پشتونوں پر ظلم جاری رہا توبنگلہ دیش جیسا سانحہ رونما ہوسکتا ہے، محمودخان اچکزئی

لورالائی: پی ڈی ایم کے سربراہ اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سر براہ محمود خان اچکزئی نے کہاہے کہ پاکستان اس وقت ایک نازک دور سے گزر رہا ہے کیونکہ دوسروں کے گھروں میں پتھر پھینکے جائیں گے تو وہاں سے پھولوں کی توقع رکھنا کم عقلی ہے افغانستان میں چالیس سال سے جنگ جاری ہے جس میں لاکھوں افراد مارے گئے جس کی وجہ سے پورا ایشاء اس جنگ کی وجہ سے متاثر ہوا یہ بات انہوں نے لورالائی شادی ہال میں پارٹی ورکروں سے خطاب کرتے ہوئے کہی انہوں نے کہا کہ 2018کے الیکشن میں تاریخ کی بد ترین دھاندلی کے ذریعے جعلی مینڈیٹ عوام پر مسلط کیا گیا اور اس کے نتیجے میں ایک نا اہل حکومت بنی جوکہ عوامی مسائل کے حل میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے جس کی وجہ سے آج ملک کی حقیقی سیاسی پارٹیاں اس وقت ایک پلیٹ فارم پر جوکہ پی ڈی ایم ہے اس پر اکٹھی ہوئی ہیں تاکہ ملک کو مزید تباہی سے بچایا جاسکے۔ ہم نہ ملک کے خلاف ہیں اور نہ ہی فوج بلکہ ہمارا موقف ہے کہ تما م ادارے اپنی آئینی حدود میں رہ کر ملک کی خدمت کریں۔فوج کاکام ملک کی سرحدوں کی حفاظت ہے انہوں نے کہا کہ وزیرستان کے لوگوں کے مطابق انکے 70 ہزار افراد مارئے گئے جس کی وجہ سے ہزاروں خاندان اپنے پیاروں سے جدا ہوئے جس کی وجہ سے پی ٹی ایم وجود میں آیا اور اس کا وجود میں آنا کوئی گناہ نہیں۔پاکستان کے آئین کے مطابق پر پاکستانی کو سیاسی جماعت بنانے،احتجاج کرنے کا حق حاصل ہے علی وزیر کو جیل میں ڈالنے کا مطلب اپنی حقو ق سے دست برداری کے مترادف ہے اگر پشتون وطن پر ظلم اسی طرح جاری رہا تو پھر خدا نخواستہ بنگلادیش جیسا سانحہ رو نماہوسکتا ہے پشتون وطن کے حقوق پر سودے بازی نہیں ہوگی یہاں کے وسائل پر یہاں کے لوگوں کا حق ہے اور ان وسائل پر قبضہ کسی صورت برادشت نہیں کرسکتے ہیں تمام پشتونوں کو اب ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے اس کے علاوہ ان کے مسائل کا کوئی حل نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں