بی آر سی تربت کے مسائل حل کئے جائیں، آل پارٹیز کیچ

تربت (نمائندہ انتخاب)آل پارٹیز کیچ کا اجلاس منگل کے روز کنوینر غلام یاسین بلوچ کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں تمام پارٹیوں کے رہنماؤں، کیچ سول سوسائٹی، انجمن تاجران اورپریس کلب کے نمائندوں نے شرکت کی،اجلاس میں بی آر سی تربت کے ایک وفد نے شرکت کر کے کالج کے مسائل، اساتذہ کا احتجاج، 75 فیصد الاؤنس اور معطل کیے گئے اساتذہ کے مسئلہ سے اجلاس کو آگاہ کرتے ہوئے سیاسی جماعتوں کو ان کے حل میں اپنا کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا، وفد نے بتایا کہ بی آر سی تربت میں اساتذہ 75 فیصد الاؤنس کی بحالی کے لیے کافی عرصے سے احتجاج کررہے ہیں، احتجاج کے پہلے مرحلے میں سکینڈ ٹائم ڈیوٹی کا بائیکاٹ کیا گیا کیونکہ 75 فیصد الاؤنس اسی مد میں دیا جارہا تھا جسے فریز کیا گیا مگر اساتذہ سے سکینڈ ٹائم ڈیوٹی بدستور لیا جارہا تھاانہوں نے کہا کہ قبل ازیں بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں اس مسلے پر اہم پیش رفت ہوئی اور الاؤنس بحالی کی سفارش سامنے لائی گئی لیکن اس کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا،وفد نے کہا کہ حکومت کی طرف سے مسائل حل کرنے کے بجائے اساتذہ کے خلاف نت نئی سازشیں کی جارہی ہیں،بی آر سی تربت اور چند دیگر کالجز کے کچھ اساتذہ کو حقوق مانگنے کی پاداش میں بلا وجہ معطل کردیا گیا جو تشویشناک ہے، آل پارٹیز کیچ کے رہنماؤں نے کالج مسائل پر تشویش کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ بی آرسی تربت کاشمار بلوچستان کے بہترین اقامتی تعلیمی اداروں میں ہوتاتھامگرکالج کے موجودہ پرنسپل کے آنے کے بعد سے کالج میں مسائل پیدا ہورہے ہیں، ان میں مسائل حل کرنے اور کالج کو بہتر اندازمیں چلانے کی صلاحیت مفقود ہیں اس وجہ سے کالج روز بروز زوال کی جانب گامزن ہے، اساتذہ کے احتجاج کو سبوتاژ کرنے کے لیے کرونا وائرس کا شوشہ چھوڑ کر بی آر سی تربت کو بند کردیا گیا حالانکہ ابھی تک کوئی کالج، بی آر سیز اور نہ کوئی اسکول بند ہوا ہے صرف بی آر سی تربت گزشتہ10دنوں سے بند ہے، انہوں نے بی آر سی تربت کے مسائل اور اساتذہ کو درپیش مشکلات پر گہری تشویش ظاہر کی اور ان سے تعاون کی یقین دہانی کرائی، آل پارٹیز کیچ کے رہنماؤں نے کہا کہ بی آر سی کا مسئلہ بہت سنجیدہ ہے، ایک نااہل اورمنتقم مزاج پرنسپل کے ہاتھوں کالج کی تباہی برداشت نہیں کریں گے، آل پارٹیز کیچ اس سلسلے میں لائحہ عمل طے کرے گی، کالج میں نہ صرف اسٹاف کومسائل کاسامنا ہے بلکہ طلباء بھی گوناگوں مسائل کے شکارہیں طلباء نے گزشتہ دنوں اس پر احتجاج بھی کیا، اسٹاف اور طلباء کے احتجاج کے بعد مسائل کے حل پرتوجہ دینے کے بجائے کالج کوہی بندکردیاگیا انہوں نے کہاکہ اس سلسلے میں حکومتی غیرسنجیدگی قابل مذمت ہے اور اتنے بڑے ادارے کو کالج پرنسپل کے رحم وکرم پرچھوڑ کر تباہی کی جانب دھکیلا جارہاہے اس معاملے میں سیاسی جماعتیں حکومتی نمائندوں سے ملاقات کے علاوہ ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے کیونکہ بی آر سی تربت ایک اہم قومی اثاثہ ہے اسے جان بوجھ کر تباہی کی جانب لے جانے نہیں دیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں