حیربیار مری جو اس پارلیمنٹ کا حصہ رہا ہے،نواب اکبر خان بگٹی کے نواسے براہمداغ بگٹی جو اس ملک کے گورنر اور وزیراعلیٰ بلوچستان بھی رہے ہیں اور ڈاکٹر اللہ نظر کو بھی وہاں تک پہنچا دیا ہے انہوں نے کہا کہ جب حیربیار مری پر لندن میں یوکے کی عدالتوں میں کیسز چل رہے تھے دہشتگردی بلوچستان کے آزادی کا اور ان کیلئے جو گواہی دی تھی کہ وہ بے گناہ ہے وہ موجودہ وزیراعظم عمران خان تھے وہ اسٹیٹمنٹ میں ایوان میں پیش کرتا ہوں انہوں نے جنوری 2009کو خبر آئی تھی وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ آج بلوچستان کی آزادی کی بات کرتے ہیں یہ ان مظالم کا نتیجہ ہے اگر میں ان کی جگہ ہوتا میں بھی یہی بات کرتا جب ملک کا وزیراعظم اس وقت اس طرح کی بات کرسکتا ہے تو شاہ اویس نورانی کی زبان پھسل گئی اگر ان کو سزا دی جاتی ہے تو وزیر اعظم کیلئے بھی تھوڑی سی سزا بنتی ہے کیا ایک خط کے ذریعے آئین کوتبدیل کرسکتے ہیں جزائر ساحل ان صوبوں کی ملکیت ہے ایک انچ بھی چاہیے بلوچستان اور سندھ کی جزائر دور مارشل لاء میں نہ ہی ان کو سلینڈر کیا ہے اور نہ ہی جمہوری حکومتوں میں کیا جائے گا یہ جزائر ہزاروں سال سے وہاں پر آباد ماہی گیروں اور اس مٹی سے محبت کرنے والے لوگوں کی ہی نہ کہ جزائر قبضہ کئے جارہے ہیں لوگوں کی زمینوں کو بلوچستان کی حکومت کی توسط سے وفاق کو دیئے جارہے ہیں گوادر کو ترقی کی چال چاند لگائیں گے وہاں کے لوگوں کی زرعی زمین جو ہزاروں سال سے آباد تھی جب عمان کی حکومت تھی انہوں نے ان کی زمینوں کو سرکاری ڈکلیئر نہیں کیا اور جب سی پیک آیا ہمیں پتہ نہیں تھا کہ ہم بے گھر ہوجائینگے کہتے ہیں کہ کیپٹن(ر)صفدر نے محمد علی جناح کے مزار کی بے حرمتی کی ہے ہم نے ہمیشہ کہا ہے کہ یہ غلط ہوا ہے کیا 70سالوں میں بابائے قوم کی خوابوں کی بے حرمتی نہیں کی گئی ہے کیا ان 70سالوں میں بانی پاکستان کی مستقبل کے خواب دیکھتے اس ملک کیلئے کیااس نے مارشل لاء کے خواب دیکھے تھے کیا اس نے لوگوں کی زمینوں کو وفاق کا قبضہ دیکھے تھے کیا اس نے یہاں پر پاپا جونز کے پیزا دیکھے تھے ان کا جو خواب تھا ان کی تعمیر یہ ہونی چاہیے تھی کہ تمام صوبوں کو برابرکے حقوق دیئے جائے چاہیے اس زمانے میں ایسٹ پاکستان تھا پھر بنگلہ دیش بنایا گیا میرے خیال میں بانی پاکستان نے یہ خواب نہیں دیکھا تھا کہ بلوچستان میں پانچواں آپریشن کیا جائے بانی پاکستان نے کبھی یہ خواب نہیں دیکھا ہوگا کہ بلوچستان میں ہزاروں کی تعداد میں مسنگ پرسنز دیئے جائینگے اس نے کبھی یہ خواب نہیں دیکھا ہوگا کہ بلوچستان کے لخت جگروں کی مسخ شدہ لاشیں ان کے ماں باپ کے سامنے پھینک دیئے جائینگے اور یہ خواب بھی کبھی نہیں دیکھا کہ بلوچستان میں اجتماعی قبریں دی جائیں گی ان خوابوں پر پانی کس نے پھیرا انہوں نے کہا کہ لاپتہ افراد کی لسٹ علی محمد خان کو دی تھی آپ نے کیا کیا آپ کرتے تو میں اپوزیشن کی بجائے حکومت کے ساتھ بیٹھتا۔


