محکمہ صحت میں پبلک سروس کمیشن کے تحت شفاف اور میرٹ پر بھرتیاں کی جائیں، بے روزگار فارماسسٹ ایکشن کمیٹی بلوچستان

کوئٹہ (پ ر) بے روزگار فارماسسٹ ایکشن کمیٹی بلوچستان کے ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کے اپنے ضلع ڈیرہ بگٹی میں محکمہ صحت کی اسامیوں پر ڈسپنسر سے لے کر چوکیدار تک مستقل تقرریاں کی جا رہی ہیں، جبکہ اسی صوبے میں فارماسسٹ B-17 کی اسامیوں کو کنٹریکٹ پر رکھا جا رہا ہے، جو مساوی قانون اور انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے۔ ترجمان نے کہا کہ محکمہ صحت بلوچستان نے خود ایک نوٹیفکیشن جاری کیا تھا، جس کے تحت ڈاکٹروں کی B-17 اور B-18 کنٹریکٹ و ایڈہاک اسامیوں کو ختم کر کے بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے حوالے کرنے کی ہدایت کی گئی، تو پھر فارماسسٹ اور دیگر ہیلتھ پروفیشنلز کی کنٹریکٹ اسامیوں کو کیوں برقرار رکھا گیا؟ ان کنٹریکٹ پوسٹوں کو بھی فوری طور پر ختم کر کے BPSC کے ذریعے مستقل بنیادوں پر پر کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ٹراما سینٹرز اور بلوچستان کے تمام ڈویژنز میں فارماسسٹ کی جو کنٹریکٹ پوسٹیں دی گئیں، ان پر ہونے والے انٹرویوز صرف حاضری لگاﺅ اور جاﺅ کی بنیاد پر لیے گئے، جہاں میرٹ کو مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا۔ ان تمام کنٹریکٹ تعیناتیوں کو فوری طور پر منسوخ کر کے بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے سپرد کیا جائے تاکہ شفاف اور میرٹ پر مبنی بھرتیاں ممکن ہو سکیں۔ بیان میں کہا گیا کہ کنٹریکٹ پالیسی کے تحت سفارش کلچر کو فروغ دیا جا رہا ہے، وزراءکے قریبی اور من پسند افراد کو تعینات کیا جا رہا ہے۔ صرف 20 اسامیوں کے لیے دو ہزار سے زائد فارماسسٹ بے روزگار ہیں، ایسے میں میرٹ کا دعویٰ کیسے کیا جا سکتا ہے؟ ترجمان نے مزید کہا کہ صوبے بھر میں بے روزگار فارماسسٹس کے ساتھ شدید ناانصافی ہو رہی ہے، جس کے باعث وہ شدید ذہنی اذیت کا شکار ہیں۔ ہمیں کنٹریکٹ پالیسی پر کوئی اعتماد نہیں، کیونکہ انٹرویوز محض رسمی کارروائی بن چکے ہیں اور ان پوسٹوں کو وزیروں کے من پسند افراد میں تقسیم کیا جا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں