باڑ لگانا اہل گوادر سے جینے کا حق چھیننے کے مترادف ہے،بلوچ عوامی موومنٹ

لسبیلہ: بلوچ عوامی موومنٹ کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات و نشریات رئیس نواز علی برفت ایڈووکیٹ نے کہا کہ گوادر شہر کے گرد باڑ لگانا اہل گوادر سے جینے کا حق چھیننے کے مترادف ہے جو کسی صورت قبول نہیں ہے کسی کو گوادر پر قبضہ کی اجازت نہیں دیں گے اور گوادر شہر کے گردباڑ لگانے والے عناصر کسی صورت بلوچستان اور بلوچ قوم کے خیر خواہ نہیں ہوسکتے جو محض سامراجی مفادات کے دفاع کی غرض سے گوادر کو مقامی آبادی سے جدا کرنے کے درپے ہیں۔ گوادر ہمارا اٹوٹ انگ ہے جس کو ہم سے کسی صورت جدا نہیں کیا جاسکتا۔ ان خیالات کا اظہار وہ بلوچ عوامی موومنٹ کے سابق مرکزی نائب صدر ورکن مرکزی آرگنائزنگ کمیٹی ڈاکٹر محمد یونس میروانی سے ٹیلیفونک گفتگو کے دوران کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ گوادر شہر کے گرد باڑ لگانے کا فیصلہ کرنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ جو بلوچ قوم کو ایک کمزور قوم تصور کیے ہوئے ہیں جو ان کی بھول اور کمزور سوچ کی عکاسی ہے واضح رہے کہ بلوچ قوم کے اکابرین نے ہمیشہ اپنے ننگ اور خطہ کے لیے عملی جنگ کی ہے جو ہمیشہ سے ناقابل تسخیر رہے ہیں۔ بلوچ عوامی موومنٹ جعلی حکمرانوں اور گوادر پر قبضہ کرنے والے غیر جمہوری عناصر کی جانب سے گوادر شہر کے گرد باڑ لگانے کے فیصلہ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے باقاعدہ احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کرتے ہیں۔ بلوچ قوم کو چاہیے کہ وہ اپنے ساحل ووسائل کے دفاع کے لیے بلوچ عوامی موومنٹ کا ساتھ دیں اور جعلی حکمرانوں کے بدنیتی پرمبنی فیصلہ جات کو عوامی احتجاجوں کی شکل میں مسترد کرنے کے لیے BAM کے پلیٹ فارم پر باہم متحد ہوجائیں کیونکہ ملک بھر میں BAM ہی بلوچ قوم کی نمائندہ سیاسی و پارلیمانی جماعت ہے۔ جو خالصتاً بلوچ قوم پرستانہ سوچ وفکر کے سانٹیفک نظریات کے تحت حقیقی جمہوریت اور مظلوم طبقہ کی اقدار اور ان کو شریک اقتدار کرنے کے لیے عملی جدوجہد کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوادر میں ترقی کے نام پر تقسیم کا فارمولا ہرگز قبول نہیں کریں گے۔ سی پیک کی سیل پیک کھلتے ہی بلوچ قوم کے حقیقی دشمنوں کے فکر ونظریات گوادر اور بلوچستان کے عوام کے سامنے آگئے ہیں۔ گوادر سی پیک کے حمایتی سیاسی جماعتوں اور سیاسی رہنماؤں کی سوچ سے عوام آگاہ ہوچکے ہیں۔ کہ جنھوں نے اپنے کن انفرادی مفادات کی خاطر گوادر پورٹ اور سی پیک کے منصوبہ جات کی حمایت کی تھی آج محض عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے خاطر بلوچ قومپرستی کے دعویدار بنے ہوئے ہیں۔ دوسری جانب موجودہ صوبائی اور مرکزی حکمرانوں کی جانب سے گوادر میں ترقی کے دعوؤں نے بھی عوام کو بیوقوف بنانے میں کوئی کسر نہیں اٹھارکھی۔ انہوں نے کہا کہ آج بلوچ قوم اپنے حقیقی محسنوں اور ساحل ووسائل پر قبضہ کرنے والے عناصر سے بخوبی واقف ہوچکی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں