سوراب کی ضلعی حیثیت ختم کرنے کی تجویز مقامی لوگوں کیساتھ کھلی دشمنی ہے، ظفر اللہ زہری

خضدار (نمائندہ انتخاب) جمعیت علما اسلام کے مرکزی رہنما سابق وزیر داخلہ بلوچستان ایم پی اے نوابزادہ میر ظفراللہ خان زہری نے اپنے جاری کردہ بیان میں سوراب ضلع کو ختم کرنے کی سازش سوراب کے عوام کے ساتھ کھلی دشمنی قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ اس گھناو¿نی سازش کے پیچھے ایک سیاسی جماعت کا ہاتھ واضح طور پر نظرآرہاہے سوراب کے عوام نے 2018 کے عام انتخابات میں ضلع کے نام پر جن عناصر کو ووٹ دیاوہ آج نہ صرف سوراب سے غائب ہے بلکہ ضلع کے قیام کے بعد عوامی مسائل حل کرنے میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئے سوراب کے عوام نے 2023 کے انتخابات میں موقع پرست سیاسی عناصر کو مسترد کرکے واضح پیغام دے دیا ہے کہ سوراب اب دھوکہ دہی اور سازشوں کو کسی صورت قبول نہیں کرے گی ان خیالات کا اظہار ایم پی اے سوراب نوابزادہ میر ظفراللہ خان زہری نے میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیاانہوں نے کہا افسوسناک امر یہ ہے کہ وہی مسترد شدہ لوگ آج پیپلز پارٹی کے اشاروں پر سوراب کے ضلع کو ختم کرنے کی تجویز کا حصہ بن کر عوام کی پیٹھ میں چھرا گھونپ رہے ہیں انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ سوراب کے ضلع کا قیام عوام کی ایک تاریخی کامیابی ہےاور اس پر کسی بھی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جائے گاسوراب کے عوام نے قربانیاں دے کر ضلع حاصل کیاہے، اسے کسی سیاسی مفاد ذاتی انا یا جماعتی سازش کی بھینٹ نہیں چڑھنے دیا جائے گا۔نوابزادہ میر ظفراللہ خان زہری نے اعلان کیا کہ وہ سوراب کے باشعور عوام کے ساتھ مل کر اس سازش کو ہر فورم پر بے نقاب کریں گے اور کسی بھی قیمت پر ضلع سوراب کے وجود کو ختم کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر سوراب کے ضلع کے خلاف کسی قسم کی عملی پیش رفت کی گئی تو اس کے خلاف سخت عوامی ردِعمل اور بھرپور جمہوری مزاحمت کی جائے گی، جس کی تمام تر ذمہ داری سازش کرنے والوں پر عائد ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں