سابق ایف بی آئی ایجنٹ کی ‘ممکنہ موت’ کا الزام ایران پر

امریکی حکومت نے سابق ایف بی آئی ایجنٹ باب لیونسن کے اغوا کے سلسلے میں دو ایرانی انٹیلیجنس افسران کے نام کی نشاندہی کی ہے۔ لیونسن تیرہ برس قبل لاپتہ ہوگئے تھے اور باور کیا جاتا ہے کہ ان کی موت ہوچکی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے پیر 14 دسمبر کو سابق ایف بی آئی ایجنٹ باب لیونسن کی ممکنہ موت کے لیے باضابطہ طور پر ایران کو مورد الزام ٹھہرایا۔ باب لیونسن 13 برس قبل اچانک لاپتہ ہوگئے تھے، تب سے ان کی کوئی خبر نہیں ہے اور باور کیا جاتا ہے کہ اب وہ زندہ نہیں ہیں۔
امریکی انتظامیہ کے مطابق لیونسن کو مبینہ طور پر اغوا کیا گیا تھا جس کے لیے ایرانی خفیہ ایجنسی کے دو افسران ذمہ دار ہیں۔ امریکی انتظامیہ نے ان دو افسران کے نام عام کرتے ہوئے ان پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ اسٹیون منچن نے اس حوالے سے ایک بیان میں کہا، ”ایران میں مسٹر باب لیونسن کا اغوا، ایرانی حکومت کی غیر منصفانہ کارروائیوں کی حمایت کی ایک اشتعال انگیز مثال ہے۔”

ان کا مزید کہنا تھا، ”امریکا ہمیشہ اپنے شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کو ترجیح دیتا رہیگا اور ان افراد کا جارحانہ طور پر تعاقب کرتا رہیگا جنہوں نے مسٹر لیونسن کے اغوا اور ان کی ممکنہ موت میں رول ادا کیا۔”
لیونسن کے اہل خانہ نے بھی ایک بیان جاری کرتے ہوئے امریکی حکومت کا شکریہ ادا کیا ہے
جن دو ایرانی افسران کے خلاف پابندیوں کا اعلان کیا گیا ہے ان کا نام محمد بصیری اور احمد خزائی بتایا گیا ہے۔ پابندی کے تحت امریکا میں موجود ان دونوں کی تمام جائیدادیں اور اثاثے ضبط کر لیے جائیں گے۔ اس سے ایران کے باہر ان دونوں ایرانی افسران کی مالی لین دین اور ان کی نقل و حرکت بھی محدود ہوجائے گی۔
باب لیونسن نو مارچ 2007 کو اچانک لاپتہ ہوگئے تھے۔ گم شدگی سے عین قبل وہ ایرانی جزیرہ کش پر اپنے ذرائع سے ملاقات کرنے والے تھے۔ رواں برس کے اوائل میں امریکی حکام نے انکشاف کیا تھا کہ انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ شاید باب لیونسن کی کچھ وقت پہلے ہی موت ہوگئی ہے۔ لیکن اس وقت اس سلسلے میں کوئی تفصیلات نہیں بتائی گی تھیں۔
اب امریکی حکومت کی جانب سے ان کے اغوا اور ممکنہ موت کے لیے ایران کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بعد لیونسن کے اہل خانہ نے بھی ایک بیان جاری کرتے ہوئے حکومت کا شکریہ ادا کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام، ”ان کے لیے انصاف حاصل کرنے کی سمت میں ایک طویل ترین راستے کا پہلا قدم ہے، لیکن یہ ایک اہم قدم ہے۔”
امریکا کے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے سے الگ ہونے کے بعد سے ہی ایران کے خلاف متعددپابندیاں عائد کرنے جیسی کارروائیاں کرتی رہی ہے اور یہ اقدام بھی اسی کڑی کا ایک حصہ ہے۔
سابق صدر باراک اوباما نے دنیا کے دیگر پانچ بڑی طاقتوں کے ساتھ مل کر ایران کے ساتھ امن اور بہتر تعلقات استوار کرنے کے لیے جوہری معاہدہ کیا تھا جس سے صدر ٹرمپ علیحدہ ہوگئے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں