تمپ، ملیریا اور ٹائیفائیڈ نے پنجے گاڑدیئے،ہرگھرمتاثر

تمپ(نامہ نگار)موسمی بخار،ٹائیفائیڈ اور ملیریا نے تمپ میں پنجے گاڑ دئیے،ذرائع کے اطلاع کے مطابق ہر گھر سے ایک ایک مریض ریکارڈ،پرائیویٹ اسپتالوں میں رش،مریضوں کی تل دھرنے کی جگہ نہیں،تمپ میں ڈاکٹروں کے کمی کی سبب مریض تربت اور کراچی علاج کیلئے جانے پر مجبور ہیں،موسم تبدیل ہوتے ہی مختلف بیماریاں ملیریا،ٹائیفائیڈ، گلہ درد،نزلہ زکام،کھانسی اور ہائی ٹمپریچر عام ہوگئی ہیں،تحصیل تمپ میں روز اول سے لیکر سہولیات کا فقدان ہے، عوام کو منتخب نمائندوں نے لاوارث چھوڑ دیا،اب تمپ کے عوام مختلف بیماریوں کے شکار ہو رہے ہیں ایک طرف مہنگائی نے غریب عوام کی کمرتوڑ دی ہے مگر دوسری طرف بیماریوں نے عوام کو مزید پریشانی میں مبتلا کردیا ہے،تحصیل تمپ کی گردونواح کے علاقوں کی کئی قابل ڈاکٹرز آج بڑے شہروں پر پوسٹنگ کو ترجیح دیتے ہیں مگر یہی ڈاکٹر اپنے جنم بھومی تمپ کے عوام کو بھول گئے ہیں اگر یہ مذکورہ ڈاکٹرز ہفتے میں ایک،دو بار تمپ میں آکر اپنے عوام کا علاج کرتے تو کافی حد تک بیماریاں اپنے گھر میں ختم ہوتے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں