جمعیت نہ کبھی کسی مصلحت کا شکار ہوئی ہے اور نہ آئندہ ہوگی، جے یو آئی

کوئٹہ(این این آئی)جمعیت علماءاسلام بلوچستان کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ جے یو آئی کا یہ دیرینہ اور اصولی موقف رہا ہے کہ بلوچستان میں ہمیشہ عوامی رائے کے برعکس حکومتیں تشکیل دی جاتی رہی ہیں۔ کبھی مری فارمولے جیسے غیر آئینی بندوبست کے ذریعے، کبھی نام نہاد نئی سیاسی جماعتوں کو مصنوعی طور پر منظرِ عام پر لا کر مخلوط حکومتیں بنائی گئیں، اور اب ایک نجی ہوٹل میں طے پانے والے ڈھائی ڈھائی سالہ اقتدار کے غیر جمہوری فارمولے نے صوبے کو شدید سیاسی، انتظامی اور معاشی بحرانوں میں دھکیل دیا ہے۔ موجودہ حکومت عوامی مسائل کے حل کے بجائے محض اقتدار کی رسہ کشی میں مصروف ہے، عوام کی فلاح، امن و امان، روزگار اور بنیادی سہولیات پسِ پشت ڈال دی گئی ہیں، جبکہ حکمرانوں کی تمام تر توجہ اپنی کرسی کے تحفظ پر مرکوز ہے۔ اسی نااہلی اور بے حسی کے باعث صوبہ عملی طور پر مفلوج ہو چکا ہے اور فیصلہ سازی کا فقدان ہر سطح پر نمایاں ہے۔جمعیت علماءاسلام واضح الفاظ میں اس امر کا اعادہ کرتی ہے کہ وہ عوامی سیاست اور حقیقی عوامی اقتدار پر یقین رکھتی ہے۔ بیساکھیوں کے سہارے کھڑی کی گئی حکومتیں نہ کوئی جرات مندانہ فیصلہ کر سکتی ہیں اور نہ ہی صوبے کو درپیش سنگین چیلنجز سے نمٹنے کی اہلیت رکھتی ہیں، جس کے باعث حکومت ہمیشہ تذبذب، خوف اور غیر یقینی کا شکار رہتی ہے۔ جب جے یو آئی اپنے اصولی اور آئینی موقف پر ڈٹ جاتی ہے تو اسے نظام کے لیے رکاوٹ قرار دیا جاتا ہے، اور جب حکومت کو اس کی کارکردگی عوام کے سامنے آنے کے لیے موقع دیا جاتا ہے تو جے یو آئی پر ”فرینڈلی اپوزیشن“ کا بے بنیاد الزام عائد کیا جاتا ہے، حالانکہ جمعیت علما اسلام نہ کبھی کسی مصلحت کا شکار ہوئی ہے اور نہ آئندہ ہوگی۔بیان میں اس تلخ حقیقت کی نشاندہی بھی کی گئی کہ جے یو آئی کے دس منتخب نمائندے دن دہاڑے عوامی مینڈیٹ چھین کر ہم سے محروم کیے گئے، جس کا مشاہدہ پوری دنیا نے کیا، مگر اس کے باوجود کوئی طاقت ہمیں عوامی نمائندگی سے محروم نہیں کر سکتی۔ جمعیت علماء اسلام نے پشین اور قلعہ سیف اللہ میں عوامی اسمبلیوں کے ذریعے اور آئندہ بھی صوبے کے دیگر اضلاع میں یہ ثابت کیا ہے کہ جے یو آئی بلوچستان کی وہ واحد جماعت ہے جو صوبے کی طول و عرض میں یکساں طور پر مقبول، متحرک اور حقیقی معنوں میں عوام کی نمائندہ ہے، اس کے باوجود ہمارے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ریس ریلیز میں کہا گیا کہ نااہل حکومت کی ناقص پالیسیوں کے باعث صوبے میں امن و امان کی صورتحال بدترین شکل اختیار کر چکی ہے، جس کی قیمت سیکیورٹی اہلکار، عام عوام اور صوبے کی ترقی ادا کر رہی ہے۔ حکومت صوبہ چلانے کی صلاحیت، وڑن اور جامع پالیسی سے محروم ہو چکی ہے، جس کے نتیجے میں بحران در بحران جنم لے رہے ہیں۔ عوام دو وقت کی روٹی کے لیے ترس چکے ہیں اور نانِ شبینہ کے محتاج بنا دیے گئے ہیں، ایسی صورتحال میں جمعیت علماء اسلام خاموش نہیں رہ سکتی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں