سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں پر خاموش تماشائی نہیں بنیں گے،امریکی وزیر خارجہ

واشنگٹن :امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلینکن کا کہنا ہے کہ ایسے وقت میں جب کہ حوثی ملیشیا سعودی عرب پر حملے کر رہی ہے ہم ہاتھ باندھے کھڑے نہیں رہیں گے۔

امریکی وزیر خارجہ نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ سعودی عرب ایک اہم سیکورٹی شراکت دار ہے۔اس سے قبل امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نڈ پرائس نے بتایا تھا کہ وزیر خارجہ اینٹونی بلینکن نے ابہا کے ہوائی اڈے پر دہشت گرد حوثی ملیشیا کے حملے کے بعد اپنے سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان سے بات چیت کی تھی۔انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ امریکا بارہا یہ موقف دہرا چکا ہے کہ وہ دفاعی صلاحتیوں کو مضبوط بنانے کے لیے سعودی عرب کی مدد کے لیے پُر عزم ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ “حوثی قیادت اگر یہ گمان کر رہی ہے کہ نئی امریکی انتظامیہ دباؤ کم کر دے گی تو وہ غلطی پر ہے۔ یہ لوگ ایک بڑے دباؤ کے نیچے ہوں گے۔امریکی صدر جو بائیڈن نے بدھ کے روز باور کرایا ہے کہ ان کی انتظامیہ امریکا اور اس کے حلیفوں کے تحفظ کے لیے طاقت کے استعمال سے ہر گز نہیں ہچکچائے گی۔

امریکی وزارت خارجہ نے بدھ کے روز اعلان کیا تھا کہ وہ سعودی عرب کے شانہ بشانہ ہے۔ یہ موقف ابہا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حوثیوں کے ڈرون حملے کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا۔ وزارت خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ “ہمارے پاس حوثیوں سے نمٹنے کے لیے آپشنز موجود ہیں ، ان میں پابندیاں عائد کرنا شامل ہے”۔

یمن میں آئینی حکومت کے حامی عرب اتحاد نے بدھ کے روز اعلان میں بتایا تھا کہ حوثی ملیشیا نے ایک دہشت گرد کارروائی میں سعودی عرب میں ابہا کے ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔ اتحاد نے تصدیق کی کہ ایران نواز ملیشیا کے حملے کے نتیجے میں ایک شہری طیارے میں لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا۔ واضح رہے کہ حملے میں استعمال ہونے والا ڈرون طیارہ ایرانی ساخت کا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں