لانگ مارچ کامطلب حملہ آور ہونا نہیں
مسلم لیگ نون کے سینئر رہنما اور سابق وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ نے ایک نجی چینل میں ایک سوال کاجواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ لانگ مارچ کا مطلب توڑ پھوڑ کرنایا حملہ آور ہونا نہیں۔لانگ مارچ میں نہ کوئی بل جلے گا اور نہ ہی حملہ ہوگا۔بلاول بھٹو زرداری عدم اعتمادتحریک کی بات کررہے ہیں عدم تحریک سمیت تمام آپشن پی ڈی ایم میں زیر غور ہیں۔سابق صدر آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ آئندہ چند ماہ ملک کے لئے بہت اہم ہیں۔پی ڈی ایم متحد ہے، حکومت پر ہر طرف سے وار کریں گے۔ملک شدید خطرات میں ہے، حکومت کی نااہلی سے ملک حادثے کا شکار ہوسکتا ہے، حکمران کوئی بڑی غلطی کر سکتے ہیں۔جیسے جیسے دن گزر رہے ہیں پی ڈی ایم کی قیادت کے لہجے میں نرمی آنے لگی ہے۔چوبیس اور اڑتالیس گھنٹوں میں حکومت کے دعووں کی جگہ آئندہ مہینوں کی باتیں کی جا رہی ہیں۔وزراء اور حکومتی ترجمان اپنی آئین مدت کرنے پر مصر ہیں۔ اب اپوزیشن کے کسی بیان میں یہ جملہ شامل نظر نہیں آتا کہ حکومت کی ٹانگیں کانپ رہی ہیں۔براڈ شیٹ کو اربوں روپے کی ادائیگی پر اپوزیشن نے جوخوشی کے شادیانے بجائے تھے اب انکوائری کمیٹی کے سربراہ جج تقرری پر اعتراضات کی ماتمی دھنوں میں ڈھلتے جا رہے ہیں۔ایک جانب ان کی ایمانداری ہر شک سے بالا تر ہونے کی تصدیق ہوتی ہے،ساتھ ہی کینسر اسپتال بورڈ کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ایک تجویزیہ بھی دی گئی ہے کہ پارلیمانی کمیٹی تحقیقات کرے۔ دوسری تجویز معاملہ قومی اسمبلی کی اے پی سی کے سپرد کرنے کی گشت کر رہی ہے۔اتنی ڈھیر ساری مختلف انواع کی تجاویز سے عام آدمی یہی سمجھے گا کہ اپوزیشن کی سمجھ میں نہیں آرہا کہ براڈ شیٹ کاایساممکنہ حل کیا ہے جو حکومت کو جلا کر بھسم کردے اور اپوزیشن کے گرد اگر کبھی آگ کے شعلے بھڑکیں تو معجزاتی طور پرگل و گلزار میں تبدیل ہو جائیں۔
اس لئے کہ براڈ شیٹ نے جن اثاثہ جات کی نشاندہی کی ہے وہ تمام اثاثے 2000سے پہلے کے ہیں۔ جن غلطیوں کی بنیاد پر حکومت پاکستان کو اربوں روپے جرمانہ ادا کرنا پڑا وہ بھی 2007میں سرزد ہوئیں۔پی ٹی آئی کی حکومت نے 8اگست 2018کو اقتدار سنبھالا ہے۔وزیر اعظم عمران خان نے دو ٹو ک الفاظ میں کہا ہے کہ براڈ شیٹ کے معاملے سے اسے کوئی لینا دینا نہیں۔اس کے بعد 2008سے2013تک پی پی پی اقتدار میں رہی،اور 2013سے2018تک مسلم لیگ نون نے حکومت کی۔اس دوران نیب اور حکومت دونوں نے اپنے طویل سیاسی، حکومتی تجربے اور خداد ذہانت سے استفادہ کرتے ہوئے باہمی مشاورت سے جو مناسب سمجھا،اور بلا شرکت غیرے کیا۔اگر کوئی شواہد اس وقت کے نیب،اس وقت کی حکومت اور اس وقت کے وکلاء کی نگاہ میں نہیں آئے مجوزہ کمیٹی 45دنوں سامنے لے آئے گی۔اس میں تاخیر ہوئی تو وہ بھی چندہفتوں سے زیادہ نہیں ہوگی۔ پانامہ جے آئی ٹی کا تجربہ سب کے سامنے ہے۔ تازہ ہونے کی بناء پر اکثریت کے حافظے میں محفوظ ہے۔توقع کی جانی چاہیئیکہ اسدوران براڈ شیٹ کیس کی تفصیلات مسلم لیگ نون اور پی پی پی کی قیادت اور ان کے فاضل وکلاء نے پڑھ لی ہوں۔عام آدمی کے لئے یہی کافی ہے کہ جسٹس (ر) عظمت سعید شیخ کی تقرری ہوتے ہی اپوزیشن نے حکومت کو سمجھانا شروع کر دیا تھا کہ کوئی دوسرا جج مقرر کردیں۔عام آدمی کو ہر مہینے ملنے والابجلی،گیس اور پیٹرول کابل یہی شعور دیتا ہے کہ ماضی میں کی جانے والی لوٹ مارجب تک قومی خزانے میں واپس نہیں آئے گی اس وقت تک آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹے گی اور آئی ایم ایف سے جان چھڑائے بغیر بجلی،گیس اور پیٹرول کے ریٹ کم نہیں ہوں گے۔ جو آدمی دوسروں کے گناہوں کا کفارہ ادا کرتا ہے، خوشی سے نہیں کرتا۔یادرہے، اپنے معصوم بچوں کا پیٹ کاٹ کر،اسکول فیس روک کر،بیمار والدین کی دوا ٹال کر کفارہ ادا کرنا زیادہ اذیت ناک ہوتا ہے۔ زیاد سبق آموز ہوتا ہے۔
آج کے عوام ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ باشعور ہیں۔تیز رفتار ذرائع ابلاغ صرف امیروں تک محدود نہیں، غریبوں کی جھگیوں تک پہنچ چکے ہیں۔ سوشل میڈیا اپنے دلچسپ انداز میں ہر خبر عام آدمی تک پہنچا رہا ہے۔معاملہ پرنٹ میڈیا سے نکل کر الیکٹرانک میڈیا پر چھا گیاہے۔ظالموڈیرہ اپنے ہاری کو الٹا لٹکا کر ڈنڈے، جوتے، مکے برسائے تو ویڈیو وائرل ہو جاتی ہے،تھانے کا سامنے پولیس موبائل کے سامنے بہن بھائی اٹھک بیٹھک کریں تو 22کروڑ عوام دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ملک کے معروف مفتی کو کوئی ٹک ٹاکر خاتون تھپڑ مارے تو یہ منظر ”گیسٹ ہاؤس“کے بیڈ سے گلی کوچوں میں دیکھاجاتا ہے۔لگاتار واقعات سے تنگ آکرمذکورہ مفتی کے گھر والے کرونا کے مریض کی طرح آئیسولیشن میں ڈال دیتے ہیں۔ آخر عزت بھی کوئی شے ہے۔سیاست دان اگر کسی خوش فہمی میں مبتلاء تھے تو16اکتوبر2020سے 13دسمبر تو درمیان دور ہو گئی ہوگی۔لہجے میں تبدلی بلا وجہ نہیں۔حکمرانوں کی نیندیں اور ہوش اڑا دینے طوفانی والا تباہ کن لانگ مارچ ریشم کی طرح نرم و ملائم ہونا بتا رہا ہے کہ پس دیوار کوئی خوفناک شے موجود ہے۔عوام 17فیصد جی ایس ٹی (ملک میں بنائی جانے والی مصنوعات پر عائد کردہ ٹیکس) کی ادئیگی ماچس کی ڈبیہ اور صابن کی ہر ٹکیہ پر کرتے ہیں،کہاں گیا اور کہاں جا رہا ہے،اچھی طرح جانتے ہیں۔لچھے دار باتوں اور پریس کانفرسوں سے عوام کو بیوقوف بنانے کا دور 1977سے2018تک گزر گیا اب مجرم اپنے کئے کی سزاجیل میں نہ سہی،اپنے خرچ پر جیل سے باہر بھگت رہے ہیں۔اتنا کچھ نظر آنے لگا ہے تو جو آج نظر نہیں آرہا کل نظر وں کے سامنے آجائے گا۔ سارے جسم کی سوئیاں نکل چکیں، پلکوں کی رہ گئی ہیں، عام آدمی پر امید ہے جلد یا بدیرنکل ہی جائیں گی۔رات کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو آخر رات ہی ہوتی،صبح نے آخر کار آنا ہے۔اندھیرے نے دھیرے دھیرے چھٹنا شروع کر دیا ہے۔ملزمان کی بیماری کا اتار چڑھاؤ جب عدالتی تاریخوں سے نتھی ہوجائیں تو سیانے یہی کہتے ہیں!


