آخر کب تک

تحریر: انورساجدی
ہزارہ برادری یا ہزارہ قوم کا مسئلہ یہ نہیں ہے کہ ان کی دلجوئی کے لئے وزیراعظم آئے یا صدر آئے بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ انہیں ٹارگٹ کلنگ یا قتل عام سے کیسے بچایا جائے۔ چونکہ ہزارہ آبادی کی بیشتر تعداد کوئٹہ میں آباد ہے اس لئے گزشتہ دو دہائیوں میں بم دھماکے، فائرنگ اور ٹارگٹ کلنگ کے اکثر واقعات کوئٹہ میں ہوئے ہیں۔ ایک محتاط اندازہ کے مطابق اب تک 2ہزار افراد مارے گئے ہیں۔ بلوچستان سے زیارات کے لئے ایران جاتے ہوئے بھی کئی بار شیعہ زائرین کی بسوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔
اگرچہ ہم ہزارہ معاملات کے ایکسپرٹ نہیں ہیں لیکن ان کا معاملہ کافی پیچیدہ اور افسوسناک ہے۔ ان کو ٹارگٹ بنا کر قتل کرنا ایک قابل مذمت عمل ہے لیکن مسئلہ اتنا سادہ نہیں ہے، کوئٹہ میں ہزارہ برادری کی بنیادی سیٹلمنٹ کوئٹہ شہر کے اندر کوہ مردار کے دامن پر ہے۔ لیکن افغان انقلاب 1978ء کے بعد جہاں پشون مہاجرین نے بلوچستان کا رخ کیا تو ہزارہ آبادی کا ایک بڑا حصہ بھی کوئٹہ آگیا۔ ایک اندازہ کے مطابق ان کی آمد کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ ہزارہ ٹاؤن انہی لوگوں کی وجہ سے آباد ہوا۔ انقلاب ایران کے بعد (1979) جب عراق اور ایران کی جنگ چھڑ گئی تو ہزارہ برادری کے لوگوں نے بڑی تعداد میں ایران کا رخ کیا لیکن ایران نے آہستہ آہستہ ان لوگوں کو واپس بھیجا، جس طرح یہ لوگ پاکستان میں مستقل آباد ہوگئے۔ ایران نے ہم مسلک ہونے کے باوجود انہیں یہ سہولت نہیں دی۔ رفتہ رفتہ جب سعودی عرب اور ایران کے تعلقات خراب ہوگئے، خاص طور پر جب سعودی عرب نے شام میں مداخلت کی یا داعش نے عراق پر پنجے گاڑھے تو شیعہ ڈائس پورہ کے لوگوں نے بھی ان جنگوں میں حصہ لیا جبکہ پاکستان سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے دونوں طرف کی جنگ میں حصہ ڈالا۔ شام کی جنگ کے دوران پاکستانی پنجاب کے علاقوں میں اکثر و بیشتر لاشیں آتی تھیں۔ دونوں طرف کے رضاکار وں کو کون بھرتی کرتا تھا، کس طرح عالمی مناقشہ کا حصہ بناتا تھا آج تک اس کی تحقیق نہیں کی گئی۔ یہ واقعہ تو میڈیا پر آتا رہا ہے کہ داعش نے رضا کارون کی بھرتی کے لئے بھارت میں اشتہارات جاری کئے۔ افغانستان میں جو القاعدہ تھی اس کے لوگ شکست کے بعد داعش میں شامل ہونے لگے۔ پاکستان میں جو عرب جنگجو رہ گئے وہ داعش کا حصہ بن گئے۔ اس کی بڑی مثال ڈینیئل پرل کیس ہے جبکہ عمار البلوشی اور اس کی اہلیہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی اس کے اولین رضاکاروں میں سے تھے جنہیں ای آئی اے نے لاہور جاتے ہوئے ٹرین سے اغوا کیا اور بٹگرام بیس کابل پہنچایا جہاں سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو امریکہ لے جایا گیا اور طویل سزا سنائی گئی۔ وزیراعظم عمران خان نے حال ہی میں دعویٰ کیا ہے کہ سابق انتہا پسند گروپ لشکر جھنگوی اور دیگر تنظیمیں داعش سے منسلک ہوگئی ہیں۔ ان کے دعوے کی وجہ مچھ میں 10 ہزارہ کان کنوں کا بے رحمانہ قتل ہے جنہیں ذبح کیا گیا۔ داعش ہمیشہ لوگوں کو ذبح کرتی ہے تاہم اس دعویٰ کی تحقیق کی ضرورت ہے کہ آیا داعش پاکستان میں کب اور کیسے قائم ہوئی اور اس کا دائرہ کن علاقوں میں پھیلا ہوا ہے۔ نواز شریف دور کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے داعش کے وجود کی تردید کی تھی جبکہ موجودہ حکومت تصدیق کررہی ہے۔
وزیراعظم نے کوئٹہ میں ہزارہ لواحقین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں فرقہ وارانہ دہشت گردی بادی النظر میں ایران، سعودی عرب چپقلش یا شیعہ سنی تقسیم کا شاخسانہ ہے۔ اگر یہ بات صحیح ہے تو سوال بنتا ہے کہ پاکستانی حکومتیں طویل عرصہ سے اپنے ہاں مسلکی دہشت گردی روکنے میں کیوں ناکام رہی ہیں۔ گزشتہ دور میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ بلوچستان میں کام کرنے والی تنظیم لشکر جھنگوی براہ راست سعودی پراکسی بن گئی ہے اور اسے وہیں سے فنڈنگ ہورہی ہے لیکن کسی حکومت نے مقدمات قائم کرکے ثبوت پیش نہیں کئے بلکہ ہر واقعہ کے بعد اس طرح کی تاویلیں پیش کی گئیں تاکہ وقتی طور پر حالات کی سنگینی کم ہو۔ موجودہ حکومت بھی سابقہ حکومتوں کی پیروی کررہی ہے اس حکومت نے ملک بھر میں ہونے والے دھرنوں سے گھبرا کر نہ صرف افغانستان حکومت کا یہ مطالبہ مسترد کردیا کہ جاں بحق ہونے والے سات افراد کی لاشیں ان کے حوالے کی جائیں۔ یہ وہ لوگ تھے جن کی شناختی دستاویزات نہیں تھیں۔ وفاقی وزیر داخلہ نے یہ مطالبہ بھی مان لیا کہ ان لوگوں کے معاوضے بینکوں کی بجائے براہ راست دیئے جائیں گے کیونکہ ان کے بینک اکاؤنٹ نہیں کھل سکتے۔ اس کے باوجود کہ جو لوگ ظلم کا شکار ہوئے لوگوں کو ان سے ہمدردی ہے لیکن یہ کیسی ریاست ہے کہ دنیا بھر کے لوگ یہاں پر کسی شناخت اور ڈاکومنٹ کے بغیر رہ رہے ہیں۔ خاص طور پر بلوچستان جو کہ ایک وار زون ہے اور جہاں سیکورٹی کے انتظامات ملک کے دیگر علاقوں سے کہیں زیادہ ہیں۔ آبادی کے تناسب سے غیر ملکیوں کی سب سے بڑی تعداد بھی اسی صوبہ میں آباد ہے۔ ماضی میں ان لوگوں کے شناختی کارڈ بھی بنا کر دیئے گئے تاہم گزشتہ مردم شماری میں پناہ گزینوں کی ایک اچھی خاصی تعداد کو کارڈ جاری نہیں کئے گئے۔ شک گزرتا ہے کہ پاکستانی کرتا دھرتاؤں نے ماضی میں ان لوگوں سے اس لئے ہمدردی برتی تاکہ وہ انہیں شمار کرکے ڈیموگرافک تبدیلی لاسکیں۔ یہ الگ بات کہ یہ عمل ان کے گلے پڑ گیا، یہ کوئی قابل اعتراض بات نہیں کہ حالیہ سانحہ کے بعد جن لوگوں کی شہریت کے کاغذات نہیں ہیں انہیں شہرت دی جائے گی لیکن اس کی آڑ میں پناہ گزینوں کا جو مزید انخلاء ہوگا تو پھر حکومت کیا کرسکے گی؟
ریاستی ذمہ دار آج تک یہ حقیقت تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ گزشتہ چار دہائی میں دنیا بھر سے جو لوگ پاکستان میں آکر پناہ گزین ہوئے انہوں نے پاکستانی معاشرت، معیشت اور دیگر اقدار کو شدید نقصان پہنچایا۔ حکومت لاکھ نہ مانے لیکن کراچی کی دو کروڑ آبادی میں سے ایک تہائی غیر ملکیوں پر مشتمل ہے جن میں افغانی، برمی، بنگالی اور دیگر لوگ شامل ہیں۔ ان لوگوں نے کراچی کو دنیا کی سب سے بڑی کچی آبادی میں تبدیل کردیا ہے۔ بلوچستان کی تو خیر یہاں کوئٹہ کی نصف آبادی غیر ملکی ہے لیکن خود وفاقی دارالحکومت میں افغانیوں کے علاوہ افریقی باشندوں کی اچھی خاصی تعداد مقیم ہے۔ دارالحکومت کے نواحی علاقوں کی اکثریت غیر ملکی پناہ گزینوں پر مشتمل ہے۔ دہشت گردی عام جرائم اور معاشرتی خرابیوں کی بڑی وجہ یہی لوگ ہیں۔
اگر ایک ریاست کی حکومتیں اس بات کی زحمت نہیں کرتیں کہ اتنی بڑی تعداد میں اس کے لوگ کیسے عراق، شام اور لبنان جا کر وہاں کی جنگوں کا حصہ بن گئے تو وہ اپنے ملکی حالات کو کیسے ٹھیک کرسکتی ہے۔ اگرچہ اس بات کی تصدیق نہیں ہوئی لیکن فرقہ وارانہ تنظیموں کے کئی لوگ چند ایک رہنما غیر ملکی ہیں اور انہوں نے جعلی شہریت حاصل کررکھی ہے۔ اگر ریاست کے ذمہ داروں نے زمہ داری کا مظاہرہ نہیں کیا تو کوئٹہ اور مچھ کی طرح کے سانحات مستقبل میں بھی ہوسکتے ہیں۔اور موجودہ طریقہ کار سے ان کا تدارک ممکن نہیں ہے۔ اگر حکومت سنجیدہ ہے تو کم از کم لشکر طیبہ کے خلاف جو کارروائی کی گئی ہے دیگر تنظیموں کے خلاف بھی اس طرح کی کارروائی کرے۔ طویل عرصہ سے حکومتوں کا زور سیاسی مخالفین اور اپنے مطالبات کی مہم چلانے والی تنظیموں کے خلاف زیادہ ہے جبکہ انتہا پسند تنظیمیں گوشہ عافیت میں بیٹھی ہوئی ہیں۔ جب چند سال قبل مستونگ کے پہاڑوں میں چینی جوڑے کی جس طرح ذبح کیا گیا تھا اور داعش نے اس واقعہ کی ذمہ داری بھی قبول کرلی تھی لیکن حکومت نے کبھی کوئی بڑی کارروائی نہیں کی۔ گزشتہ انتخابات میں درینگڑھ کے مقام پر جو ہولناک دھماکہ ہوا وہ ملکی تاریخ کا شدید ترین دھماکہ تھا جس میں چار سو افراد ہلاک ہوگئے لیکن اس کے ذمہ داروں کا کھوج لگانے کی کوشش نہیں کی گئی۔ اس سے لگتا ہے کہ ریاستی ادارے ایک طرح سے بے بس ہوگئے ہیں اور وہ بڑے بڑے نیٹ ورکس کو توڑنے کی صلاحیت سے عاری ہیں۔ خدا کرے کہ آئندہ خون کی یہ ہولی ختم ہوجائے۔
ایک اہم بات یہ دیکھنے میں آئی کہ وزیراعظم نے دورہ کوئٹہ کے موقع پر پی ڈی ایم کا نام لے کر جو دشنام طرازی کی وہ ایک وزیراعظم کے شایان شان نہیں تھی۔ انہوں نے پی ڈی ایم کے لئے لفظ بے شرم استعمال کیا اور کہا کہ سارے چور ڈاکو اور بے شرم ان کے خلاف اکٹھے ہوگئے ہیں۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ فوجی اداروں پر تنقید کرنے والوں کے خلاف سخت اقدامات کئے جائیں گے۔بدقسمتی سے وزیراعظم نے دہشت گردوں کے لئے اتنا سخت لہجہ نہیں اپنایا جیسے ملک کو دہشت گردوں سے زیادہ پی ڈی ایم سے خطرہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں