پاکستانی معاشرے میں خواتین پر شادی کے لیے دباؤ رہتا ہے، مدیحہ امام
حال ہی میں فلم ساز مہرین جبار کی رومانٹک کامیڈی ویب سیریز ’ایک جھوٹی سی لو اسٹوری‘ میں جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹ بنا کر سچا پیار تلاش کرنے کی کوشش کرنے والی اداکارہ مدیحہ امام کا کہنا ہے کہ پاکستانی معاشرے میں خواتین پر شادی کے لیے دباؤ رہتا ہے۔
مدیحہ امام نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے ایشین نیٹ ورک سے فیس بک پر بات کرتے ہوئے پاکستانی معاشرے میں خواتین کی شادیوں اور ان کی ذاتی زندگی کو کنٹرول کرنے کے رجحانات پر کھل کر بات کی۔
مدیحہ امام کا کہنا تھا کہ پاکستانی معاشرے میں لڑکی کی عمر 29 سال تک ہوجاتی ہے تو ان کی جانب سے شادی نہ کیے جانے پر لوگ تعجب کا اظہار کرتے ہیں اور اس سے قبل بار بار اس سے شادی سے متعلق پوچھا جاتا ہے۔
اداکارہ کا کہنا تھا کہ لڑکیوں سے شادی سے متعلق بار بار سوال کرنے کا تعلق امیر یا غریب طبقے سے نہیں اور نہ ہی اس کا تعلق تعلیم اور جہالت سے ہے بلکہ یہ معاملہ ہمارے سماج کا حصہ بن چکا ہے اور یہ ہمارے دادا اور دادی کے زمانے سے چلا آ رہا ہے۔
مدیحہ امام نے مزید کہا کہ پاکستانی معاشرے میں لڑکیوں کے جوان ہونے کے بعد ہی ان سے شادی سے متعلق سوال کیا جاتا ہے اور بعض مرتبہ تو لڑکیوں کو یہ بھی کہہ دیا جاتا ہے کہ ان کی عمر 29 سال ہوگئی اور انہوں نے تاحال شادی کیوں نہیں کی؟
اداکارہ نے خواتین پر شادی کے لیے دباؤ کو پاکستانی سماج کی حقیقت قرار دیا اور کہا کہ ہم اس سوچ اور رویے کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے، کیوں کہ ہمارے بڑوں کو لگتا ہے کہ یہی طریقہ درست ہے۔


