طلباتنظیموں نے حقوق کے لیے ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس موومنٹ تشکیل دیدی
اسلام آباد /کوئٹہ:پاکستان بھر کی طلباء تنظیموں نے ڈیمو کریٹک اسٹوڈنٹس موومنٹ کے نام سے مشترکہ تنظیم تشکیل دیدیا گزشتہ روز آل سٹوڈٹنس آرگنائزیشنز کا اجلاس جمعیت طلباء اسلام پاکستان کے صدر ہدایت اللہ پیرزادہ کی زیر صدارت جے ٹی آئی کے سب آفس میں منعقد ہوا جس میں پیپلز پارٹی سٹوڈنٹس فیڈریشن،پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن،مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن(ن)،اہلحدیث اسٹوڈنٹس فیڈریشن،انجمن طلباء اسلام،پشتونخوا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن،وطن پال سٹوڈنٹس فیڈریشن،بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن،بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن (پجار)ٹرائبل یوتھ فورم کے ذمہ داران نے شرکت کی اجلاس کا بنیادی مقصدطلباء برادری کو درپیش مسائل ومشکلات کا جائزہ لینا اور ان کے مستقبل کے حل کیلئے تمام طلباء تنظیموں کی مشاورت سے ایک مشترکہ لائحہ عمل طے کرنا تھا اجلاس میں کافی غوروخوض کے بعد مشترکہ طور پر منظور کیا گیا اجلاس کا اعلامیہ بھی جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ پاکستان میں پسے ہوئے طبقے،غریب،مزدور،محنت کش طلباء کے حقوق اور ملک میں اسلامی،حقیقی جمہوریت کی بحالی کے لئے پاکستان کی جمہوریت پارٹیوں پرمشتمل پاکستان دیمو کریٹک موومنٹ کی مکمل حمایت کرتے ہوئے 26نکاتی ایجنڈے پرمکمل اعتماد کا اعلان کرتے ہیں۔تعلیمی اداروں کی بندش کو مسترد کرتے ہوئے ملک بھر کے تمام تعلیمی اداروں کے طلباء کو ایس او پیز کے تحت اپنی تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت دی جائے۔طلباء یونین کی بحالی کیلئے عملی ا قدامات کئے جائیں اور طلباء تنظیموں کی مشاورت سے ایک مشترکہ ضابطہ اخلق طے کر کے طلباء یونین کے الیکشن کرائے جائیں صوبہ سندھ اسمبلی میں طلبئا یونین بحال بل کی طرز پر تمام اسمبلیوں سے طلباء یونین بل پاس کر کے باقاعدہ طلباء یونین کے الیکشن کرائے جائیں۔حالیہ کورونا وباء سے دیگر طبقوں کی طرح طلباء بھی بہت زیادہ متاثر ہوئے ہیں لہٰذا طلباء کیلئے مناسب تعلیمی پیکج کا اعلان کیا جائے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں تعلیمی بجٹ میں ا ضافہ کر کے کل جی ڈی پی کا 4فیصد کیا جائے۔تمام طلباء تنظیموں فیسوں میں اضافے کومسترد کرتی ہیں اور مطالبہ کریت ہے کہ تمام سرکاری ونجی تعلیمی اداروں کے طلباء کی فیسوں کو معاف کیا جائے۔پاکستان کے نصاب تعلیم میں ناموس رسالتﷺ اور ختم نبوت کے عنوان پر باقاعدہ مضامین شامل کئے جائیں تعلیمی اداروں میں سیکورٹی کے نام پر ٹارچر سیلز کا خاتمہ کیا جائے۔تعلیمی اداروں کے اندر پیف اسکالرشپس،سابقہ فاٹا وبلوچستان کے طلباء کیلئے اسکالرشپ اور کوٹہ سسٹم کو ب حال کر نے کے ساتھ سیٹوں میں اضافہ کیا جائے اور سابقہ فاٹا وبلوچستان کے تمام تعلیمی اداروں کو سیکورٹی فورسز سے خالی کر کے تعلیمی سرگرمیاں ب حال کی جائے۔تعلیمی اداروں کے اندر جنسی ہراسانی کے روک تھام کیلئے غیر جانبدار کمیٹیاں بنائیں جائیں اور ملوث لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔تعلیمی اداروں میں طلباء پر بے جا وغیر آئینی بغاوت اور غداری کے مقدمات کو فی الفور واپس لیا جائے۔ملک میں فرسود نظام تعلیم کا خاتمہ کر کے یکساں نظام تعلیم کا قیام عمل میں لا یا جائے۔اجلاس دینی مدارس کے بندش کے حوالے سے تنظیمات مدارس کے فیصلے کی حمایت کرتا ہے۔اجلاس میں متفقہ طور پر پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ میں شامل سیاسی جماعتوں کی طلباء تنظیموں پر مشتمل ڈیمو کریٹک اسٹوڈنٹس موومنٹ کا وجود عمل میں لا یا گیا۔


