پاکستان کے ساتھ سرحدی بندش اور تجارت معطل ہونے کے باوجود 2025 میں افغانستان کی تجارت مستحکم رہی، رائٹرز

ویب ڈیسک: افغانستان کی وزارتِ تجارت کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے ساتھ اہم سرحدی گزرگاہوں کی بار بار بندش کے باوجود 2025 میں افغانستان کی تجارت مستحکم رہی، کیونکہ برآمد کنندگان اور درآمد کنندگان نے تیزی سے ایران اور وسطی ایشیا کے متبادل راستوں پر انحصار بڑھا دیا۔خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق تجارت میں استحکام ا±س وقت بھی برقرار رہا جب اسلام آباد کے ساتھ کشیدگی کی وجہ سے دیرنہ ٹرانزٹ راستے متاثر ہوئے جو دہائیوں سے خشکی میں گھرے افغانستان کے لیے سمندری بندرگاہوں تک رسائی کا مرکزی ذریعہ رہے ہیں۔تاجروں نے پاکستان کے ٹرانزٹ روٹس کے بجائے ایران کی چابہار بندرگاہ کے ذریعے سامان منتقل کیا اور ازبکستان، ترکمانستان اور تاجکستان کے راستے زمینی ترسیلات میں اضافہ کیا، جس سے تاخیر اور سیاسی غیر یقینی کے اثرات کم ہوئے۔


وزارتِ تجارت کے مطابق، 2025 میں مجموعی تجارت، یعنی برآمدات اور درآمدات کی مشترکہ مالیت، گزشتہ سال کے مقابلے میں بڑھ کر تقریباً 13.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔برآمدات تقریباً 1.8 ارب ڈالر رہیں، جو مجموعی طور پر مستحکم تھیں، جبکہ درآمدات بڑھ کر 12.1 ارب ڈالر سے کچھ زیادہ ہو گئیں۔انڈیا، پاکستان اور وسطی ایشیا کے کئی ممالک افغانستان کی برآمدات کی بڑی منڈیاں رہے، جہاں ترسیلات میں خشک میوہ جات، کوئلہ، قالین، زعفران اور زرعی پیداوار نمایاں رہی۔درآمدات میں بدستور ایندھن، مشینری، غذائی اجناس اور صنعتی خام مال شامل رہے، جو زیادہ تر ایران، متحدہ عرب امارات، چین اور علاقائی پڑوسی ممالک سے آئے۔افغانستان سرحدی بندشوں اور سکیورٹی تنازعات کے تناظر میں پاکستان پر انحصار کم کرنے کی کوششیں تیز کر رہا ہے۔ اگرچہ پاکستان اب بھی سمندر تک پہنچنے کا تیز ترین راستہ ہے، افغان حکام کا کہنا ہے کہ تجارتی راستوں میں تنوع نے اس امر کو ممکن بنایا ہے کہ مشرقی ہمسائے کے ساتھ تعلقات کشیدہ رہنے کے باوجود تجارت جاری رہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں