سارے راز سامنے لائے جائیں!
مسلم لیگ نون کی نائب صدر مریم نواز نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جسٹس (ر) عظمت سعید شیخ براڈ شیٹ انکوائری کمیشن کی سربراہی خود چھوڑ دیں ورنہ نون لیگ وہ سارے راز سامنے لائے گی جو ماضی میں سامنے نہیں لائے گئے تھے۔مریم نواز نے مزید کہا کہ ماضی میں نون لیگ کی حکومت اور وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف سازش کی گئی تھی، ان کا نام بانیوں میں شامل ہے، اور مذکور ہ جسٹس اس سازش کا اہم کردار تھے۔ مریم نواز کے خیال میں اخلاقیات اجازت نہیں دیتیں کہ یہ سابق جسٹس براڈ شیٹ کمیشن کی سربراہی قبول کریں۔پی پی پی کی قیادت نے بھی مذکورہ تقرری پر سخت تنقید کرتے ہوئے براڈ شیٹ کمیشن کو مسترد کر دیاہے۔ان کی جانب سے یہ اعتراض سامنے لایاگیا ہے کہ جسٹس (ر) عظمت سعید براڈ شیٹ کمپنی سے معاہدہ ہوتے وقت نیب کے پراسیکیوٹر تھے۔جو شخص نیب کا پراسیکیوٹر رہاہووہ کیسے کمیشن کا سربراہ ہو سکتا ہے؟اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی خان نے بھی کمیشن کو ملک اور قوم کے ساتھ مذاق قرار دیا ہے۔براڈ شیٹ معاملے میں ملوث کردار خود حکومت کا حصہ ہے، انہیں کچھ نہیں کہا جارہا۔لیکن دیگر سیاست دانوں کے خلاف انتقامی کارروائیوں کے لئے اب ججز کو بھی متنازعہ بنایا جارہے ہے۔اسفندیار ولی خان نے کہ مسلط حکمران روز اول سے احتساب کے نام پر ملک اور عوام کے ساتھ کوئی کھیل کھیل رہے ہیں۔ اپنے ہی اسپتال کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے رکن کو تحقیقاتی کمیٹی کا سربراہ بنانا مذاق نہیں تو اور کیا ہے؟یہ حکمران خود کوکلین چٹ دلانے کی کوشش کر رہے ہیں واٹس ایپ فیصلوں اور جے آئی ٹیز کا معاملہ بھی عوام نہیں بھولے۔عدلیہ کو اس بات کا نوٹس لینا ہوگا تاکہ ادارے کو متنازعہ بنانے کی کوشش ناکام بنائی جائے۔۔۔ سیاستدانوں کے تمام دلائل عوام تک پہنچ چکے ہیں۔لیکن۔۔۔۔؟
اس میں کسی کوشک نہیں کہ براڈ شیٹ مقدمے میں حکومت پاکستان لندن عدالت میں بری طرح ہاری ہے۔حکومت کے خلاف اربوں روپے ہرجانہ کے علاوہ 5پاؤنڈ ماہانہ جرمانہ ادا کرنے کافیصلہ اپنی جگہ توجہ طلب معاملہ ہے۔عام آدمی کو توقع تھی کہ تمام سیاست دان متحد ہوکر براڈ شیٹ معاہدہ کرنے والوں کو قوم کے سامنے لانے میں اپنی بھرپور صلاحیتو ں سے کام لیں گے۔عوام صرف اتنا جان سکے ہیں کہ یہ معاہدہ 2000میں اس وقت کے سی ای او،صدر پاکستان اورحاضر ڈیوٹی(باوردی) چیف آف آرمی اسٹاف جنرل پرویز مشرف کی حکومت نے براڈ شیٹ نامی کمپنی کے ساتھ کیا تھا۔اور اسے 200 پاکستانیوں کی بیرون ملک بے نامی جائیدادوں کا کھوج لگانے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔یہ 200نام بھی اسے اس وقت کے ”نیب“ نے فراہم کئے تھے۔ عام آدمی کو میڈیا اطلاعات سے مزید یہ معلوم ہوا ہے کہ یہ معاہدہ بعض سیاسی مصلحتوں کے تحت 2003میں کھڈے لائن لگا دیا گیا اور 2007میں اس معاہدے سے تمام تر عالمی کاروباری اخلاقیات کے باوجود منہ موڑلیا بلکہ اسے اپنے پیروں تلے روندتے ہوئے جو کچھ کیا اس کے نتیجے میں لندن عدالت میں رو سیاہی پاکستانی حکمرانوں کا مقدر بنی۔ان 200افراد میں پاکستان کے سابق صدر پاکستان سردارفاروق احمد خان لغاری کا نام بھی شامل ہے۔ موصوف 14نومبر1993تا2دسمبر1997پاکستان کے صدر رہے۔ زندہ تھے،اپنی صفائی پیش کر سکتے تھے، انہیں پاکستان کے سیاہ و سفید کے مالک (جنرل پرویز مشرف)نے نہ صرف لوٹی ہوئی دولت واپس لانے کا حکم دیا بلکہ پاکستان کا وزیر دفاع بنا دیا۔وہ بھول گئے کہ:
(i) وہ خود گریڈ22کے افسر ہیں۔انہوں نے آئین کی پاسداری کا حلف اٹھا رکھا ہے۔
(ii) ”نیب“ کا ادارہ انہوں نے خود تشکیل دیا ہے۔
(iii) ان کی ہدایت پر ”نیب“ نے براڈ شیٹ نامی کمپنی سے معاہدہ کیا۔
(iv) اس معاہدے کی پاسداری ریاست پاکستان کے ذمہ ہے۔
(v) معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی تو براڈ شیٹ کمپنی ریاست پاکستان کے خلاف عدالت میں جانے کا حق رکھتی ہے۔
(vi) ریاست پاکستان کے اختیارات آئین کے مطابق حکومت استعمال کرتی ہے۔لہٰذا حکومت معاہدے سے روگردانی نہیں کر سکتی۔
(vii) جنرل پرویز مشرف نے جو غلطیاں کی ہیں ان کا خمیازہ انہیں اور ان کی کابینہ کو بھگتنا چاہیے۔
(vii) وزیر دفاع اور دیگر ملزموں کے غلط کاموں کی سزا سے بچانے کا بوجھ بھی کابینہ کے سربراہ پر آتا ہے۔
(viii) مجرم اپنی صفائی میں جا کچھ کہنا اور جو شواہد پیش کرنا چاہتے ہیں، کمیشن کے روبرو پیش کریں۔
(ix) جنرل پرویز مشرف آئینی طور پر پاکستان کے اثاثوں کے کسٹوڈین تھے،اگر وہ اپنے فرائض ادا کرنے میں ناکام رہے تو ان سے باز پرس کا اختیار ریاست کو حاصل ہے۔
(x) جنرل پرویز مشرف کے غیر آئینی فیصلوں سے فائدہ اٹھانے والے سیاست دان بھی اپنے جرائم کا حساب دینے کے پابند ہیں۔
(xi) سیاست دان ہونے کے یہ معنے نہیں ہوتے کہ ملک کی دولت(جس کے اصل مالک عوام ہیں)بینامی اکاؤنٹس میں بیرون ملک منتقل کر سکیں۔
پاکستان کے عوام لوٹی گئی رقم کی ادائیگی گیس، پیٹرول اور بجلی کے بلوں کی شکل میں ادا کرتے ہیں۔ غیر ملکی بینکوں اور ملکی بینکوں کو سود بھی وہ اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ کاٹ کر ادا کرتے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ عوام کا ساتھ دیا جائے۔ چوروں کی حمایت دوسرے لفظوں میں عوام دشمنی ہے۔ اگر سیاست دانوں کا دامن اور ان کے ہاتھ صاف ہیں، وہ عدالتوں اور ججز پر الزام تراشی کی بجائے اپنی صفائی ثابت کریں۔عوام کو یاد ہے ایک سیاست دان نے دعویٰ کیا تھا ”لندن تو کیا میری تو کوئی جائیداد پاکستان میں بھی نہیں!“،اور پھر اسی سیاست دان نے میڈیا کے روبرو پاکستان میں اربوں روپے کی جائیداد کی ملکیت کا اقرار کیا۔قانون اور آئین سے کوئی بھی بالاتر نہیں۔آئینی اور قانونی راستہ اختیار کیا جائے۔عوام یہی چاہتے ہیں۔


