ترقیاتی عمل کا تسلسل پارٹی اور اتحادیوں کا مشن ہے، بشریٰ رند
کوئٹہ:بلوچستان عوامی پارٹی عوام کی تخلیق اور عوامی سوچ کی تکمیل کا ذریعہ ہے بلا امتیاز ترقیاتی عمل کی تکمیل حکومت کا مشن اور پرامن خوشحال بلوچستان ہمارا وژن ہے یہ بات صوبائی وزیر اطاعات و چیئرپرسن کیو ڈی اے محترمہ بشریٰ رند نے بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی ڈویژن اور ضلعی عہدیداران کیاجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ ادوار میں کرپشن اقرباپروری اور تعصب پسندانہ سیاست کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ عوامی وسال کی لوٹ کھسوٹ اور زاتی مفادات کے حصول توجہ مذکور رکھی گی اور عوام کو معاشی معاشرتی تنزیلی کی دلدل میں دھکیلا گیا جسکی وجہ سے بلوچستان میں بیروزگاری بدامنی کا راج رہا۔اج بلوچستان عوامی پارٹی کی حکومت وزیراعلیٰ جام کمال کی قیادت میں اپنے اتحادیوں کے تعاون سے عوام کی خوشحالی اور بلوچستان کی دامی ترقی کے لیے برسرے پیکار ہے بلوجستان عوامی پارٹی سیاسی وانتظامی فہم فراست اور ترقی پسندانہ سوچ کی حامل قیادت کے ساتھ منظم سیاسی جماعت ہے جسکا مقصد عوام کی خوشحالی بلوچستان کی دامی ترقی اور صوبے کے وسال کو محفوظ رکھتے ھوئے ساحل ووسال پر عوامی حق حاکمیت کو یقینی بناناہے بشریٰ رند نے مزید کہا کہ اج جام کمال کی قیادت میں صوبے بھر میں بلا امتیاز عوامی خواہشات کے مطابق ترقیاتی اسکیموں پر کام تکمیل کے اخری مراحل میں ہے عوام کے بہتر اورمفت علاج کے لیے انڈونمنٹ فنڈ کا اجرا ہسپتالوں کی حالت بہتر بنانا کینسر ہسپتال کی تعمیر کاغاز عوامی خدمت کے تاریخی اقدامات ہیں سی پیک میں نئے صنعتی زون کاقیام فیڈرل پی ایس ڈی پی میں کوئٹہ کراچی،کوئٹہ ژوب کوئٹہ چمن روڈ کی منظوری اور کام کے پہلے مرحلے کا آغاز بی اے پی کی حکومت اور جام کمال کی سیاسی فہم وفراست اور گڈ گورنس کی بے نظیر مثالیں ہیں۔بلوچستان میں ترقیاتی عمل کے تسلسل کو برقرار رکھنا بلوچستان عوامی پارٹی اور اسکے اتحادیوں کا مشن ہے بی اے پی کی قیادت عملی اقدامات پر یقین رکھتی ہے اور خوشحال وپرامن بلوچستان ہمارا وژن ہے پارٹی اجلاس میں سیکرٹری جنرل منظور کاکڑ نے خصوصی شرکت اور دیگر عہدیدارن میں ایڈیشنل سیکرٹری جنرل میر اسماعیل لہڑی سیکریٹری ارگنازنگ ملک خدابخش لانگو سردار نوراحمد بنگلزئی،پرنس اغا عمر احمد زئی طاہر محمود حاجی ولی نورزی میرعثمان پرکانی لالہ روز جان حافظ اسلم کاکڑ سیکرٹری اطلاعات چوہدری شبیر،وکلا ونگ کے صدر امیر محمد ترین لیاقت ہزارہ اور دیگر عہدیداران شریک ہوئے۔


