میرے سمیت کابینہ اراکین نے اپنے استعفے لیڈر شپ کو جمع کرادئیے ہیں،مراد علی شاہ
کراچی:وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ انہوں نے اور ان کی کابینہ کے اراکین نے اپنے استعفے لیڈر شپ کو جمع کرادئیے ہیں اور وہ جب چاہیں ان کو استعمال کرسکتے ہیں،جو بھی قائدین فیصلہ کریں اراکین اس پر لبیک کہیں گے،بیک ڈور مذاکرات کا علم نہیں، جو قیادت فیصلہ کرے گی ہم اس کے پابند ہیں،وہ صوبہ گیس میں خود کفیل ہے اس کی لائن بند کرنے کی بات کی جارہی ہے، یہ سراسر آئین سے انحراف ہے، اس پر وفاقی حکومت سے سخت احتجاج کریں گے۔کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ استعفے بہت چھوٹی سی چیز ہے، جو بھی قائدین فیصلہ کریں اراکین اس پر لبیک کہیں گے۔وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے بیرون ملک دورے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ میں نجی معاملے کی وجہ سے قائدین سے چھٹی لے کر اور کابینہ اراکین کو بتا کر بیرون ملک گیا تھا، وقت مجھے زیادہ اس لیے لگا کیونکہ مجھے فلائیٹ نہ ملنے کی وجہ سے 13گھنٹے تک دبئی ایئرپورٹ میں رکنا پڑگیا تھا۔بینظیر بھٹو کی برسی کے لیے جلسے منعقد کرنے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ یہ جلسہ کھلی فضا میں کیا جائے گا جہاں کورونا وائرس کا پھیلا ؤکم ہوتا ہے۔بیک ڈور مذاکرات کے حوالے سے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ مجھے اس کا علم نہیں، جو قیادت فیصلہ کرے گی ہم اس کے پابند ہیں۔زلفی بخاری کی جانب سے سندھ حکومت پر ورکرز ویلفیئر بورڈ اور ای او بی آئی کو خود وفاق کے ماتحت کرنے کے الزام کے حوالے سے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ یایسی کوئی منظوری نہیں دی گئی ہے، اس پر زیادہ بات نہیں کرنا چاہتا، زلفی بخاری کی باتوں کو سیریئس نہ لیا کریں۔گیس بحران کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ صوبہ جو گیس میں خود کفیل ہے اس کی لائن بند کرنے کی بات کی جارہی ہے، یہ سراسر آئین سے انحراف ہے، اس پر وفاقی حکومت سے سخت احتجاج کریں گے۔


