سوراب، کروڑوں روپوں کے آبنوشی سکیمات کا زمین پر نام و نشان نہیں
سوراب:گزشتہ مالی سال میں سوراب کے لیئے مختص کروڑوں روپوں کے آبنوشی منصوبوں کا زمین پر نام و نشان موجود نہیں جبکہ متعدد ادھوری حالت میں حکومت کے بلند و بانگ دعوں کی نفی کرتی نظر آتی ہیں، متعلقہ آفیسران، ٹھیکیدار اور بااثر شخصیات کی ملی بھگت سے اجتماعی منصوبوں کے لئے ریلیز خطیر فنڈز جیبوں میں منتقل، عوامی حلقوں کی نشاندہی کے باوجود نوٹس لینے والا کوئی نہیں تفصیلات کے مطابق گزشتہ مالی سال کے بجٹ میں سوراب کے مختلف علاقوں کے نام پر اربوں روپے فراہمی آبنوشی کے لئے مختص ہوکر ریلیز تو کئے گئے مگر مقرر مدت گزر جانے کے باوجود ان اسکیمات میں سے اکثر کا زمین پر کوئی نام و نشان موجود نہیں، زرائع کے مطابق حسب سابق متعلقہ محکمہ کے آفیسران، ٹھیکیدار اور علاقائی بااثر افراد کی ملی بھگت سے عوامی منصوبوں کے لئے فنڈز کو آپس میں بندر بانٹ کے زریعے ٹھکانے لگایا گیا ہے، جبکہ کئی مقامات پر کئی ملین لاگت پر مبنی منصوبہ پر صرف چند لاکھ روپے محض کھدائی، یا صرف پائپ کی فراہمی کی صورت خرچ کرکے مجوزہ اسکیم پائے تکمیل تک پہنچانے کے بجائے ادھورے کام کرکے کاغذات میں منصوبوں کو مکمل ظاہر کیا گیا ہے، واضح رہے کہ سرکاری آفیسران کی ملی بھگت اور رضامندی سے قومی خزانے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کا یہ سلسلہ بدستور بھی جاری ہے، رواں مالی سال میں بھی پی ایس ڈی پی میں ضلع میں مختلف فرضی علاقوں کے نام پر ایک بار پھر کروڑوں روپے فراہمی آبنوشی کے منصوبے شامل تو کئے گئے ہیں مگر خدشہ ہے کہ خطیر لاگت پر مبنی مختص فنڈز ایک بار بندر بانٹ کے نذر ہوجائیں گے، عوامی حلقوں نے کرپشن کے روک تھام پر مامور اداروں سمیت متعلقہ اعلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ سوراب میں فراہمی آبنوشی کے نام پر مختص اربوں روپے کے منصوبوں کی عدم تکمیل کا نوٹس لیکر قومی خزانے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کی تحقیقات کرکے ملوث افراد کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے۔


