نوشکی ، سمیع اللہ مینگل کی برسی موقع پر واک کا انعقاد، انصاف کی فراہمی کا مطالبہ

نوشکی( نامہ نگار) بلوچ طلباء کمیٹی اور نوشکی آن لائن کے زیر اہتمام شہید سمیع مینگل کے برسی کے حوالے سے ڈسٹرکٹ کونسل ہال نوشکی سے ایک واک کا اہتمام کیا گیا جسمیں اسٹوڈنس اساتذہ کرام اور سول سوسائٹی کے لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی شرکاء نے ہاتھ پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر شہید سمیع مینگل کے خاندان کو انصاف فراہم کرنے اور علاقے میں منشیات فروشوں کی قلع قمع کرنے کے نعرے درج تھے واک کے شرکاء مختلف شاہراہوں سے ہوکر واپس ڈسٹرکٹ کونسل ہال پہنچ کر جہاں تعزیتی ریفرنس کا انعقاد بھی کیا گیا تھا جہاں شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے عبدالواجد مینگل پروفیسر غلام دستگیر صابر پروفیسر عزیز جمالدہنی پروفیسر غمخوار حیات تحصیلدار نوشکی نثار احمد لانگو عبدالستار ابو حذیفہ حاجی طیب یلانزئی. عمیر مینگل دانیال انور خالد بشیر و مختلف سکولوں کے اسٹوڈنس نے کہا کہ سمیع مینگل اور اس کے خاندان نے نوشکی میں منشیات فروشی جیسی لعنت کے خلاف آواز بلند کی جسکے پاداش میں منشیات فروشوں نے گھر پر حملہ کرکے سمیع مینگل کو انکی والدہ کے سامنے گولیوں کا نشانہ بنایا اور ملزمان کی اکثریت تاحال فرار ہیں انہوں نے کہا کہ واقعے کے خلاف اہلیان نوشکی گزشتہ ایک سال سے سراپا احتجاج ہیں اور شہید کے خاندان کو انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ منشیات فروشی ایک لعنت ہے اور سوچے سمجھے منصوبے اور سازش کے تحت اس کو نوشکی سمیت پوری بلوچستان میں عام کرکے نوجوان نسل کو اس آگ میں دھکیلا جارہا ہے جبکہ ہماری حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے منشیات کی روک تھام اور منشیات فروشی کے اڈوں کی خاتمے کیلئے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں اٹھارہے ہیں بلکہ اکثر علاقوں میں منشیات کے اڈوں کی سرپرستی بھی کیجاتی ہیں انہوں نے کہا کہ شہید سمیع مینگل کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیاجاہیگا نوشکی کا ہر نوجوان شہید سمیع مینگل بن کر علاقے میں تمام سماجی برائیوں اور خصوصاً منشیات کے پھیلاؤ کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں گے انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت شہید سمیع مینگل کے نام سے نوشکی میں ڈرگ ہسپتال قائم کریں جہاں منشیات کے عادی افراد کی علاج کرکے انھیں ایک بار پھر باعزت زندگی جینے کے لیے ٹریک پر لایا جائے.

اپنا تبصرہ بھیجیں