پسنی میں ماہی گیری پر پابندی کے باعث سمندری کاروبار ٹھپ، ہزاروں افراد کا روزگار خطرے میںپڑ گیا
پسنی (نامہ نگار) پسنی شدید معاشی بحران کی لپیٹ میں، ماہیگیری پر پابندی برقرار، سمندری کاروبار ٹھپ، تاجر شدید مشکلات کا شکار۔ بلوچستان کے ساحلی شہر پسنی کو درپیش معاشی بحران دن بہ دن سنگین صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ محکمہ فشریز کا ضلع بھر کے علاوہ محض پسنی شہر میں سرکلنگ ماہیگیری کے شکار پر عائد پابندی کے باعث سمندری کاروبار مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ گیا ہے، جس سے ہزاروں افراد کا روزگار خطرے میں پڑ چکا ہے،تفصیلات کے مطابق سرکلنگ ماہیگیری پر پابندی برقرار رہنے کے سبب درجنوں ماہیگیر کشتیوں کو ساحل پر کھڑا کرنے پر مجبور ہیں، جبکہ فِش ہاربر میں ویرانی چھا گئی ہے۔ ماہیگیر طبقہ، کشتی مالکان، فِش پروسیسنگ یونٹس اور برف فروشوں سمیت سمندری کاروبار سے وابستہ تمام شعبے شدید مالی دباﺅ کا شکار ہیں،مقامی تاجران کا کہنا ہے کہ کاروباری سرگرمیاں مکمل طور پر ٹھپ ہو چکی ہیں، مارکیٹوں میں خرید و فروخت نہ ہونے کے برابر ہے، جس کے باعث دکانیں بند ہونے لگی ہیں۔ یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور فاقہ کشی کے قریب پہنچ چکے ہیں جبکہ گھریلو اخراجات پورے کرنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے،تاجروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ماہیگیری پر عائد پابندی کے حوالے سے واضح اور عملی حکمت عملی اپنائی جائے یا متاثرہ خاندانوں کے لیے فوری مالی امداد اور متبادل روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حالات جوں کے توں رہے تو پسنی ایک بڑے سماجی و انسانی بحران کا شکار ہو سکتا ہے،علاقہ مکینوں نے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے اور پسنی کے عوام کو اس معاشی بدحالی سے نکالنے کے لیے ہنگامی اقدامات کرنے کی اپیل کی ہے۔


