نیتن یاہو آئندہ ہفتے متحدہ عرب امارات کا دورہ کریں گے
اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ وہ آئندہ ہفتے متحدہ عرب امارات کا سرکاری دورہ کریں گے اور شاید بحرین بھی جائیں گے۔ ان دونوں خلیجی عرب ممالک نے گزشتہ برس اسرائیل کے ساتھ باقاعدہ تعلقات قائم کیے تھے۔
ابوظہبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زید النہیان اور اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو
نیتن یاہو چند روز بعد متحدہ عرب امارات جائیں گے، یہ بات انہوں نے منگل کی شام یروشلم میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہی۔
اسرائیل کو بھی چونکہ کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے صحت عامہ کے شعبے میں بحرانی حالات کا سامنا ہے، اس لیے ان سے پوچھا یہ گیا تھا کہ آیا وہ ملک میں کووڈ انیس کی وبا کی تشویش ناک صورت حال کے باوجود اور طے شدہ پروگرام کے مطابق اگلے ہفتے متحدہ عرب امارات کا دورہ کریں گے۔
کوسووو نے بھی اسرائیل سے باقاعدہ سفارتی تعلقات قائم کر لیے
اس سوال کے جواب میں اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ وہ صرف تین گھنٹے کے ایک بہت مختصر دورے پر اس خلیجی عرب ریاست کا سفر کریں گے۔
نیتن یاہو نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے لائیو براڈکاسٹ کی جانے والی اس پریس کانفرنس میں کہا، ”ہم اس دورے کو پہلے ہی دو مرتبہ کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن کے پیش نظر ملتوی کر چکے ہیں۔‘‘
اسرائیلی فوجی سربراہ کا ایران پر حملہ کرنے کے نئے منصوبوں کی تیاری کا حکم
وہ ممالک جنہوں نے ابھی تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا
افغانستان نے اسرائیل کے قیام سے لے کر اب تک نہ تو اسرائیل کو تسلیم کیا ہے اور نہ ہی دونوں ممالک کے مابین سفارتی تعلقات ہیں۔ سن 2005 میں اُس وقت کے افغان صدر حامد کرزئی نے عندیہ دیا تھا کہ اگر الگ فلسطینی ریاست بننے کا عمل شروع ہو جائے تو اس کے بعد اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات ممکن ہیں۔
وزیر اعظم نیتن یاہو نے صحافیوں کو بتایا، ”یہ دورہ سلامتی امورکی وجہ سے اور قومی اور بین الاقوامی سطح پر بھی بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ اس لیے میری درخواست پر اس کا دورانیہ تین دن سے بہت کم کر کے صرف تین گھنٹے کر دیا گیا ہے۔ لیکن میں یہ دورہ کروں گا۔‘‘
ساتھ ہی اسرائیلی سربراہ حکومت نے یہ بھی کہا کہ وہ تین گھنٹے کے لیے متحدہ عرب امارات کا دورہ تو کریں گے ہی لیکن شاید اس دوران وہ بہت تھوڑے وقت کے لیے بحرین بھی جائیں گے۔
بینجمن نیتن یاہو نے خود اپنے اس دورے کے لیے کسی تاریخ کا کوئی ذکر نا کیا مگر اسرائیلی میڈیا نے اپنی رپورٹوں میں بتایا ہے کہ وہ یہ دورہ آئندہ منگل نو فروری کو کریں گے۔


