افغان امن مذاکرات،تاخیر اورچیلنجز

تحریر:عبدالرزاق برق
دوحہ میں جاری امن مذاکرات تاخیر آنے اوراس مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے بارے میں سب سے بڑاسوال یہ کیا جارہا ہے کہ کیا دنیا کی سپرپاور نہیں چاہتی کہ مذاکرات کامیاب ہوں یا افغان حکومت اورطالبان نے جاری امن مذاکرات میں ایسی سخت شرائط پیش کی ہیں کہ مذاکرات آگے نہیں بڑھتے۔ دوحہ میں جاری امن مذاکرات کے وفد نے تین ہفتوں کا وقفہ کیاہے مذاکرات میں وقفہ اورتاخیر ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے کہ امن مذاکرات ایک اہم موڑ میں داخل ہوچکے ہیں اور دونوں جانب سے افغان حکومت ستایئس اورطالبان نے بائیس نکات پیش کیے ہیں۔سوال یہ ہے کہ افغان حکومت اورطالبان کے یہ نکات کیا ہوسکتے ہیں؟ اس بارے میں اطلاع ہے کہ افغان حکومت کا ایک نکتہ یہ ہے کہ وہ افغانستان میں ایک جمہوری حکومت اور سب سے پہلے جنگ بندی چاہتے ہیں جبکہ طالبان امن مذاکرات کی کامیابی کے لیے سب سے پہلے ایک عبوری حکومت بہ نام اسلامی امارات چاہتے ہیں مذاکرات میں تاخیر ہونا ٹھیک ہے؟ امن مذاکرات میں تاخیر ایک دن کی ہو یا ایک گھنٹے, قابل قبول نہیں ہے. جنگ جاری ہونے کی وجہ سے ایک گھنٹہ یا ایک دن تک جاری رہتا ہے تو سینکڑوں بے گناہ افغان مارے جاتے ہیں تاخیر کی وجوہات یہ بتائی جاتی ہے کہ امریکہ میں کرسمس کی تعطیلات ہیں اوردوسری وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ دونوں فریق تھک چکے ہیں دونوں ٹیمیں دوحہ میں نرم گرم, خوبصورت اور راحت سے بھرپور جگہوں پر رہتے ہوئے بات چیت کرتے رہے ہیں۔ان ٹیموں نے ایسا کیا کچھ کیا ہے کہ وہ اس سے تھک گئے ہیں. تاخیر کی وجہ یہ ہے کہ امن میں سب سے اہم پیش رفت بعد میں ایک نیا مرحلہ داخل کرنے کے لیے تاخیر ضرور ہوسکتی ہے. سوال یہ ہے کہ یہ”امارت اسلامی حکومت“کون طالبان کو دے گا؟ امارت اسلامی حکومت تو امریکہ نے طالبان کو دینا ہے کیونکہ امریکہ نے جب 29 فروری 2020ء کو دوحہ میں طالبان اور امریکہ کے درمیان امن معاہدہ کیا گیا تو معاہدے کی تیسری شق میں یہ صاف لکھی ہے کہ طالبان کو افغانستان کے اندر اسلامی حکومت بنانا ہے۔ جب دنیا کی واحد سپرپاور کو یہ خواہش ہے کہ افغانستان میں ایک اسلامی حکومت ہو تو پھر خطے میں کون اسلامی حکومت کے مخالف ہوسکتا ہے؟ جبکہ اقوام متحدہ نے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ اقوام متحدہ افغانستان میں جمہوریت اورجمہوری حکومت چاہتی ہے. دنیا کی اکلوتی سپرپاور امریکہ ایک طرف طالبان کو اسلامی حکومت دینا چاہتا ہے دوسری طرف یہی امریکہ کابل میں برسر اقتدار محمداشرف غنی حکومت کی بھرپور طریقے سے حمایت اس انداز سے کرتے ہیں کہ اس حکومت کے وزارت خزانہ وزارت داخلہ کو ہزاروں ڈالر سالانہ دیتے ہیں آج اگر امریکہ پیسے افغان حکومت کو نہیں دے گا افغان حکومت ایک مہینہ بھی چل نہیں سکتی. دوحہ امن مذاکرات کی باہمی بات چیت کے دوران دونوں فریقین نے ایجنڈے میں امورکی ابتدائی فہرستوں کا تبادلہ کیا اوران امور پر ابتدائی وضاحتی بات چیت کی مزیدمشاورت کی ضرورت ہے اوردونوں فریقوں نے پانچ جنوری تک وقفہ یاتا تاخیر لینے پر اتفاق کیا۔دونوں وفود نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ تقریباً ڈھائی مہینوں کی کوششوں اور متعدد ملاقاتوں کے بعد باہمی بات چیت کے باضابطہ اجلاسوں کے عملی اصولوں اورطریقوں پر ایک معاہدہ طے پایا ہے. اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ افغان امن مذاکرات میں تاخیر کیوں ہوئی؟ کیا طالبان اورافغان حکومت نے ایک دوسرے کوجو نکات پیش کیے کیا وہ بہت سخت نکات ہیں؟ اس بارے میں کابل میں افغان اْمور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ امن مذاکرات میں دونوں نے جو نکات پیش کیے ہیں وہ بہت سخت ہیں. دونوں کے پیش کیے گئے نکات سے یہ نہیں لگتا کہ دونوں کے پیش کردہ نکات ایک دوسرے کو تسلیم ہوں گے۔ سوال یہ ہے کہ کون دونوں پر دباؤ ڈالے گا کہ امن مذاکرات کامیاب ہوجائیں بقول مبصرین کہ امریکہ کو چاہیے کہ وہ دونوں پر دباؤ ڈالیں کہ مذاکرات کامیاب ہوسکیں۔اگرسپرپاور ملک دونوں پر دباؤ نہیں ڈالے گا تو افغانستان میں جنگ تیز ہوگی اور مذاکرات کے دوران جنگ اور تیز ہوگی. جس میں سینکڑوں بیگناہ افغان مارجائینگے خود امریکہ سے یہ اطلاع ہے کہ اس وقت امریکہ کی اقتصادی حالت بہت خراب ہے اور امریکہ کے فوجی افغانستان میں مزید رکھنے سے اس کے اقتصادی حالت اورخراب ہوگی. گزشتہ تین مہنیے سے امن مذاکرات کے لیے جو میکانزم بنایا گیا ہے یہ امریکہ کی دباؤ تھا کہ دونوں ایک دوسرے کے لیے نزدیک ہوگئے۔امریکہ کے وزیر خارجہ مائک پومپیو اورزلمی خلیل زاد کئی دفعہ قطر آئے اور یہ کہا کہ ہم افغانستان میں امن چاہتے ہیں ان دونوں نے واضح کہا کہ ہم امن مذاکرات چاہتے ہیں اور بلاتاخیر مذاکرات شروع ہوگئے جو اس وقت دونوں افغان حکومت اورطالبان کے درمیان بلترتیب ستائیس اور بیس نکات ایک دوسرے کو پیش کئے گئے. یہ عمل خود مذاکرات میں ایک پیش رفت ہے امریکہ کی طرف سے مذاکرات کاروں پر دباؤ کے بارے میں کہا جاتا ہے اگر امریکہ نے دونوں پر مذاکرات کی کامیابی کے لیے دباؤ جاری رکھا تو یہ دباؤ کس فریق کے مفاد میں ہوگا؟ اس بارے میں بظاہر گراؤنڈ پر یہ نظرآرہا ہے اسی امریکہ نے افغان صدر محمداشرف غنی طالبان اورڈاکٹرعبداللہ پر یہ دباؤ ڈالا کہ وہ امن مذاکرات شروع کرے امریکہ نے اشرف غنی پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ پانچ ہزارطالبان رہا کرے امریکہ نے جب سے طالبان پر دباؤ ڈالاہے وہ طالبان کے مفاد میں رہا ہے اس وقت کے امریکی حکومت کی طالبان کے بارے میں سوچ یہ ہے کہ طالبان ایک قوت ہے اورموجودہ افغان حکومت کے بارے میں امریکہ کا یہ کہنا ہے کہ افغان حکومت آپس میں تقسیم ہے. امریکہ افغانستان میں طالبان کے زریعے اپنا ہدف حاصل کرنا چاہتا ہے طالبان کی جانب سے جنگ بندی کی سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ طالبان جنگ کے زریعے زندہ ہے اور وہ جنگ کو ایک جنگی تکنیک کے طور پر استعمال کررہے ہیں اور طالبان اسی جنگ کے ذریعے افغان حکومت پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ آنے والی نئی حکومت میں طالبان کو زیادہ حصہ دیا جائے اوردوسری طرف طالبان افغانستان میں جمہوریت نہیں چاہتے اور انتخابات کرانے کے حمایت نہیں کرتے خواتین کے حقوق نہیں مانتے۔ اب اگر طالبان جنگ بندی کا اعلان کرے گے توطا لبان کی موجودہ اہمیت جو کہ جنگ کی وجہ سے برقرار ہے وہ جنگ بندی سے خود بہ خود ختم ہوجاؤ گے۔موجودہ حالت میں مجھے نہیں لگتا کہ طالبان جنک بندی کریں گے کیونکہ اس وقت افغانستان میں امریکہ کی طرف سے یہ اطلاع ہے کہ کیا امریکہ موجودہ امن مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے طالبان پر دباؤ ڈالے گا؟ اس بارے میں یہ کہا جارہا ہے کہ امریکہ کو مسئلہ افغانستان کے حل کے لیے بظاہر کوئی فکر نہیں ہے امریکہ اپنے مفاد کو دیکھتا ہے اور انھیں اپنے مفاد کا سب سے زیادہ دلچسپی ہے اس بار بھی امریکہ افغان حکومت پر دباؤ ڈالے گا. لیکن دوسری طرف گراؤنڈ پر یہ حالت دکھائی دے رہی ہے کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ مسئلہ افغانستان کے حل سے سو فیصد مفاد امریکہ کو حاصل ہوگا کیونکہ افغانستان میں نیٹو اور دیگر ممالک پاکستان, ایران, انڈیا,چین اور روس قطعی طور یہ نہیں چاہتے کہ افغانستان میں اس کے مفادات کو نقصان پہنچے۔ دوسری طرف طالبان کے موقف کے بارے میں مبصرین کا کہنا ہے کہ طالبان موجودہ حالت میں آخری حد تک اپنے موقف پر ڈٹے رہیں گے افغان مسئلے کے حل کے لیے کچھ لو کچھ دو کی بنیاد پر امن قائم ہوسکتا ہے. طالبان اورافغان حکومت دونوں پر دنیا کی واحد سپر پاور دباؤ جاری رکھے کہ دونوں ایک مخلوط حکومت بنانے پر راضی ہوجائیں افغان امن مذاکرات کی کامیابی کے لیے یہ فارمولہ کامیاب ہوسکتا ہے کہ طالبان اورافغان حکومت دونوں کو 50/50 فیصد کا حصہ ملنا چاہیے ادھرافغان صدر کے قومی سلامتی کے مشیر حمداللہ محب نے کہا ہے کہ حکومت اورطالبان کے مابین امن مذاکرات کے بقیہ مراحل ملک کے اندر طے ہونا چاہیں کیونکہ افغانستان کے اندر ہونے والے مذاکرات لوگوں کی آواز کو بہتر طور پر ظاہر کریں گے افغانستان کے اندرامن مذاکرات سے سب کے لیے ایک قابل اعتماد سیکورٹی زون پیدا ہوگا اورافغان عوام امن اور بات چیت کے لیے زیادہ آزاد ہوں گے ملکیت اورنگرانی کومذاکرات کار اپنے شہریوں کی شکایات اور مطالبات سے بہترطور پرواقف ہوں گے اوراس عمل کے اضافی اخراجات سے بچیں گے افغان حکومت کے جانب سے افغانستان کے اندر مذاکرات کوجاری رکھنے کے تجویز پر طالبان اورامریکہ نے اب تک ردعمل ظاہرنہیں کیا ہے لیکن افغان امورکے ماہرین کا افغان حکومت کی جانب سے افغانستان کے اندرامن مذاکرات جاری رکھنے کے بارے میں کہناہے کہ یہ بہت اچھی تجویز ہے مبصرین کا کہنا ہے امن مذاکرات ہلمند کابل اور کندھار میں اس کا انعقاد ہو نا چاہیے جبکہ دوسری طرف کا مبصرین کا کہنا ہے کہ جب افغان امن مذاکرات میں بہت سے ممالک ملوث ہو تو یہ مذاکرات افغانستان کے اندرنہیں ہوسکتے

اپنا تبصرہ بھیجیں