افغانستان اپنی سرزمین پر موجود دہشت گرد تنظیموں کو ختم کرنے کےلیے اقدامات اٹھائیں، پاکستان/ چین

ویب ڈیسک : بیجنگ میں ہونے والے چین اورپاکستان وزرائے خارجہ اسٹریٹجک مذاکرات کے ساتویں دور میں دونوں ممالک نے مشترکہ اعلامیے کے ذریعے یہ مطالبہ کیا ہے کہ افغانستان میں موجود تمام دہشت گرد تنظیموں کو ختم کرنے کے لیے مزید واضح اور قابلِ تصدیق اقدامات اٹھائے جائیں، جو علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے سنگین خطرات کا باعث بنی ہوئی ہیں، اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ دہشت گرد تنظیمیں افغان سرزمین کو کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ کر سکیں اور نہ ہی کسی دوسرے ملک کے لیے خطرہ پیدا کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ان مذاکرات میں دونوں ممالک نے افغان مسئلے پر قریبی رابطہ اور ہم آہنگی برقرار رکھنے پر اتفاق کیا اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر افغان حکومت کو ایک جامع سیاسی ڈھانچہ تشکیل دینے، معتدل پالیسیاں اپنانے، ترقی پر توجہ دینے، اچھے ہمسائیگی کے اصولوں کو فروغ دینے، اور افغانستان کو پائیدار ترقی اور بین الاقوامی برادری میں انضمام میں مدد دینے کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے کی ترغیب دینے پر اتفاق کیا ۔اعلامیے کے مطابق مذاکرات میں جنوبی ایشیا کی صورتحال بھی نمایاں رہی، جہاں دونوں ممالک نے اس بات پر زور دیا کہ خطے کا نظم و نسق بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ اعلامیے کے مطابق پاکستان نے چین کو جموں و کشمیر کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا، جبکہ چین نے ایک بار پھر کہا کہ کشمیر ایک تاریخی تنازع ہے جسے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور دوطرفہ معاہدوں کے مطابق پ±رامن طریقے سے حل ہونا چاہیے۔ دونوں فریقوں نے یکطرفہ اقدامات کی مخالفت کرتے ہوئے خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔اعلامیے کے مطابق سرحد پار آبی وسائل پر تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کی پاسداری ضروری ہے۔ اسی طرح چین۔افغانستان۔پاکستان سہ فریقی مذاکرات اور چین۔بنگلہ دیش۔پاکستان تعاون کے طریقہ کار کو مزید فعال بنانے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ علاقائی سطح پر مشترکہ پیش رفت ممکن ہو سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں