کالج اساتذہ کو درپیش مسائل حل کرینگے، ہاشم غلزئی کی بی پی ایل اے وفد سے گفتگو

کوئٹہ گذشتہ دنوں بلوچستان پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن کی منتخب کابینہ کے وفد کی اور سیکریٹری کالجز ، ہائیر اینڈ ٹیکنیکل ایجوکیشن ہاشم خان غلزئی ، ایڈیشنل سیکرٹری کالجز ، سیکشن آفیسرز اور انچارج ایم آئی ایس عامر نعیم کے ساتھ ایک اہم اور رسمی اجلاس بلوچستان سول سیکرٹریٹ کالجز ڈیپارٹمنٹ کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا جس میں بلوچستان بھر کے کالجز اور کالج پروفیسروں کو درپیش مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور دیرینہ اور ترجیحی نوعیت کے مسائل پر فوری اقدامات اٹھائے گئے۔ کالج اساتذہ کے وفد میں پروفیسر حمید خان، پروفیسر طارق بلوچ، پروفیسر رازق الفت، پروفیسر ثمینہ ترین اور پروفیسر صالحہ ربانی شامل تھیں۔اجلاس میں سیکریٹری کالجز ہاشم خان غلزئی نے کہا ان کی اور ڈیپارٹمنٹ پروفسیرز برادری کے مسائل کے حل میں سنجیدہ ہیں کیونکہ جب تک کالج اور کالج اساتذہ کے مسائل حل نہیں ہوں گے تب تک تعلیم کے میدان درپیش نئے چیلنجوں کا مقابلہ کرنا بھی مشکل ہوگا انہوں نے کہا کہ محکمہ تعلیم کی ترجیحات میں تعلیمی اداروں کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے اور نئی تعلیمی پالیسی جس میں چار سالہ بی ایس پروگرام سرفہرست ہےکو قابل عمل بنانے کے ساتھ کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے تمام دیرینہ مسائل کو حل کرنے کے حوالے سے وزیر تعلیم اور سیکریٹری آفس کالج اساتذہ کے نمائندوں کے ساتھ مل کر ایک بہتر ماحول فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔ بی پی ایل اے کابینہ اور سیکریٹری کالجز کے مابین ہونے والے اجلاس میں  فوری نوعیت کے ان مسائل کو زیر بحث لایا گیا جنہیں گذشتہ دنوں نئی نو منتخب کابینہ کی شاندار اور تاریخی حلف برداری کی تقریب میں بلوچستان کے وزیر تعلیم اور سیاسی و قبائلی رہنما سردار یار محمد رند ،سیکریٹری کالجز اور دیگر اعلی حکام سمیت سینکڑوں کالج پروفسیروں کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔ اجلاس میں ٹیچنگ الاؤنس ، پروفیسر گیسٹ ہاؤس ، بلوچستان بھر کے ہر ڈسٹرکٹ کے ڈگری کالج کو پوسٹ گریجویٹ کالج اور انٹر کالجز کو ڈگری کی اپ گریڈیشن، پروموشن بورڈ کے فیصلوں کے حوالے سے ترامیم بالخصوص کالج پروفیسرز کی پروموشن بورڈ کے فیصلے کے ساتھ ہی ترقی کی تاریخ کو شمار کرنا، کالج اساتذہ کی اضافی کلاسز کی اجرت کو کم از کم منظور شدہ اجرت  کی سطح پر لانا ، بلوچستان کے کالجز کے مسائل کو حل کئے بغیر وہاں ورچوئل یونیورسٹیوں کے کیپمس قائم کرنے سے ممکنہ بحران کے تناظر میں ان کی تنسیخ، ٹی اے ڈی اے کی تقسیم کو منصفانہ بنانا اور  ٹائم بیسڈ پے منٹ کی منظوری سمیت پاسپورٹ این او سی اور میٹرنٹی چھٹیوں کو ڈائریکٹوریٹ کی سطح پر منتقل کرنا شامل تھے پر تفصیلی گفت و شنید ہوئی جن پر سیکریٹری کالجز ہاشم خان غلزئی نے فوری عملدرآمد اور کارروائی کی ہدایت کی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کالجز کے ساتھ رابطوں میں شفافیت لانے کے جوائنٹ ڈائریکٹر یا ان سے اوپر کے ذمہ داران ہی رابطہ کرسکیں گے۔ اس موقع پر بلوچستان پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن کے صدر پروفیسر حمید خان نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا کہ بی پی ایل اے کی موجودہ قیادت بلوچستان میں تعلیمی ترقی اور پیش رفت کی خواہاں ہے اور کابینہ اراکین درس و تدریس جیسے مقدس شعبے کی عظمت اور عزت کا پاس رکھنا بخوبی جانتے ہیں لہذا زمینی حقائق اور منطقی بنیادوں پر جد و جہد کو جاری رکھا جائے گا جس کے تحت تمام دیرینہ اور جائز مطالبات کے تاریخی حصول کے لیے سنجیدگی کے ساتھ کام کیا جائے گا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ان کی زیر قیادت چارٹر آف ڈیمانڈ کی تیاری کے لیے خصوصی ٹیم کام کررہی ہے عنقریب اسے ایک جامع اور موثر دستاویز کی شکل دی جارہی ہے جس کے لیے برادری سے مشاورت بھی کی جارہی ہے۔ بی پی ایل اے اور سیکریٹری کالجز کے مابین کامیاب اجلاس پر بی پی ایل اے کے صدر اور اراکین کی طرف مسرت کا اظہار کی گیا ہے اور ڈیپارٹمنٹ اور کالج اساتذہ کی قیادت کا شکریہ بھی ادا کیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں