وزراء سے بہتر کارکردگی کا تقاضہ

وزیر اعظم عمران خان نیکابینہ اجلاس میں وزراء کی کارکردگی کے بارے میں عدم اطمیان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈھائی سال ہو گئے ابھی تک محکمہ جاتی اصلاحات ادھوری ہیں،یا نہ ہونے کے برابر ہیں،پارٹی پالیسی اورکابینہ کے فیصلوں کی خلاف ورزی آئندہ برداشت نہ کرنے کی وارننگ دی ہے۔ کہا ہے:کابینہ کے فیصلوں کو وزراء اونر شپ دیں۔ پارٹی فیصلوں کی مخالفت کرنے والوں کو استعفیٰ دینے کا مشورہ بھی دیا ہے۔وزیراعظم نے وزراء کو یاد دلایا ہے کہ عثمان بزدار کو وزیر اعلیٰ پنجاب میں نے بنایا ہے،اس نے کارکردگی دکھائی ہے، اس پر تنقید اور بیان بازی میرے فیصلوں پر اعتراضات کے مترادف ہے۔اس کا دفاع کرنا سب کی ذمہ داری ہے۔وزیر اعظم نے وزیر قانون سے عدلیہ میں اصلاحات اور آڈیٹر جنرل سے کرپشن بارے رپورٹ طلب کر لی۔سارے ملک میں ہونے والے بجلی کے شٹ ڈاؤن کے حوالے سے وزیرتوانائی عمراایوب نے کابینہ کو بتایا ہے کہ یہ واقعہ انسانی غلطی کے نتیجے میں وقوع پذیر ہوا۔گمشدہ افراد کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے قانون سازی کی ہدایت کی گئی۔دیگر معاملات بھی زیر بحث آئے۔یہ کریڈٹ پی ٹی آئی کو جاتا ہے کہ اس نے ہفتہ وار کابینہ اجلاس کی روایت پر سختی سے عمل کیا۔لیکن اس کے باوجودڈھائی سال بعد بھی وزراء کی کارکردگی کا غیرتسلی بخش ہونا تعجب انگیز ہے۔کہیں نہ کہیں کوئی بیجارعایت دی گئی ہوگی یا وزیراعظم نے بوجوہ نرم رویہ رکھا ہوگا۔اس لئے کہ بیشتروزراء نے پہلی مرتبہ یہ ذمہ داری سنبھالی تھی، اور انہیں محکمہ جاتی امور سمجھنے کے لئے مناسب وقت دیا جاناضروری تھا۔لیکن ڈھائی سال جیسی طویل مہلت دینا درست نہیں تھا۔ کسی کی کارکردگی کااندازہ لگانے کے لئے 90دن کافی ہوتے ہیں۔ہر محکمے کے رولز آف بزنس پہلے سے کتابی شکل میں متعلقہ وزیر کو مل جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ محکمے کا سیکرٹری سرکاری طور پراسے دستیاب ہوتاہے جس کے بارے میں عام طور پر کہاجاتا ہے کہ و ہ محکمہ جاتی امورو مسائل سے نہ صرف بخوبی واقف ہے بلکہ انہیں درست کرنے کی امنگ بھی رکھتا ہے اور ہنر بھی جانتا ہے۔نیا ہونا کوئی جرم نہیں، کوئی بھی ماں کے پیٹ سے سیکھ کر نہیں آتا۔لیکن سیکھنے میں اگر کوئی وزیر ڈھائی سال گزار دے اور اسے ہٹانے کی بجائے اس سے اپنی کار کردگی بہتر بنانے کی درخواست کی جائے تو عام آدمی کو یقینا مایوسی ہوگی۔عام آدمی کو ایسے وزراء سے نجات دلائی جائے۔یہ وقت ضائع کرنے اور کابینہ کے لئے رسوائی کا سبب بننے کے سوا کچھ نہیں کر سکتے۔ کابینہ کو 40/30سال کے لئے اقتدار نہیں ملا۔اقتدار کی زیادہ سے زیادہ مدت5سال ہے،لیکن پارلیمانی نظام میں قبل از وقت حکومت کے خاتمے کا خطرہ ہروقت موجود رہتا ہے۔ صدارتی نظام میں بھی مواخذے کاراستہ موجود ہے۔امریکی صدر آج کل بھی اس کا سامناکر رہے ہیں،کانگریس میں بحث جاری ہے۔حالانکہ محض چھ روز بعد 20جنوری کو نئے صدر کی حلف برداری یقینی ہے، اس میں کسی امریکی کو کوئی شبہ نہیں۔ یہاں قبل از وقت حکومت کو گھر بھیجنے کی ایک سے زائدمثالیں موجود ہیں۔ذوالفقار علی بھٹو کے انتخابی نتائج تسلیم ہی نہیں کئے گئے، 9ستاروں نے نظام مصطفےٰ کا نعرہ لگا کرتحریک چلائی اور5جولائی 1977 کو اقتدار جنرل محمد ضیاء الحق کے حوالے کرادیا،8سال بعدچیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل محمد ضیاء الحق نے صدر پاکستان کی حیثیت سے23مارچ(85ء)کو محمد خان جونیجو سے وزیر اعظم کا حلف لیا،مگر انہیں 29 مئی 1988کو خود ہی قبل از وقت برطرف کر دیا۔یہ سلسلہ جنرل کی حادثاتی موت کے بعد ان کے جانشین صدر(غلام اسحاق خان) نے جاری رکھا،دوبار محمد نواز شریف اور دو بار محترمہ بینظیر بھٹوکو وزارت عظمیٰ سے ہٹایا،جبکہ نواز شریف کی تیسری بار برطرفی سپریم کورٹ نے غیر اعلان کردہ اقامہ کی بنیاد پر کی۔یہ تاریخ اس لئے یاد دلائی کہ عمران خان اگر وقتی طور پر بھول گئے ہوں، یاد آ جائے۔ اقتدار کو دائمی سمجھنا درست نہیں۔آئینی مدت کاپوری ہونا بھی لازمی نہیں۔کام کی زیادتی کی وجہ سے جاپان اور جرمنی کی سرحدیں ایک دوسرے کے قریب کہہ چکے ہیں۔ تاہم انہوں نے اچھا کیا کہ ڈھائی سال بعد وزراء کی کارکردگی غیر معیاری ہونے کا نوٹس لے لیا۔بچے ہوئے ڈھائی سال بہتر کارکردگی دکھائی جائے تو عوام کے مسائل معقول حد تک حل کئے جانا ممکن ہے۔عدالتی اصلاحات سے مقدمات کی سماعت کا دورانیہ 40،50سال سے کم ہوکر سال ڈیڑھ سال تک لایا جا سکتا ہے۔اسٹے آرڈر سے مجرم برسوں استفادہ کرتے ہیں،خصوصاً دیوانی مقدمات میں،جائیداد کااصل مالک دھکے کھاتا ہے۔اس کاوعدہ وزیر قانون نے حلف برداری کے فوراً بعد میڈیا پر کیا تھابلکہ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ جب دوسری بار چینل پر آؤں گا، یہ کام ہو چکا ہوگا۔پہلے ہی بہت تاخیر ہو چکی ہے۔ محکمہ پوسٹ اورریلوے کی حالت بدستور ناقابل گفتہ بہ ہے۔کورونا کی ڈھال بھی شاید مزید کام نہ آئے۔تعلیمی سرگرمیاں بحال ہونے کے بعد اگر صورت حال بے قابو نہ ہوئی تو لوگ کورونا کو ذہن سے نکال دیں گے۔برطانیہ، امریکہ اور یورپ والے اپنی پروازیں بحال نہ کریں تو ان کی مرضی! پاکستانیوں کو دوش دینا درست نہیں ہوگا۔چین پاکستان کو انفرا اسٹرکچر بہتر بنانے کا مشورہ دینے لگا ہے۔کراچی کے اتحادی بھی وعدے پورے نہ ہونے کی شکایت زبان پر لے آئے ہیں۔ حکومت کا عارضی ہونا بھی کوئی راز نہیں،بیک ڈور رابطوں سے انکار اپنی جگہ کتنا ہی سچ کیوں نہ ہو،مگر ایک سزا یافتہ قیدی کا جیل سے لندن چلے جانا عام آدمی کو کس نام سے سمجھایا جائے؟عام آدمی اپنے روز مرہ مسائل تلے دبا ہے،مہنگائی نے اس سے حس ِلطافت چھین لی ہے، شاعرانہ استعاروں اور تلمیحات سے زیادہ مانوس نہیں۔بقول غالبؔ:آگے آتی تھی حالِ دل پہ ہنسی؛ اب کسی بات پر نہیں آتی، والی کیفیت طاری ہے۔حکومتی کارکردگی کا جو عالم ہے اس پر خود وزیر اعظم نالاں ہیں، اپنے وزراء کو مستعفی ہونے کے مشورے دے رہے ہیں۔ وزراء کو عثمان بزدار کی فکر لاحق ہے۔الغرض آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے،دعاکا مقام ہے،یہی کہاجا سکتاہے:
”خدا خیر کرے!“

اپنا تبصرہ بھیجیں