اسمبلی فلور پر شفیق مینگل کیخلاف پروپیگنڈہ کرنے والے اپنے گریبان میں جھانکیں، جھالاوان عوامی پینل
کوئٹہ؛جھالاوان عوامی پینل کے رہنماء میر ابرار جان مینگل نے کہا ہے کہ بلوچستان اسمبلی کے فلور پر میر شفیق الرحمن مینگل کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے والے اپنے گریبان میں جھانکیں بی این پی کے سربراہ نے اپنے دور حکومت میں 117اہلکاروں کو لیویز میں بھرتی کیا ان میں سے اکثریت کا تعلق کالعدم تنظیموں سے ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتے کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر سردار زادہ میر شہزاد غلامانی، میر فدااحمد قلندرانی، نیاز احمد گرگناڑی اور میر خالد نصیر گرگناڑی بھی موجود تھے میر ابرار جان مینگل نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں کراچی جے آئی ٹی کی جانب سے میر شفیق الرحمن مینگل کا نام لینا بد نیتی پر مبنی ہے رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ دہشت گردوں کا تعلق وڈھ سے ہے دنیا کو معلوم ہے لشکر بلوچستان کے سربراہ کون ہے اس طرح لشکر جھنگوی، بی ایل اے کے وڈھ کیمپوں سے تعلق ہے منشیات، اسلحہ سمگلنگ میں کون ملوث ہے انہوں نے مزید کہا کہ اداروں پر الزام لگانے ولے بتاء یکہ جب موصوف وزیراعلیٰ تھے تو ان کے دور میں لیویز فورس میں بھرتی ہونے والے117جو بھرتی ہوئے ان کا تعلق مختلف کالعدم تنظیموں سے نکلا جن میں 8لیویز اہلکاروں کا تعلق لشکر بلوچستان سے نکلا جس کا تمام ریکارڈ موجود ہے انہوں نے کہ اکہ ہم چیلنج کرتے ہیں کہ میر شفیق الرحمن مینگل کے خلاف لگائے گئے تمام الزامات اپنے کالے کرتوتوں پر پردہ ڈالنے کے مترادف ہے انہوں نے الزام لگایا کہ وڈھ اور خضدار میں جو بے گناہ اساتذہ کو دہشت گردوں نے مارا اس میں لشکر بلوچستان سر فہرست ہے میر ابرار جان مینگل نے ایک درجن ایف آئی آر کی کاپیاں میڈیا کے نمائندوں کے حوالے کئے اسی طرح میر شہزاد غلامانی نے درجنوں تصاویر میڈیا کو دیکھائے کہ وہ بی این پی کے سربراہ کالعدم تنظیموں کے ساتھ گٹ جوڑ ہے موصوف جب دبئی جاتے ہیں تو ان کے ساتھ ٹھہرتے ہیں انہوں نے سپریم کورٹ اور مقتدرہ اداروں سے اپیل کی کہ وہ اس کی تحقیقات کرے تاکہ عوام کے سامنے وہ تمام حقائق رہ سکے جو موصوف قوم پرستی کے بہانے عوام کو بے وقوف بنارہے ہیں۔


