ریاست کوادب اورادیب کی سرپرستی کرنی چاہیے،ڈاکٹرمالک بلوچ

کوئٹہ:ریاست کوادب اورادیب کی سرپرستی کرنی چاہیے تاکہ معاشرے میں اعلیٰ اخلاقی اورتہذیبی قدریں فروغ پاسکیں اہل علم وادب اورشعراء معاشرے کاسرمایہ ہیں اورجوریاستیں ادب کی سرپرستی کرتی ہیں وہ تاریخ میں اپناایک منفردمقام بنالیتی ہیں ان خیالات کااظہارسابق وزیراعلیٰ بلوچستان اورادیب ڈاکٹرعبدالمالک نے معروف شاعراورمحکمہ خارجہ پاکستان کے سینئرافیسرنجم الثاقب کی کتاب”سفردوسری طرف“کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کیااپنوں نے کہاکہ کتاب سے محبت اورادیب کی پذیرائی اعلیٰ معاشرتی اقدارکاعکاس ہے انہوں نے نجم الثاقب کی شاعری کواپنے عہداوراپنی روایت سے جڑی ہوئی شاعری قراردیااورانہیں کتاب کی اشاعت پرمبارکبادی دی۔ڈاکٹراحمدبیگ نے نجم الثاقب کے فن اوشخصیت پرایک نہایت جامع اورپرمغزمقالہ پیش کیااوراسی کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں جب نجم الثاقب کوئٹہ میں قیام پذیرتھے ان دنوں کی یادیں تازہ کیں اوران کی شاعری پرسیرحاصل گفتگوکی نجم الثاقب کے ان دنوں کے دوستوں ڈاکٹربیرم غوری اورسرورجاویدنے بھی اپنے مضامین میں شاعر کوخراج تحسین پیش کیااوردوست کی حیثیت سے ان کے ساتھ اپنے تعلق اوراس دورکی ادبی فضاکے بارے میں بات کی ڈاکٹرعصمت درانی نے نجم الثاقب کی شاعری کے ان اوصاف کوسراہاجوان کے بعدکے لکھاریوں کے لئے لائق تقلید ہیں پروفیسرمحمدعبداللہ نے اپنے اورنجم الثاقب کے ذاتی تعلق اورنجم الثاقب کی فنی صلاحیتوں پربہت عمدہ بات کی اوران سے اپنے باہمی تعلق کواجاگرکیا۔وحیدزہیرنے نجم الثاقب کی شخصیت اور شاعری پرنہایت جامع اورعمدہ مقالہ لکھااوردورحاضرکے ادبی،ثقافتی تہذیبی الظاہرپرعمدہ طنزکے ذریعہ صورتحال کوبہتربنانے کے لئے تجاویزبھی پیش کیں نجم الثاقب حال میں محکمہ ء خارجہ سے ریٹائرہوئے ہیں وہ بہت سے ملکوں میں پاکستان کے سفیرکے طورپرخدمات انجام دے چکے ہیں ان کی آخری تعنیاتی برازیل میں پاکستان کے سفیرکی حیثیت سے رہی وہ فارن سروس اکیڈیمی کے ڈی جی اورمحکمہ ء خارجہ کے اسپیشل سیکریٹری رہے کوئٹہ سے اپنے تعلق کووہ ایک لافانی محبت قراردیتے ہیں نجم الثاقب نے اپنی تقرپرمیں کہاکہ دنیاکے پانچ براعظموں میں سفارتی خدمات انجام دیں لیکن جومحبت اورخلوص کوئٹہ کاطرہ امتیازہے وہ دنیامیں اورکہیں نہیں ہے انہوں نے کہاکہ کوئٹہ سے محبت ان کے دل میں ہمیشہ ایک دائمی محبت کے طورپرروشن رہے گی اکادمی ادبیات کوئٹہ کے زیراہتمام منعقدہ اس تقریب میں کوئٹہ کے باذوق اہل علم وادب نے شرکت کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں