مے نویس
تحریر: جمشید حسنی
فارسی میں کہتے ہیں گر تو خواہی خوش نویس مے نویس ومے نویس ومے نویس۔میں اپنی تحریر کے معیار سے کچھ مطمئن نہیں اگر آپ اسے پڑھتے ہیں تو اس میں ہمارا کمال نہیں آپ کی ذرہ نوازی ہے۔کیا لکھا جائے الیکٹرانک میڈیا کا دورہے تحریر کے ساتھ ساتھ باتوں کے خربوزے بھی بکتے ہیں تنزوطر ار بال کی کھال اتار نے والے جوسامری کے سونے بچھڑے کے گلے سے بھی آواز نکال سکتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ اتنی بحث کے بعد بھی مسائل حل کیوں نہیں ہوتے۔بات سنت کی ہے کہ مولوی نے کہا اگر کوئی نماز پڑھے اسے ایک روپیہ فی نماز ملے گا۔ایک شخص آیامولوی صاحب دس روپیہ دیں میں دس نمازیں پڑھی ہیں مولوی نے کہا فائدہ تو تمہارا ہے اس نے کہا مولوی صاحب میں نے ایک نماز وضو کے ساتھ نہیں پڑھی ہمارے گفتار کے غازی وہ لوگ ہیں جو عملی زندگی گزار چکے عملی زندگی کا ان سے نہ پوچھیں۔
کیا ہورہا ہے عوامی نمائندوں کی دولت کا حساب ہے اسلم رئیسانی فرماتے ہیں ان کے اثاثے 21کروڑ ہیں یار محمد رند کہتے ہیں ان کے 15ہزار ایکڑ اراضی ہے۔مولانا لطف الرحمن کے5کروڑ 27لاکھ روپیہ ہیں۔پرویز الہیٰ 32کروڑ 8حمزہ41کروڑ عبدالعلیم ڈیڑھ ارب روپیہ فردوس شمیم نقوی33کروڑ مراد علی شاہ 23کروڑ پرویز خٹک5کروڑ۔کس کس کی دولت بتلائیں محمدعلی جناح،لیاقت علی خان،سردار عبدالرب نشتر،مولانا مودودی،مولانا عبدالستار نیازی،غفار خان،نوابزادہ نصر اللہ خان کے پاس کتنی دولت تھی۔نوابزادہ نصر اللہ آخر وقت تک لاہور میں کرایہ کے مکان میں رہے تھے۔
ان سطور کی اشاعت تک عمران خان کوئٹہ کا ایک روزہ دورہ کرچکے ہوں گے۔بلوچستان کو کیا ملے گا ہمارے لیڈر کہتے ہیں ہمیں کچھ نہ کچھ کہو کچھ نہیں مانگتے جو دو قبول ہے۔لاہور کے لئے پچاس الیکٹرک بسیں 13ارب55کروڑ روپیہ سے خریدی جائیں گی۔ایک بس پانچ کروڑ پچاس لاکھ سات کروڑ سے سات چار جنگ سینٹر بنیں گے۔
سالانہ23کروڑ اخراجات ہوں گے۔ایم پی ایز کو ساڑھے سترہ ارب کا پیکیج ملے گا اراکین کو 60کروڑ سے زائد ملے گا۔بس ایک اچھی خبر ہے آئندہ پانچ سالوں میں ماں بچے کی صحت غذائیت پر1350ارب روپیہ خرچ ہوں گے۔بشرطیکہ حق حقدار رسید ہو دوسری طرف بجلی والے عوام کی جیب سے مزید82ارب 69کروڑ روپیہ نکالنا چاہتے ہیں۔
گردشی قرضہ ہیں ماہوار40سے 50ارب روپیہ اضافہ ہورہا ہے۔ریلوے کا خسارہ دو ارب روپیہ سے زیادہ ہے۔پی آئی اے کو بھول جائیں ملکی قرضہ جی ڈی پی مجموعی قومی پیداوار کا 98فیصد ہے۔یوں سمجھیں روپیہ میں آپ کو دو پلے بجتے ہیں۔
ہانگ کانگ میں 19قانون سازوں نے استعفیٰ دے دیا ہے فسادات ہیں ایتھوپیا میں خانہ جنگی ہے۔TIGARAYکا علاقہ میدان جنگ ہے لسانی تفریق ہے۔موز مبیق میں جنگجوؤں نے چالیس آدمیوں کو قتل کردیا ہے۔افغان معاملہ نئے امریکی صدر کی آمد تک جمہودکا شکار رہے گا۔امریکی صدر ٹرمپ شکست ماننے کو تیار نہیں۔صدر او باما نے اپنی یادداشتوں میں لکھا ہے صدر بش نے انہیں یقین دلایا کہ انتقال اقتدار میں کوئی رخنہ بدمزدگی نہیں ہوگی،وہ پہلے کالے صدر تھے انہوں نے روایت برقرار رکھی اور ٹرمپ کو اقتدار ہنسی خوشی دیا۔ٹرمپ کیا کرپائیں گے۔لگتا نہیں کہ نتائج بدل جائیں گے۔
ملک میں کوئی خاص بات نہیں کرونا وائرس بڑھ رہا ہے سکولوں کی چھٹیاں جلد ی ہونے کی خبر ہے کرونا ویکسین تاحال مارکیٹ میں نہیں آئی امریکی FDAفیڈرل ڈرگ اتھارٹی کی منظوری کا انتظار ہے پھر یہ بھی نہیں معلوم کہ قیمت کیا ہوگی ایک امریکی ایک جرمن ایک روسی کمپنی دریافت کی دعویدار ہیں۔
ملک میں بیروزگاری ہے مہنگائی ہے عمران خان کے حلوہ کے گڑ والے جہانگیر ترین واپس آگئے ہیں شوگر کمیشن کا معاملہ عدالتوں میں یوٹیلیٹی سٹورز پر چینی آٹا نایاب کوئٹہ کا نان مہنگائی سے لاغر ہو کر چپاتی بن گیا ہے جلد پاپڑ بن جائے گا۔غریب آدمی کے لئے تو روٹی کے ساتھ پیاز کھانا بھی عیاشی ہے۔


