دکان کا کرایہ ماہانہ8ہزار وہسپتال کا سالانہ 10ہزار روپے،میٹروپولیٹین کا رپوریشن کا فارمولا سمجھ سے بالاتر ہے،اخترحسین لانگو

کوئٹہ:پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین اخترحسین لانگو نے کہاہے کہ میٹروپولٹین کارپوریشن کے فارمولے سمجھ سے بالاتر،ایک ہسپتال سے سالانہ 10ہزار جبکہ دکانوں سے ماہانہ 8ہزار کرایہ وصول کئے جارہے ہیں جو سمجھ سے بالاتر ہے،میٹروپولٹین کی ڈیلی ویجز ملازمین کاریکارڈ گاڑی سمیت گھومنا اور لوکل کونسل کے ترقیاتی وغیرترقیاتی فنڈز کاایک ہی اکاؤنٹ میں جمع ہونا المیہ ہے،آڈیٹرجنرل محکمہ کی دوبارہ آڈٹ کرائیں،محکمہ اسٹریٹ لائٹس 6ہزار کالیکر دوماہ میں خراب ہوجاتی ہے جبکہ ہم 25سو روپے میں ایل ای ڈی لائٹ لیتے ہیں لیکن سالوں چل رہی ہوتی ہے،محکمہ لوکل گورنمنٹ سال2013-14ء کے بجٹ اور خراجات میں فرق سے متعلق رپورٹ ایک ماہ میں جمع کرائیں بصورت دیگر ریکارڈ کی جانچ پڑتال کرانے کا حکم دیں گے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے محکمہ بلدیات اور میٹروپولٹین کارپوریشن کے ساتھ منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں ملک نصیر احمد شاہوانی، نصراللہ زیرے، زابد علی ریکی، حاجی محمد نواز کاکڑ، ثناء بلوچ اورصوبائی وزیرزمرک خان اچکزئی ودیگر بھی موجود تھے۔چیئرمین پی اے سی نے محکمہ لوکل گورنمنٹ کی جانب سے سال 2013-14کے بجٹ اور اخراجات میں فرق سے متعلق رپورٹ جمع نہیں کرائی گئی ہے حالانکہ 17فروری تک مہلت دی گئی تھی دوبارہ مہلت کی استدعا زیادتی ہے،پی اے سی کوسنجیدہ نہیں لیاجارہا محکمے کو اس حوالے سے انکوائری کاکہاگیاتھا لیکن انکوائری اب تک نہیں ہوئی ہے،چیئرمین ایک ماہ کا وقت دیتے ہوئے کہاکہ پی اے سی کے آئندہ اجلاس سے قبل رپورٹ جمع کرائی جائے،اگر ایک ماہ بعد رپورٹ جمع نہیں کرایاگیا تو تیسری پارٹی کے ذریعے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کرایاجائے گاانہوں نے کہاکہ لوکل کونسل کے ترقیاتی وغیرترقیاتی فنڈز کاایک ہی اکاؤنٹ میں جمع ہونا المیہ ہے،اگر کمپیوٹرسسٹم کیے تحت ریکارڈ برقراررکھاجانہیں جاسکتا تو مینولی ریکارڈ برقراررکھاجائے،چیئرمین نے استفسار کیاکہ بتایاجائے کہ کیا اکاؤنٹ کوسمجھنا محکمہ کیلئے مشکل ہے کیوں نہ کنسلٹنٹس ہائیرکرکے انہیں سمجھادیں،ڈیلی ویجز ملازمین کاریکارڈ گاڑی میں گھومنے کامنطق سمجھ سے بالاتر ہے اورپھر گاڑی کاچوری ہونا عجیب بات ہے،انہوں نے آڈیٹرجنرل کوہدایت کی کہ دوبارہ محکمہ کاآڈٹ کرایاجائے،چیئرمین پی اے سی نے ہدایت کی کہ محکموں میں گاڑیوں کی مرمت کیلئے اسٹاف کی موجودگی کے باوجود باہر سے گاڑیوں کی مرمت کرنے سے اجتناب کیاجائے،محکمہ کی ایل ای ڈی اسٹریٹ لائٹس ہر دو ماہ بعد خراب ہوجاتی ہے جن کی قیمت 6000ہزار روپے ہے حالانکہ ہم اپنے گھروں کیلئے بازار سے 25سو روپے میں وہی ایل ای ڈی لائٹس خریدتے ہیں جو سالوں چلتی ہے،انہوں نے ہدایت کی کہ پی اے سی جس محکمے کو ریکارڈ جمع کرانے کی مہلت دیتاہے تو تمام متعلقہ محکمے اجلاس کاانتظار کئے بغیر اسمبلی سیکرٹریٹ میں ریکارڈ جمع کرائیں،میٹروپولیٹن کی جانب سے جناح کلاتھ مارکیٹ کے دکانداروں کی جانب سے وصولی نہیں کی گئی ہے لہٰذاجلد سے جلد ریکوری کی جائے بلکہ مٹن مارکیٹ،میزان مارکیٹ،تھانہ روڈ کے دکانداروں سے بھی جلد سے جلد ریکوری یقینی بنائی جائیں،امداد ہسپتال کا کرایہ سالانہ دس ہزار وصول کی جارہی ہے کیا یہ زیادتی نہیں،میٹروپولیٹن کی جانب سے طے کردہ فارمولوں کا ہمیں سمجھ نہیں آرہا،کلاتھ مارکیٹ کے دکانوں سے ماہانہ 8ہزار جبکہ امداد ہسپتال سے 800سو رقم وصول کی جارہی ہے یہ سراسر ناانصافی ہے،انہوں نے کہاکہ میٹروپولٹین کارپوریشن کی جانب سے ڈیڑھ لاکھ آبادی والے علاقے کو صرف تین ڈیلی ویجز ملازمین دئیے گئے ہیں کچھ علاقوں میں آبادی کم تو ملازمین زیادہ جبکہ کچھ میں ملازمین کم اور آبادی زیادتی ہے،میٹروپولٹین کو ڈیلی ویجز ملازمین سے چلایاجارہاہے مستقل ملازمین سے کام نہیں لیاجارہا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں