مولاناکا موقف۔ فوج کی وضاحت

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخارنے میڈیا کو امن و امان اورسیاسی صورت حال پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے:
1: پاک فوج حکومت کا ایک ذیلی ادارہ ہے۔
2: دیانتداری سے انتخابات کرائے۔
3: ہم پر لگائے گئے الزامات میں کوئی وزن نہیں۔
4: کسی کو شک ہے تو متعلقہ اداروں کے پاس جائے۔
5: ہمارے کسی سے بیک ڈور رابطے نہیں۔
6: مولانا پنڈی آئے تو چائے پانی پلائیں گے۔
7: کسی کی مجال نہیں باڑ اکھاڑے۔
8: پاکستان میں اب منظم دہشت گردوں کاکوئی اسٹرکچر موجود نہیں۔
پاک فوج کے ترجمان نے اپنے نپے تلے الفاظ اور محتاط مگر مناسب لب و لہجے میں اپنا مافی الضمیر میڈیا کے ذریعے سیاست دانوں تک پہنچادیا ہے۔2018کے انتخابات کے حوالے سے دھاندلی کے الزامات کو انہوں نے یکسر مسترد کر دیا ہے اورکہا کہ پاک فوج نے دیانت داری سے انتخابات کرائے،کسی کو شک ہے تو وہ اپنی شکایت لے کرمتعلقہ اداروں (الیکشن کمیشن اور عدلیہ) کے پاس جائیں۔پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے پنڈی جانے کے اعلان بارے پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے میجرجنرل بابر افتخار نے ذو معنی جواب دیا:”پنڈی آنے کاجواز نہیں، اگر آئے تو چائے پانی پلائیں گے“۔
راولپنڈی جانے کے مولانا فضل الرحمٰن کے بیان کو پیپلز پارٹی کے رہنما قمرالزمان کائرہ نے ان کی ذاتی رائے قرار دیاہے۔جبکہ مولانا فضل الرحمٰن نے مالاکنڈ میں پی ڈی ایم کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پاک فوج کے ترجمان کو جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ”خود تو پاپا جونزکے پیزے کھائیں اور ہمیں چائے پر ٹرخائیں، یہ تو زیادتی ہوئی، مہمان نوازی نہ ہوئی!“۔اگر بات بیان بازی کی حد سے آگے نہ بڑھی تو یہ ہنسی مذاق کہلائے گی، اور مولانا دھرنا دینے کے ارادے سے ہجوم کو لے کر سچ مچ پنڈی پہنچیں گے تو معاملہ بگڑنے کے امکانات سے انکار نہیں کیاجا سکتا۔”چائے پانی“ کے روایتی معنے زمینی حقائق کے مطابق کوئی بھی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔مولانا جہاں دیدہ اور سرد و گرم چشیدہ شخصیت ہیں، سیاسی زندگی میں ہمہ اقسام نشیب و فراز دیکھ چکے ہیں۔ اپنے والد مفتی محمود کی رضائے الٰہی موت کے بعد کم عمری میں ہی جمیعت علماء اسلام کے سربراہ کا منصب سنبھالا،اور سینئر اراکین (مولانا سمیع الحق اور دیگر)کی مخالفت کے باوجود کامیابی سے جے یو آئی کی قیادت جاری رکھی۔ انہیں پاکستانی سیاست کی لغت دوسروں سے زیادہ از بر ہے۔مسلم لیگ نون اور پی پی پی کی کابینہ میں کشمیر کمیٹی کے چیئرمین کا (وفاقی وزیر کے مساوی)عہدہ ان کے پاس رہا۔دو متضاد اور متصادم نظریات کی حامل سیاسی پارٹیوں سے یکساں نوعیت کے تعلقات برقرار رکھنا اور برسوں نبھانا آسان کام نہیں تھا،مگر مولانا نے خوش اسلوبی سے نبھایا۔ سوال یہ نہیں کہ مسئلہ کشمیر پر کیا گزری؟ سوال یہ ہے کہ دونوں پارٹیوں کی مختلف الخیال قیادت کو مطمئن کئے رکھا۔پوری مدت پوری کی، بیچ میں نہیں چھوڑا نہ کوئی بدمزگی پیدا ہوئی۔دوسری کوئی پارٹی یاقائد اس قدر صبر و تحمل کا مظاہرہ نہیں کر سکے۔ انہوں نے ڈی جی آئی ایس پی آرکی چائے پانی کی پیشکش کو میزبانی کے آداب کے منافی بلا سوچے سمجھے نہیں کہا ہوگا،پاپا جونز کے پیزا کی فرمائش بلاو جہ نہیں ہوگی۔پنڈی ان کے لئے اجنبی شہر نہیں،وہ خود جلسوں میں کہتے ہیں کہ انہوں نے چار دہائیاں وہاں گزاری ہیں۔
پی پی پی کی قیادت نے کہہ دیا ہے کہ یہ مولانا کی ذاتی رائے ہے۔وہ بھی پنڈی والوں کی”چائے پانی“ سے واقف ہیں۔عام آدمی ابھی تک صرف تماشہ دیکھ رہا ہے۔نون لیگ کے اعلان ”نون لیگ ان ڈور تبدیلی کے عمل کو ٹریڈنگ سمجھتی ہے“کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ عام آدمی کو اچھی طرح یاد ہے کہ پی پی پی دور میں یوسف رضا گیلانی کے ہٹائے جانے کے بعد راجہ پرویز اشرف اور مسلم لیگ نون کے دور میں نوازشریف کے ہٹائے جانے کے بعد شاہد خاقان عباسی وزیر اعظم بنے تھے اوراسوقت کسی نے اس عمل کوٹریڈنگ نہیں کہا تھا، یہ جمہوریت کا تحفہ سمجھا گیا تھا۔اگر ان ڈور تبدیلی صرف پی پی پی کے دور میں ہوئی ہوتی توعام آدمی مان لیتا کہ مسلم لیگ نون کی سیاسی اقدار پی پی پی سے مختلف ہیں۔ یہ عمل اچانک ”سیاسی“سے”ٹریڈنگ“ کیسے ہوگیا؟ اس فرق کی وضاحت احسن اقبال کردیتے توعام آدمی کی مشکل آسان ہو جاتی۔اس لئے کہ پنڈی کی ہیئت آج تک تبدیل نہیں ہوئی۔علاوہ ازیں پی ڈی ایم کے سربراہ آئندہ ناجائز حکمران کو سہارادینے والوں کو مجرم کہنے سے پہلے ڈی جی آئی ایس پی آر کی اس وضاحت کو ضرور دیکھ لیں:”پاک فوج حکومت کا ایک ذیلی ادارہ ہے“۔ اس کے معنے یہی ہوتے ہیں کہ ذیلی ادارہ اپنے بڑے ادارے کا کہنا مانے گا اور اسی کاساتھ دے گا۔پی ڈی ایم چونکہ حکومت نہیں اس لئے وہ کسی خوش فہمی میں نہ رہے۔دھاندلی کی شکایت لے کر پنڈی آنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا، یہ کام متعلقہ ادارے کریں گے جو خودکوآزاد اورخودمختار کہتے ہیں۔وضاحت میں کوئی ابہام نہیں۔اپنی عملی سیاسی زندگی کی انتہائی قیمتی چار دہائیاں پنڈی والوں کے ساتھ گزارنے کے بعد۔۔۔۔” پاک فوج حکومت کا ایک ذیلی ادارہ ہے“،۔۔۔۔ کے معنے با آسانی سمجھ میں آجانے چاہیئیں۔ بالفرض ابھی پی ڈی ایم کی قیادت کو دیگر مصروفیات کے باعث سنجیدگی سے ادھر دیکھنے کاوقت نہیں ملا تب بھی 31 جنوری ابھی دور ہے اور سینیٹ الیکشن مارچ کے وسط میں ہوں گے۔ پنڈی جانے کا مرحلہ جب آئے گا،تب دیکھا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں