جنوبی و شمالی کی اصطلاح بلوچستان کو تقسیم کرنے کی سازشوں کا آٖغاز ہے، بی ایس او

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے جاری کردہ بیان میں وفاقی و صوبائی حکومت کے جانب سے جنوبی و شمالی بلوچستان کی اصطلاحات کو بلوچستان کے تقسیم کی سازشوں کا آغاز قرار دیتے ہوئے کہا یے کہ پہلے زبانوں قبائل نسلی تعصب و نفرت اقر سیاسی طریقے سے بلوچستان کے عوام کو تقسیم کرنے کی سازش کی گئی اب اس سلسلے کو نئی اصطلاحتی شکل دی گئی ہے تاکہ برائے نام پیکجز کے نام پر نسل کشی وسائل کی لوٹ مار و تقسیم درتقسیم کو دوام دی جاسکے بلوچ قوم بلوچستان کے پوری سرزمین ایک ایک انچ کا ایک ساتھ وراث یے بلوچستان کے نام کے ساتھ کسی لائحقے و سابقے کو کسی صورت برداشت نہیں کی جاسکتی انہوں نے مزید کہا یے کہ بلوچستان کو ایک دفعہ پھر پیکج دینے کی بات کی جارہی ہے پہلے بھی آغاز بلوچستان حقوق پیکج کے نام پر ہزاروں نوجوانوں کو شہید و لاپتہ کیا گیا اب موجودہ پیکج کے دعوے صرف ظلم و جبر کو تیز کرنے اور انسانی حقوق کے پامالیوں کو مزید تیز کرنے کے لئے صرف واویلا ہے جبکہ زمینی حقائق ہے کہ بلوچستان میں 27 سو کے زائد اسکولز اساتذہ نہ ہونے کی وجہ سے بند ہے 70 فیصد اسکولز میں بنیادی ضروریات تک نہیں صرف برائے نام کاغذوں پر چل رہے کالجز صرف امتحانات لینے کے لئے بنائے گئے ہے لیکن سیکھنے سکھانے پر مکمل پابندی ہے اپنی مدد آپ کے سرکلنگ پر بھی پابندی ہے تاکہ طلباء و طالبات خود تعلیمی ماحول پیدا کرسکے نام نہاد پیکجز کے اعلانات کو بلوچ قوم مسترد کرتی ہے صرف بلوچ وسائل کی لوٹ مار و کرپشن بند کی جائے بلوچ قوم کو برابری کے شہری حقوق دیئے جائے بلوچ قوم کی جدوجہد خیرات نہیں بلکہ برابر قومی حقوق کے لئے ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں