حزب المجاہدین کا اعلیٰ کمانڈر سیف اللہ میر سری نگر میں مارا گیا

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی پولیس کے مطابق وادی میں مسلح علیحدگی پسندوں کے سب سے بڑے گروپ حزب المجاہدین کا اعلیٰ کمانڈر سیف اللہ میر بھارتی دستوں کے ساتھ سری نگر میں ہونے والی ایک بڑی جھڑپ میں مارا گیا۔بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق سری نگر میں یہ جھڑپ آج اتوار یکم نومبر کی صبح ہوئی۔ پولیس کے انسپکٹر جنرل وجے کمار نے صحافیوں کو بتایا کہ حزب المجاہدین کا کمانڈر سیف اللہ میر کشمیر میں اس عسکریت پسند گروپ کی مسلح کارروائیوں کا نگران تھا۔
آئی جی پولیس وجے کمار نے کہا کہ سیف اللہ میر کی موت وادی میں مسلح علیحدگی پسندی کے خلاف جنگ میں بھارتی سکیورٹی دستوں کی ایک اہم کامیابی ہے۔ریاستی پولیس کے سربراہ نے بتایا کہ سیف اللہ میر کے سری نگر کے ایک مضافاتی علاقے میں موجود ہونے کی خفیہ اطلاع ملنے پر جب سکیورٹی دستوں نے اسے گرفتار کرنا چاہا، تو اطراف کے مابین فائرنگ کا تبادلہ شروع ہو گیا۔سیف اللہ میر کی ہلاکت کے بعد سری نگر کے اس مضافاتی علاقے میں بھارت مخالف احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے، جس دوران بھارتی دستوں پر پتھراؤ بھی کیا گیا، وجے کمار نے بتایا، ”اس دوران پیرا ملٹری دستوں کی فائرنگ میں حزب المجاہدین کا اہم کمانڈر سیف اللہ میر مارا گیا، جب کہ اس کے ایک ساتھی کو زندہ گرفتار کر لیا گیا۔
حزب المجاہدین کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ گزشتہ کئی برسوں سے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں علیحدگی پسندی کی مسلح تحریک کی قیادت یہی عسکریت پسند تنظیم کر رہی ہے۔ سیف اللہ میر کی آج اتوار کے روز سری نگر میں ہلاکت کے بارے میں کشمیری علیحدگی پسندوں کی طرف سے فوری طور پر کچھ نہیں کہا گیا۔
بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں مشتعل مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔سری نگر سے آمدہ رپورٹوں کے مطابق سیف اللہ میر کی ہلاکت کے فوری بعد سری نگر کے اسی مضافاتی علاقے میں بھارت مخالف احتجاجی مظاہرے بھی شروع ہو گئے۔ اس دوران مظاہرین نے، جن میں اکثریت نوجوانوں کی تھی، بھارتی سکیورٹی دستوں پر پتھراؤ کیا۔ اس کے جواب میں نیم فوجی دستوں نے مظاہرین پر پیلٹ گنوں سے فائرنگ کی اور آنسو گیس کے شیل فائر کیے۔
نیوز ایجنسی اے پی نے لکھا ہے کہ یہ مظاہرین ‘گو انڈیا گو‘ اور ‘ہم چاہیں آزادی‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔ بھارتی پیرا ملٹری فورس اور ان کشمیری مظاہرین کے مابین جھڑپوں میں کسی کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔بھارتی حکام کے مطابق آج مارا جانے والا 31 سالہ علیحدگی پسند کمانڈر سیف اللہ میر 2014ء میں حزب المجاہدین کی صفوں میں شامل ہوا تھا۔ایک سال قبل بھارتی حکومت نے بھارتی زیر انتظام کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرکے وادی میں مکمل لاک ڈاؤن نافذ کر دیا تھا۔ کشمیریوں کے پاس یہ خصوصی حیثیت صدراتی حکم کے تحت گزشتہ ستر سالوں سے تھی۔ بھارتی حکومت نے اس فیصلے کے فوری بعد کشمیری رہنماؤں کو ان کے گھروں میں نظر بند کر دیا ور بڑی تعداد میں گرفتاریاں بھی کی گئیں۔وہ زیادہ تر کشمیر کے جنوبی اضلاع پلوامہ اور شوپیاں میں سرگرم رہتا تھا۔ اس نے بیالوجی کی تعلیم حاصل کر رکھی تھی۔ حزب المجاہدین کی صفوں میں شمولیت سے قبل وہ ایک ٹیکنیشن تھا۔ میر تقریباﹰ چھ سال تک حزب المجاہدین کی مسلح کارروائیوں میں بہت سرگرم رہا تھا۔پھر اسی سال مئی میں جب حزب المجاہدین کا آپریشنز کمانڈر ریاض نائیکو بھارتی دستوں کے ہاتھوں مارا گیا تھا، تو سیف اللہ میر نے ریاض نائیکو کی جگہ لے لی تھی۔بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں علیحدگی پسندی کی موجودہ تحریک نے 1989ء میں زور پکڑا تھا۔ تب سے اب تک وہاں بھارتی سکیورٹی دستوں کی کارروائیوں اور عسکریت پسندوں کے حملوں میں مجموعی طور پر بیسیوں ہزار عام شہری، مسلح علیحدگی پسند اور بھارتی فوجی اور سپاہی مارے جا چکے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں