بارڈر بندش نے مزید طول پکڑا تو عوام کے پاس احتجاج کے سوا کوئی راستہ نہیں بچے گا، بارڈر ٹریڈ نمائندگان
تربت (بیورو رپورٹ) بارڈر ٹریڈ نمائندگان داد جان سبزل، سردار ولی خان یلان زئی، حاجی کریم زہری، عارف درازئی و دیگر نے تربت پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر بارڈر بندش نے مزید طول پکڑا تو عوام کے پاس سخت احتجاج کے سوا کوئی راستہ نہیں بچے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ سوراپ کراسنگ پوائنٹ کا تجربہ کامیاب ہوتا نظر نہیں آ رہا، اس لیے سابقہ عبدوئی کراسنگ پوائنٹ کو بحال کرکے گاڑی ٹو گاڑی کاروبار دوبارہ شروع کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں اطراف سے ٹینکروں کے ذریعے کاروبار عوام کے مفاد میں نہیں، اس لیے چھوٹی گاڑیوں کے ذریعے کاروبار بحال کیا جائے اور عوام کو باعزت طریقے سے روزگار کا حق دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج انہوں نے ڈپٹی کمشنر کیچ بشیر احمد بڑیچ سے ملاقات کی ہے اور یہ مسئلہ ان کے سامنے رکھا ہے، جس پر انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ایرانی سرحدی فرماندار سے رابطے جاری ہیں اور جلد ان کے ساتھ باقاعدہ میٹنگ کی جائے گی، جس کے بعد پیش رفت متوقع ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انتظامیہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے، کیونکہ گزشتہ کئی مہینوں سے بارڈر بندش نے عوام کو نانِ شبینہ کا محتاج بنا دیا ہے۔ عبدوئی بارڈر پر کاروبار بہتر انداز میں چل رہا تھا، جبکہ ٹرائل بنیادوں پر سوراپ بارڈر کھولا گیا، مگر اس کی کامیابی کے امکانات کم ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مجبوری کی صورت میں احتجاج کا راستہ اختیار کیا جائے گا اور عوام سڑکوں پر نکلیں گے۔ لاکھوں افراد کو دو وقت کی روٹی کمانے کا حق دیا جائے۔ عبدوئی بارڈر کے طرز پر چھوٹی گاڑیوں کے ذریعے کاروبار بحال کیا جائے، جبکہ دونوں اطراف سے ٹینکر سسٹم کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔


