بلوچستان کے حوالے سے پالیسی مختلف، فلسطین و اسرائیل میں بھی باڑ نہیں، اکرم دشتی

گوادر:نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما اور سینیٹر اکرم دشتی نے کہا ہے کہ دوسرے ممالک میں ترقی کے تمام تر فیصلے اسمبلی اور سینیٹ میں منظوری کے بعد ان پر کام شروع کیا جاتا ہے لیکن بلوچستان کے حوالے سے جو پالیسیاں بنائی گئی ہیں وہ سب مختلف ہیں یہاں عوامی نمائندوں سے کوئی پوچھتا نہیں ہے انہوں نے کہا کہ فسلطین اور اسرائیل جو گزشتہ کہیں سالوں سے لڑ رہے ہیں لیکن وہاں بھی شہروں کو باڑ میں نہیں رکھا گیا ہے آپ دنیا کے کسی بھی ترقی یافتہ ملک میں چلے جائیں وہاں آپ کو کوئی بھی باڑ نہیں ملے گا ہندوستان جیسے ہم اپنا ازلی دشمن سمجھتے ہیں لیکن وہاں بھی باڑ نہیں لگایاگیا ہے اور وہاں کے لوگ آزادانہ طریقے سے آمدورفت کرکے کاروبار کررہے ہیں لیکن جہاں گوادر کے لوگ کاروبار کررہے ہیں انھیں باڑ میں رکھا جارہا ہے انہوں نے کہاکہ ایک جانب بارڈر ٹریڈ کا افتتاح کردیاگیا جبکہ بارڈر ٹریڈ کے لئے آزادانہ نقل و حمل ضروری ہے بدقسمتی یہ ہے کہ جو حکومت برسرقتدار ہے وہ عوام کے ووٹوں سے نہیں آئی ہے بلکہ اسے لایا گیا عملا حکومت سٹبلشمنٹ کی ہے اور سارا طاقت اسٹبلشمنٹ کے پاس ہے اور اسٹبلشمنٹ اپنی طاقت کے زور پر لوگوں کو زیر کرنا چاہتی ہے انہوں نے کہاکہ صدیوں سے آباد یہاں کے لوگوں کو اعتماد میں لیے گئے بغیر کسی بھی فیصلے کو قبول نہیں کرینگے،گوادر کے باڑ کے حوالے سے لوگوں کے پرامن احتجاج کو مسلح احتجاج کی جانب لے جانے کی کوشش کی جارہی ہے جب آپ لوگوں کے پر امن احتجاج کی بات نہیں سنیں گے جمہوری اور سیاسی باتیں نہیں سنیں گے تو لوگ دوسرا راستہ اختیار کرینگے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں