آئی جی سندھ کا اغواء : سپریم کورٹ رجسٹرار آفس کے اعتراض کیخلاف ان چیمبر اپیل دائر

جسٹرار آفس کا 30 اکتوبر کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے: درخواست میں استدعا
انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس سندھ کے اغواء کے معاملے پر سپریم کورٹ رجسٹرار آفس کے اعتراضات کے خلاف ان چیمبر اپیل دائر کر دی گئی۔
آئی جی سندھ مشتاق مہر کے اغواء سے متعلق معاملے پر آئی اے رحمان اور دیگر فریقین نے درخواست دائر کی تھی جس پر سپریم کورٹ رجسٹرارآفس نے اعتراض کیا تھا۔
اعتراض میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار نے متعلقہ فورم سے رجوع نہیں کیا، نہ ہی درخواست میں بتایا گیا کہ کون سا عوامی مفاد متاثر ہوا ہے۔
‘کراچی واقعے’ میں ملوث رینجرز اور ISI کے افسران کو ذمہ داریوں سے ہٹا دیا گیا
رجسٹرار آفس کا کہنا ہے کہ درخواست کی زبان ناقابل فہم ہے اور درخواست میں ناقابل فہم استدعا کی گئی ہے۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ رجسٹرار آفس کا 30 اکتوبر کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، رجسٹرار آفس کے اعتراضات ختم کرکے کھلی عدالت میں سماعت کی جائے۔
مزار قائد پر نعرے بازی کے سلسلے میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما کیپٹن (ر) صفدر کو 19 اکتوبر کو کراچی کے نجی ہوٹل سے گرفتار کیا گیا تھا اور ان کی گرفتاری کے لیے آئی جی سندھ پر دباؤ ڈالے جانے کی خبریں موصول ہوئی تھیں۔
واقعے کے بعد آئی جی سندھ سمیت صوبے کے تمام اعلیٰ افسران نے احتجاجاً چھٹیوں پر جانے کا فیصلہ کیا تھا جب کہ بلاول بھٹو زرداری نے بھی اس حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا تھا اور آرمی چیف سے نوٹس لینے کی اپیل کی تھی۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کراچی واقعے پر بلاول بھٹو زرداری کو ٹیلی فون کیا تھا اور تحقیقات کی یقین دہانی کرائی تھی۔
بعدازاں انکوائری کے بعد پاک فوج نے سندھ رینجرز اور انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے متعلقہ افسران کو ذمہ داریوں سے ہٹادیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں