کپتان کے کتے اور نئی اشرافیہ
تحریر: انورساجدی
کتا رکھنا کپتان کا پرانا مشغلہ ہے غالباً یہ شوق انہیں انگلینڈ سے ورثہ میں ملا ہے جب جنرل پرویز مشرف خودساختہ صدر تھے تو انہوں نے عمران خان کو ایک ”پپی“ تحفے میں دیا تھا بڑا ہونے پر اس کا نام ”شیرو“ رکھ دیا گیا تھا شروع شروع میں مشرف اور عمران خان کی خوب بنتی تھی حتیٰ کہ ریفرنڈم کے موقع پر کپتان نے کھل کر مشرف کا ساتھ دیا تھا لیکن2002ء کے انتخابات کے موقع پر انکے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے جنرل صاحب کے بقول عمران خان نے ان سے سونشستیں مانگی تھیں اور حکومت بنانے کی فرمائش کی تھی یہ مطالبہ حقیقت سے کوسوں دور اور خوش فہمی پر مبنی تھا جب الیکشن ہوئے تو وہ میانوالی سے صرف ایک نشست جیت پائے وہ بھی ان کی مدد سے یعنی اس ملک میں جب بھی انتخابات ہوئے آمروں نے ووٹ کا حساب کتاب اپنے پاس رکھا ایک فہرست بنائی جو پسندیدہ امیدوار تھے وہ کامیاب قرار دیئے گئے یہ الیکشن کمیشن اور دیگرلوازمات محض خانہ پُری کیلئے ہوتے ہیں جب مشرف اور کپتان کے درمیان اختلافات بڑھ گئے تو انہوں نے شیرو کی صحیح دیکھ بھال نہیں کی جس کی وجہ سے شیرو مرگیا اسکے بعد انہوں نے دو نئے کتے پالے پی ڈی ایم کے لاہور جلسہ کے دن کپتان نے پورا دن ان کتوں کے ساتھ گزارا تصویر میں دیکھاجاسکتا ہے کہ وہ اپنے کتوں کوامپورٹڈ خوراک دے رہے ہیں ویسے بھی جو ولائتی کتے ہیں ان کی خوراک باہر سے آتی ہے پاکستان میں نہیں بنتی کراچی،لاہور،اسلام آباد،پشاور،فیصل آباد اور ملتان کے بڑے بڑے اسٹورز میں کتوں کی اشیائے خوردونوش اور دیگرسامان کیلئے علیحدہ جگہ مختص ہے ایک اندازہ کہ مطابق دوکتوں کی خوراک پرجتنا خرچہ آتا ہے اس سے50غربا کا پیٹ بھرسکتا ہے۔ان قیمتی ولائتی کتوں کو بڑے نازونعم سے رکھاجاتا ہے انکے بیڈالگ ہوتے ہیں انکے شیمپو اورصابن بھی کافی قیمتی ہوتے ہیں یہ شوق خالصتاً امرا اورروسا کا ہے عام آدمی تو دیسی کتے ہی رکھ سکتے ہیں جن کی خوراک عام انسانوں کی طرح سادہ اور مختصر ہوتی ہے۔
عمران خان ایک منفرد اور باکمال شخصیت ہیں انہوں نے بچپن سے لیکر اب تک کا وقت بہت ہی پرتعیش انداز میں گزارا ہے جب لندن میں کرکٹ کھیلتے تھے تو انکے ساتھی کرکٹر مشکل سے گزاراکرتے تھے جبکہ عمران خان کا سینٹرل لندن میں اپنا پرتعیش فلیٹ تھا یہ فلیٹ20سال پہلے6لاکھ پاؤنڈ میں فروخت ہوا تھا آج کل ضرور اس کی قیمت ایک ملین سے زیادہ ہوگی عمران خان رئیس اس لئے تھے کہ انہوں نے کرکٹ میں کھلاڑیوں کی دلچسپی کی خاطر چھوٹے چھوٹے جوا کورواج دیا تھا ناقدین کہتے ہیں کہ ”بال ٹیمپرنگ“ بھی ان ہی کی ایجاد ہے اگریہ بات الزام نہیں ہے تو میچ فکسنگ بھی اسی دور کی ایجاد ہوگی۔
کتا پالنا یا رکھنا مغربی کلچر کا لازمی حصہ ہے کیونکہ سماج میں خاندانی نظام ٹوٹ چکا ہے بچے جونہی 18سال کے ہوجاتے ہیں ماں باپ کو چھوڑ کر آزاد زندگی گزارنا شروع کرتے ہیں تنہائی کے اس کربناک لمحات میں صرف کتے ساتھ دیتے ہیں یہ بڑے تربیت یافتہ کتے ہوتے ہیں اور کافی ذہین ہوتے ہیں انگلینڈ میں ہزاروں لوگ اپنے کتے لیکر گھوم رہے ہوتے ہیں وہ کتوں کوصبح شام سیر پرلے جاتے ہیں رش والے مقامات پر زیبراکراسنگ پر دونوں طرف ایک ایک کتا کھڑا ہوتا ہے جونہی کوئی اندھا سفید اسٹک کے ساتھ وہاں آتا ہے کتا اسے سڑک کراس کرواتا ہے جبکہ دوسری طرف کا کتا بھی اسٹک پکڑ کریہی ڈیوٹی دیتا ہے تنہا رہنے والے بوڑھے مرد خواتین کتوں کے ذریعے سودا بھی منگواتے ہیں۔
برصغیر میں انگریزوں کی آمد سے قبل تازی یا شکاری کتے رکھے جاتے تھے جو ہرن،خرگوش اور دیگرجانوروں کے شکار میں کام آتے ہیں لیکن انگریز اپنے ساتھ ولائتی کتے بھی لائے جنہیں سنبھالنے کاکام مقامی ہندوستانی کرتے تھے کئی ایسے واقعات ملتے ہیں کہ ان کتوں کو سنبھالنے والے لوگوں کو انگریزوں نے جاگیریں عطا کیں اور یہ لوگ بعد میں اشرافیہ کا حصہ بن گئے اسی طرح جو لوگ اسٹڈفارم یاگھوڑا پال فارم چلاتے تھے انگریزوں نے خوش ہوکر ان لوگوں کو بڑے القابات اورجاگیریں بخشش میں دیں ان لوگوں نے ہندوستان کو غلام بنانے اور انگریز کی فتوحات میں اہم کردارادا کیا۔مورخین کے مطابق میرجعفر اور میرصادق جیسے لوگ کتوں یا گھوڑوں کی طرح انگریزوں سے وفاداری نبھاتے تھے جنگ پلاسی سے لیکر جنگ آزادی تک انگریزوں نے ہزاروں افراد پرمشتمل ایک جعلی اور گماشتہ اشرافیہ تیار کرلی ہندوستان کوآزادی دیتے وقت وہ اس اشرافیہ کو حکومت کرنے کیلئے چھوڑ گئے۔
فیس بک پر ایک تاریخی واقعہ کے مطابق جب رائے احمد خان کھرل نے بغاوت کی توملتان کے ایک شخص شاہ محمود قریشی کو یہ بغاوت کچلنے کافریضہ سوپنا گیا موصوف موجودہ شاہ محمود قریشی کے پردادا تھے مشن کی کامیابی کے بعد انہیں سینکڑوں ایکڑ اراضی دی گئی اور ملتان کا سب سے بڑا گدی نشین بھی بنایا گیا حالانکہ اس خاندان کا تعلق سادات سے تھا ہی نہیں اسطرح کے واقعات صرف پنجاب تک محدود نہیں بلکہ موجودہ پاکستان کے ہر علاقے سے ایسے غدار پیداہوئے جنہوں نے مراعات اورالقابات کی خاطر اپنی سرزمین سے غداری کی۔
قلات کے خان محراب خان کا واقعہ لیجئے جب انہوں نے انگریزوں سے جنگ کا فیصلہ کیا تو سارے سردارفرار ہوگئے کیونکہ وہ انگریزوں سے مل چکے تھے نتیجہ میں محراب خان 33ہندوؤں اورچند جانثاروں کے ساتھ میدان جنگ میں کود پڑے اور شہادت کا عظیم رتبہ حاصل کیا۔
سرداروں کی بے وفائی آج تک جاری رہے 1947ء میں جب ریاست قلات پر کڑا وقت آیا تو خاران اور لسبیلہ کے سرداروں نے تاریخی دغابازی کی۔
انگریز خود تو چلے گئے لیکن اپنی جگہ جعلی اشرافیہ کی فوج ظفرموج چھوڑ گئے بدقسمتی سے ریاست انکے ہاتھ لگ گئی اور ان کی حکمرانی اپنے آقا سے بھی زیادہ بری ہے کیونکہ یہ لوگ انصاف سے مکمل طور پر عاری ہیں جبکہ انگریز کسی کسی جگہ انصاف سے کام لیتے تھے اگرچہ ہندوستان اور پاکستان کوانگریز ایک ہی نوعیت میں چھوڑگئے تھے لیکن وہاں پر گاندھی نہرو،مولانا صاحب اور سردارپٹیل جیسے لیڈر موجود تھے نہرو نے بہ یک جنبش قلم جاگیرداری ختم کردی حالانکہ موتی لال کے خاندان کا تعلق اشرافیہ سے تھا اور نہرو خود کیمبرج کے تعلیم یافتہ تھے جاگیرداری کے خاتمہ کے بعد ہندوستان میں ترقی کی رفتار تیز ہوگئی پاکستان میں ایوب خان نے مارشل لاء ریگولیشن 117اور118 کے تحت جاگیرداری ختم کرنے کا فیصلہ کیا لیکن اس پر کبھی عملدرآمد نہ کرسکے کیونکہ وہ اس قانون کومخالفین کیخلاف استعمال کرتے تھے مثال کے طور پر انہوں نے ملتان کے سیدقصور گردیزی کی ساری زمینیں ضبط کرلیں جبکہ قریشی گیلانی اور خاکوانی خاندانوں کو بخش دیا اسی طرح ساؤتھ پنجاب کے نام نہادپیر اور جاگیرداروں کو ہاتھ تک نہ لگایا کیونکہ یہ سارے ایوب خان کے حمایتی بن گئے تھے۔
ایوب خان کے قوانین کے بعد کالاباغ کے نیازیوں نے نواب کیخلاف احتجاج کیا اور مولانا عبدالستار نیازی کی قیادت میں ہاریوں نے بغوچی محاذ قائم کیا یہ تحریک بھٹو کے وقت کامیاب ہوئی کیونکہ بھٹو کالاباغ کے نواب خاندان کے مخالف تھے۔مجھے صحیح اندازہ نہیں لیکن میراخیال ہے کہ آج کل میانوالی کی ساری زمینوں پر نیازیوں کا قبضہ ہے حتیٰ کہ روکھڑی خاندان بھی پس منظر میں چلا گیا ہے ایوب خان کے دور میں خوشاب کے علاقہ ساہیوال میں واقع سردارعبدالرحمن خان رند کی40ہزار ایکڑ زمین ضبط کرلی گئی تھی،چلیں اتنی تبدیلی تو آئی ہے کہ آج میانوالی سے تعلق رکھنے والے ایک ہاری خاندان کافرد پاکستان کے تخت پر بیٹھا ہے لیکن سندھ اور جنوبی پنجاب میں جاگیرداری اسی طرح قائم ہے بھٹو نے اقتدار میں آنے کے بعد نواب چانڈیو کی ایک لاکھ ایکڑ زمین ضبط کرلی تھی نواب چانڈیو سے اس خاندان کی تاریخی مخاصمت تھی کیونکہ بھٹو خاندان نے طویل عرصہ تک چانڈیو کی جاگیرپر آبادگار کی حیثیت سے زندگی گزاری تھی۔
اب تو جاگیرداروں کا ایک اور طبقہ پیدا ہوگیا ہے یہ طبقہ ایوب خان نے تخلیق کیا تھا انہوں نے ریٹائرڈ جرنیلوں اور دیگرافسران کو سندھ اورساؤتھ پنجاب میں ہزاروں ایکڑ زمین الاٹ کی تھی جنرل پرویز مشرف نے رہی سہی کسر بھی پوری کردی تھی انہوں نے تھل کینال بناکراپنے سمیت درجنوں جرنیلوں کو ہزاروں ایکڑ زمین مفت بانٹ دی تھی جنرل مشرف کے پاس صرف چولستان میں ایک ہزار ایکڑ زرعی زمین موجود ہے جاگیرداروں کا یہ طبقہ کمال خوبی سے اپنے وسیع وعریض فارم چلارہا ہے اور دونوں ہاتھوں سے منافع لوٹ رہا ہے۔
مشرف سے پہلے جنرل ضیاؤ الحق نے بھٹو کے ہاتھوں مارے گئے 22خاندانوں کی آخری باقیات کو دفن کرکے صنعتکاروں اور نودولتیہ افراد کاایک نیا طبقہ پیدا کیا جو اس وقت ملکی معیشت پرقابض ہے اس طبقہ کے سرخیل میاں نوازشریف ہیں جبکہ اس میں جہانگیر ترین پشتونخوا کا سیف اللہ خاندان گجرات کے چوہدری برادرز جنرل اختر عبدالرحمن کے صاحبزادے عقیل کریم ڈھیڈی،عارف حبیب،ظفر موتی والا،سراج قاسم تیلی وغیرہ شامل ہیں جبکہ ملک محمدریاض اور آصف زرداری اس طبقہ کی ایک اور منفراورنایاب قسم ہے۔
جہاں تک کپتان کا تعلق ہے تو وہ مقتدراشرافیہ کے سربراہ ہیں لیکن وہ کاروبار اور فیکٹریوں کاجھنجھٹ نہیں پالتے وہ آسان دولت کمانے پر یقین رکھتے ہیں وہ بنی گالا کے پانچ سو کینال کے شاندار جاگیر میں رہائش پذیر ہیں لیکن دعویٰ ہے کہ آمدنی کوئی نہیں ہے وہ اپنے کتوں پر روزانہ5ہزار روپے خرچ کرتے ہیں جبکہ محل کی دیکھ بھال کے اخراجات ہر ماہ لاکھوں میں ہیں اسی طرح لاہور کے زمان پارک میں ان کا نوتعمیر شدہ شاندار محل اپنی مثال آپ ہے ان دونوں محلات کے اخراجات سالانہ کروڑوں میں پہنچ جاتے ہیں لیکن کپتان کوئی ٹیکس نہیں دیتے سوال یہ ہے کہ وہ یہ اخراجات کہاں سے پورے کرتے ہیں۔بنی گالا سے ایک پرانی مگر دلچسپ تصویر آئی ہے کہ وفاقی وزراء مراد سعید سواتی اور محترمہ زرتاج گل وزیرکپتان کے کتوں کی خدمت کرکے ان کا دل بھلارہے ہیں غالباً ان کتوں کی خدمت بھی وزارت کے حصول کاایک پیمانہ ہوگا کسی دن شیخ رشید یہ راز ضرور افشا کردیں گے۔
ویسے یہ ماننے کی بات ہے کہ کپتان بڑے دل کے مالک واقع ہوئے ہیں چند سال قبل جب لاہوریونیورسٹی میں جماعت اسلامی کی ذیلی تنظیم جمعیت نے ان پر جوحملہ کیا تھا ان میں پنجاب کے وزیرفیاض الحسن چوہان بھی شامل تھے ایک تصویر میں دیکھاجاسکتا ہے کہ وہ کپتان کے بال کھینچ رہے ہیں اس کے باوجود انہوں نے انہیں وزیر بنایا اسی طرح شیخ رشید مشرف دور میں ایک ٹی وی پروگرام میں طعنہ دیتے ہیں کہ آپ تو تانگہ پارٹی کے لیڈر ہیں پھر بھی انہوں نے شیخ رشید کو اپنی کابینہ میں بڑے نازوں سے رکھا ہے پیپلزپارٹی کے گزشتہ دور میں جب آپاں فردوس وزیر تھیں تو روز عمران خان کو برا بھلاکہتی تھیں لیکن آج کل وہ کپتان کی پسندیدہ شخصیت ہیں۔


