سانحہ آرمی پبلک سکول زخم مند مل نہیں ہوئے،دہشت گردی کے خلاف اے این پی نے ہمیشہ دو ٹوک موقف رکھا ہے
پشاور:عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ چھ برس بیت جانے کے باوجود بھی سانحہ آرمی پبلک سکول کے زخم مندمل نہیں ہوئے اور سانحہ میں معصوم بچوں کی شہادت پر دل خون کے آنسو رو رہا ہے، دہشت گردی کے خلاف عوامی نیشنل پارٹی کا ہمیشہ دو ٹوک موقف رہا ہے جس کی پاداش میں ہمارے سینکڑوں کارکنان کو شہید کیا گیا،دہشتگردی کے خلاف جنگ میں شہید ہونیوالوں کے خون کا حق ادا کرنے کیلئے نیشنل ایکشن پلان پر من و عن عملدرآمد ضروری ہے، سانحہ اے پی ایس کے بعد بنائے گئے نیشنل ایکشن پلان کے بیشتر نکات پر اب تک عمل درآمد نہ ہوسکا، یہ حکومتوں کی نااہلی ہے۔آرمی پبلک سکول سانحہ کی چھٹی برسی کے موقع پر اپنے پیغام میں عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان نے کہا کہ معصوم انسانوں کو قتل کرنے والے انسان کہلانے کے بھی مستحق نہیں تھے،جب تک دہشت گردانہ ذہنیت کی نرسریوں اور پنا ہ گاہوں کو ختم نہیں کیا جاتا اس وقت تک امن اور ترقی ایک خواب رہے گا۔اسفندیار ولی خان نے کہا کہ جب تک اے پی ایس پشاور اور اس جیسے دیگر واقعات میں ملوث قوتوں کے خلاف بلاتفریق کاروائیاں نہیں کی جائیں گی تب تک یہ سانحہ ہماری قوم کی تاریخ میں ایک سیاہ دھبہ رہے گا اور ان شہدا کا خون ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ درسگاہوں پر حملہ کرنے و الے بیمار ذہنیت اور جاہلیت کے پیروکار ہیں، شدت پسندانہ نظریات اور سوچ کو زبردستی مسلط کرنے والوں کے ہاتھ نہ روکے گئے تو مستقبل یونہی خطرے میں رہے گا۔ سانحہ اے پی ایس کے مجرموں کا بروقت سراغ لگا کر کیفرکردار تک پہنچا دیا جاتا تو ملک کے دیگر حصوں میں اس جیسے واقعات رونما نہ ہوتے لیکن حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔شہدائے اے پی ایس کے لواحقین مجرموں کو کیفر کردارتک پہنچانے کیلئے چوکوں چوراہوں میں دھرنے دیتے رہے ہیں لیکن نیشنل ایکشن پلان بنانے والوں کے دل و دماغ پر لواحقین کی چیخوں کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ اسفندیارولی خان نے کہا کہ اے این پی کا روز اول سے یہی موقف ہے کہ اچھے اور برے کی تمیز سے نکل کر جب تک امن کو پہلی ترجیح نہیں دی جائے گی اس وقت تک سانحہ اے پی ایس جیسے حملے اور واقعات کو نہیں روکا جا سکتا۔ امن کے قیام کیلئے ساری دنیا کو باچا خان بابا کے عدم تشدد کے فلسفے کو اپنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے این پی پچھلے کئی عرصے سے بار بار حکمرانوں کوخبردار کررہی ہے کہ کوئٹہ سے لے کر بونیر، سوات، دیر اور باجوڑ تک دہشتگرد گروہیں منظم ہو رہی ہیں، ٹارگٹ کلنگ کی جارہی ہے، لوگوں سے بھتے لئے جارہے ہیں، ان کو روکا جائے لیکن حکمران خواب غفلت کی نیند سو رہے ہیں،ضرورت اس بات کی ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے تمام نکات پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے اور دہشتگردی کی اس نئی لہر کوملک کے دیگر حصوں تک پھیلنے سے پہلے روکا جائے۔ دہشت گردی کے واقعات کی ذمہ داری صوبائی حکومت اور مرکزی حکومت دونوں پر عائد ہوتی ہے اور دونوں کو اس میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اے این پی سربراہ کا کہنا تھا کہ پرامن افغانستان کے بغیر پرامن پاکستان کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا۔ افغان امن مذاکرات پاکستان سمیت پورے خطے کے مفاد میں ہیں اور اب وقت آگیا ہے کہ مستقل جنگ بندی کا اعلان کیا جائے اور تمام سٹیک ہولڈرز انٹراافغان مذاکرات کی کامیابی کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کرے۔ افغان اونڈ اور افغان لِڈ مذاکرات اس خطے کے امن کیلئے ضروری ہوچکے ہیں۔ افغان جنگ ہی کی وجہ سے اس خطے پر دہشتگردی کا ناسور مسلط کیا گیا اور جنگ کے خاتمے کے بغیر اس ناسور کا خاتمہ ممکن نہیں۔


