پی پی ایچ آئی بلوچستان کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا اجلاس، 9سوبی ایچ یوز میں بلا تعطل بنیادی صحت کی خدمات فراہم کی گئیں، بریفنگ

پی پی ایچ آئی بلوچستان کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا 58واں (Extra Ordinary) پ ر : اجلاس گزشتہ روزادارے کے ہیڈآفس کوئٹہ میں بورڈ کے چیئرمین منیر احمد بادینی کی زیرصدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں گزشتہ ساٹھ دنوں کے دوران گورننس امور، ادارہ جاتی کارکردگی، صحت کی خدمات کے تسلسل اور ادارہ جاتی اصلاحاتی اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے آغاز میں بورڈ نے 10 دسمبر 2025 کو منعقد ہونے والے 57ویں جنرل اجلاس کی کارروائی کی توثیق کی، جس سے قوانین اور گورننس کے عمل کا تسلسل یقینی بنایا گیا۔ بورڈ نے پروفیسر ڈاکٹر غلام رسول کو بطور نئے رکن خوش آمدید کہا اور اس امید کا اظہار کیا کہ ان کی تعلیمی اور طبی مہارت ادارے میں تکنیکی نگرانی اور کلینیکل گورننس کو مزید مضبوط کرے گی۔اجلاس کے دوران چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) پی پی ایچ آئی بلوچستان ڈاکٹر ایم بی راجہ دھاریجو نے اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کے ابتدائی ساٹھ دنوں میں کیے گئے اقدامات پر جامع بریفنگ دی، جس میں بنیادی صحت کی خدمات کے استحکام، نظامی اصلاحات اور گورننس نظم و ضبط کی بحالی پر توجہ مرکوز رہی۔ بورڈ نے ان اقدامات کو سراہا اور اس بات کا نوٹس لیا کہ ادارے نے عارضی اور وقتی انتظامی طریقہ کار سے نکل کر ایک منظم، نظام پر مبنی اور ادارہ جاتی طور پر مضبوط انتظامی ماڈل کی جانب واضح پیش رفت کی ہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ جغرافیائی اور انتظامی چیلنجز کے باوجود بلوچستان کے تمام 36 اضلاع میں قائم 900 سے زائد بنیادی صحت مراکز (بی ایچ یوز) میں بلا تعطل بنیادی صحت کی خدمات فراہم کی گئیں۔ڈاکٹر ایم بی دھاریجو نے بتایا کہ ان کے دور کے ابتدائی مرحلے میں پی پی ایچ آئی بلوچستان کو کس طرح مستحکم کیا گیا، نظام کو ازسرِنو کیسے تعمیر کیا گیا اور سروس ڈیلیوری کو کس طرح محفوظ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان تجربات کا متحمل نہیں ہو سکتا، کیونکہ اس کا جغرافیہ، نازک صورتحال اور انسانی ضروریات پیش بینی، نظم و ضبط اور ادارہ جاتی وضاحت کا تقاضا کرتی ہیں۔ اسی تناظر میں ابتدائی ساٹھ دنوں میں تین ترجیحات پر توجہ دی گئی جن میں سروس ڈیلیوری کا تسلسل۔بی ایچ یوز کی فعالیت، ادویات کی دستیابی، عملے کی حاضری، اور زچگی و ہنگامی خدمات کا بلا تعطل جاری رہنا۔ انتظامی اصلاحات،افراد پر انحصار کم کر کے طریقہ کار کو مضبوط بنانا، جس میں ای فائلنگ، ای آر پی نظام کی توسیع، مرکزی خریداری، بائیومیٹرک حاضری، اور منظم ماہانہ کارکردگی جائزہ۔ گورننس کی مضبوطی، میرٹ پر بھرتیاں، باقاعدہ کمیٹیاں، زیرو ٹالرنس پالیسی، شراکت داروں کا اعتماد، اور سخت مالی و انتظامی نظم و ضبط شامل ہیں۔انہوں نے ان اصلاحات کو عملی، آزمودہ اور پہلے ہی نافذ شدہ قرار دیتے ہوئے بورڈ سے باضابطہ منظوری اور ادارہ جاتی سطح پر ان کے نفاذ کی درخواست کی۔اس دوران بورڈ کو آگاہ کیا گیا کہ ڈپٹی کمشنرز، ڈسٹرکٹ مینیجرز اور متعلقہ ضلعی صحت حکام کے ساتھ منظم رابطوں کے ذریعے ضلعی سطح پر بنیادی صحت کی سہولیات کو مضبوط کیا گیا۔ ان رابطوں میں سہولت کی سطح پر انسانی وسائل کی تنظیم نو، ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ”ایڈاپٹ اے بی ایچ یو“ نوٹیفکیشنز کا اجرا، صحت کے لیے ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ فنڈز کا استعمال، سالانہ بنیادی صحت منصوبہ بندی، اور مانیٹرنگ کے ذریعے شناخت شدہ ضروری سہولیات و ادویات کی فراہمی شامل رہی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے صحت مراکز کے لیے تقریباً 500 ملین روپے مختص کیے گئے، جبکہ بنیادی ڈھانچے اور خدمات کے تسلسل کے لیے بی ایس ڈی آئی کے تحت اضافی فنڈز بھی حاصل کیے گئے۔ادارہ جاتی کنٹرول اور شفافیت کو بہتر بنانے کے لیے سی ای او نے ای فائلنگ سسٹم کے نفاذ کی رپورٹ دی، جس سے فیصلوں کی ٹریس ایبلٹی، وقت کی پابندی اور انتظامی تاخیر میں کمی ممکن ہوئی۔ اس کے ساتھ ساتھ پی پی ایچ آئی سندھ کے ای آر پی سسٹم کو پی پی ایچ آئی بلوچستان میں نافذ کرنے کا عمل شروع کیا گیا، تاکہ مالیات، انسانی وسائل، خریداری، ادویات، مانیٹرنگ و ایویلیوایشن، سپلائی چین اور رپورٹنگ کو ڈیجیٹل بنایا جا سکے اور ایک مستند مرکزی ڈیٹا سورس قائم ہو۔ محکمہ صحت کی جانب سے فیز ٹو کے تحت 155 اضافی بی ایچ یوز کو فعال بنانے کے لیے وزیراعلیٰ بلوچستان کی جانب سے منظوری کیلئے سمری بھی ارسال کیا گیا ہے۔بورڈ کو افرادی قوت کی بھرتی میں میرٹ اور گورننس کو مضبوط بنانے کے اقدامات سے بھی آگاہ کیا گیا۔ ہیڈ آفس کے تمام ملازمین، بشمول اعلیٰ انتظامیہ اور معاون عملہ، کو بائیومیٹرک حاضری نظام میں رجسٹر کیا گیا تاکہ غیر حاضری کا تدارک اور نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔ صوبائی اور ضلعی سطح پر بھرتی کمیٹیاں تشکیل دی گئیں جبکہ جنسی ہراسانی کے معاملات کے لیے اسٹینڈنگ انکوائری کمیٹی قائم کی گئی، جس سے کام کی جگہ پر وقار اور قانونی تقاضوں کی پاسداری یقینی بنائی گئی۔ مختلف آسامیوں کے لیے معیاری اہلیت کے معیار تیار اور منظور کیے گئے تاکہ تنازعات اور عدالتی کارروائی کے خطرات کم ہوں۔ میرٹ کی بنیاد پر ڈسٹرکٹ مینیجرز، مانیٹرنگ و ایویلیوایشن آفیسرز، فنانس آفیسرز اور ایک مخصوص آئی ٹی ٹیم کی بھرتی عمل میں لائی گئی۔ اس کے علاوہ صوبہ بھر میں بڑے پیمانے پر بھرتیوں کا عمل اشتہار کے ذریعے شروع کیا گیا، جس میں میڈیکل آفیسرز، لیڈی میڈیکل آفیسرز، ایل ایچ ویز، ڈسپنسرز، کمیونٹی مڈوائفز، ٹیکنیشنز، ویکسینیٹرز اور معاون عملہ شامل ہے، اور یہ عمل اس وقت جاری ہے۔آپریشنل احتساب کو مضبوط بنانے کے لیے ہیڈ آفس میں تمام اضلاع کے ساتھ ماہانہ جائزہ اجلاسوں کو ادارہ جاتی شکل دی گئی، جس میں اخراجات کے بجائے سروس ڈیلیوری اشاریوں، اصلاحی اقدامات اور فالو اپ پر توجہ دی گئی۔ مالی نظم و ضبط اور خریداری کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے مینوئل آف آپریشنز کی متعلقہ شقوں میں ترامیم کی گئیں اور تمام ترامیم کے ساتھ مینوئل کی دوبارہ اشاعت کی منظوری دی گئی۔ ادویات، طبی آلات، لیبارٹری اشیائ ، آئی ٹی آلات اور لیبر روم سامان کے لیے مرکزی خریداری کا نظام متعارف کرایا گیا، جس سے مقامی سطح پر کی گئی خریداری میں کمی اور لاگت پر کنٹرول ممکن ہوا۔بورڈ نے ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ روابط اور سروس ڈیلیوری کے تسلسل کے لیے کی گئی بڑی سرمایہ کاری میں پیش رفت کا بھی نوٹس لیا۔ یو این ایچ سی آر منصوبے میں مزید چھ ماہ کی توسیع کی گئی، جبکہ گیٹس فاو¿نڈیشن منصوبے کو 2026 تک کامیابی سے توسیع دی گئی، جو گورننس اور احتسابی معیار پر بحال اعتماد کا مظہر ہے۔ 175 بنیادی صحت مراکز کی سولرائزیشن کے لیے تقریباً 5 لاکھ 29 ہزار امریکی ڈالر (تقریباً 149 ملین روپے) کی فنڈنگ حاصل کی گئی، جس پر فروری 2026 سے عملدرآمد متوقع ہے تاکہ آف گرڈ علاقوں میں بلا تعطل خدمات یقینی بنائی جا سکیں۔ چمن میں پہلے سے تعمیر شدہ تین بی ایچ یوز کو فرنیچر اور آلات فراہم کر کے فعال بنایا گیا، جہاں او پی ڈی خدمات پہلے ہی شروع ہو چکی ہیں۔اجلاس میں یو این ایف پی اے کے ساتھ طویل المدتی شراکت داری کے لیے اسٹریٹجک روابط، اور آئی آر سی کے ساتھ ممکنہ تعاون کے آغاز سے بھی آگاہ کیا گیا۔ ادویات کی دستیابی اور معیار کو بہتر بنانے کے لیے 104 ضروری ادویات کی خریداری، 92 اشیائ کی ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری رپورٹس کی وصولی اور 80 اشیائ کو معیاری قرار دینے کے اقدامات پر روشنی ڈالی گئی۔ بنیادی صحت مراکز میں پی ایس بی آئی اور آئی ایم این سی آئی پروٹوکولز کے نفاذ سے کلینیکل معیار کو مزید بہتر بنایا گیا۔سروس توسیع اور کمیونٹی کی شمولیت سے متعلق اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ڈسٹرکٹ مینیجرز کو ہدایت دی گئی کہ لیبر رومز والے 30 بی ایچ یوز کو مقررہ مدت میں 24/7 خدمات فراہم کرنے والے بی ایچ یو پلس مراکز میں تبدیل کیا جائے۔ ہر بی ایچ یو کے لیے کمیونٹی سپورٹ گروپس کی تشکیل کے رہنما اصول جاری کیے گئے تاکہ عوامی شمولیت اور ملکیت کو فروغ دیا جا سکے۔ ادارہ جاتی سیکھنے اور معیارات کو مضبوط بنانے کے لیے پی پی ایچ آئی سندھ کے ساتھ طویل المدتی تکنیکی تعاون کا منصوبہ بنایا گیا۔ وفاقی حکومت کی ڈیجیٹلائزیشن اور کیش لیس معیشت کے فروغ کی ہدایات کے تحت، پی پی ایچ آئی کو وزارتِ خزانہ نے ان اداروں میں شامل کیا ہے جہاں ڈیجیٹل اقدامات نافذ کیے جائیں گے، جنہیں پی پی ایچ آئی بلوچستان مرحلہ وار متعارف کرائے گا۔بورڈ نے آو¿ٹ ریچ اور لاجسٹکس میں بہتری کے عمل کوسراہا، جن میں پشین میں موبائل ہیلتھ یونٹ کا آغاز، کوئٹہ سے چاغی موبائل ٹیلی ہیلتھ یونٹ کی منتقلی، اور لیبر رومز، ٹیلی ہیلتھ سینٹرز اور لیبارٹریز کے لیے مقامی خریداری کے بجائے مرکزی سطح سے ادویات کی فراہمی شامل ہے، جس سے تقریباً 214 ملین روپے کی بچت ہوئی ہے۔ مختلف اضلاع میں ایمبولینس سروسز کی دستیابی کویقینی بنایاگیا، جبکہ ذہنی صحت سے متعلق ماڈیولز اور ادویات کو بھی بنیادی صحت کے پیکیج میں شامل کیا گیا ہے۔صلاحیت سازی اور مانیٹرنگ کے نظام کو مزید بہتر بنانے کے لیے ہیڈ آفس میں جنرل ایڈمنسٹریشن، فنانشل مینجمنٹ، ٹیکنیکل اور مانیٹرنگ و ایویلیوایشن ونگز میں کیپسٹی بلڈنگ سیلز قائم کیے گئے۔ 77 بی ایچ یو پلس مراکز میں رات کی مانیٹرنگ کا آغاز کیا گیا تاکہ اوقاتِ کار کے بعد بھی عملے کی موجودگی اور خدمات کی دستیابی یقینی بنائی جا سکے۔ انڈومنٹ فنڈ کے استعمال کی پالیسی کو صوبائی کابینہ میں پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا۔ اجلاس میں گزشتہ مدت کے دوران ضلعی انتظامیہ، محکمہ صحت، محکمہ خزانہ، بورڈ کمیٹیوں، ترقیاتی شراکت داروں اور نجی شعبے کے ساتھ ہونے والے وسیع اسٹیک ہولڈر روابط سے بھی آگاہ کیا گیا۔بورڈ نے ضلع موسیٰ خیل میں ہیضہ، خناق اور معدے کے امراض کی وباپھیلنے کے دوران پی پی ایچ آئی بلوچستان کے کردار کو خصوصی طور پر سراہا، جہاں بروقت ردِعمل اور مو¿ثر رابطہ کاری کے نتیجے میں صورتحال پر قابو پایا گیا اور حکومت نے ادارے کی کارکردگی کو سراہا۔ مستقبل کی منصوبہ بندی سے متعلق اقدامات بھی پیش کیے گئے، جن میں آئندہ مالی سال کے لیے نئے اخراجات کا شیڈول اور سی ای او کا تمام ڈسٹرکٹ مینیجرز کے نام پہلا جامع پیغام شامل ہے، جس میں“ون ماڈل بی ایچ یو”فریم ورک کی وضاحت کی گئی۔ اس فریم ورک میں روزانہ فیلڈ موجودگی، زیرو غیر حاضری، اسٹاک کی درستگی، زچگی خدمات کی بہتری، کمیونٹی شمولیت، اور جنسی ہراسانی و بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹالرنس پر زور دیا گیا ہے۔بورڈ نے ادارے کے ٹیکنیکل (بنیادی صحت خدمات)، انجینئرنگ اور مانیٹرنگ و ایویلیوایشن ونگز کی تنظیمِ نو سے متعلق تجاویز پر بھی غور کیا، جن کا مقصد پائیداری کے عمل کو یقینی بنانا ہے۔ ان تجاویز میں اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی، واضح احتساب، اور شواہد پر مبنی فیصلہ سازی کے لیے ایک آزاد مانیٹرنگ و ایویلیوایشن فنکشن کے قیام پر زور دیا گیا۔ بورڈ نے اصلاحاتی سمت اور ابتدائی ساٹھ دنوں میں حاصل ہونے والی پیش رفت کو سراہا اور بلوچستان بھر میں بنیادی صحت کی خدمات، گورننس، شفافیت اور ادارہ جاتی کارکردگی کو مضبوط بنانے کے لیے مکمل تعاون کا اعادہ کیا۔اجلاس چیئرمین کے لیے اظہارِ تشکر کے ساتھ اختتام پذیر ہوا، جبکہ گزشتہ ساٹھ دنوں میں شاندار کارکردگی پر سی ای او کے لیے باقاعدہ تعارفی پیغام جاری کرنے کی ہدایات بھی دی گئیں۔جلاس میں بورڈ ممبران محمد نسیم لہڑی، محترمہ روشن خورشید بروچہ، عرفان احمد اعوان، قیصر خان جمالی، چیف سیکشن پی اینڈ ڈی ڈیپارٹمنٹ محمد عارف بلوچ، سیکشن آفیسر بجٹ فنانس ڈیپارٹمنٹ محمد عارف، ڈی جی پی اینڈ ڈی عنایت اللہ خان، اور چیف آپریٹنگ آفیسر پی پی ایچ آئی بلوچستان محمد زاکر نے شرکت کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں