سول ہسپتال اور صوبے کے غریب نادار مریضوں کے لیے قائم شدہ بولان میڈیکل ہسپتال اور کالج کے نجکاری افسوسناک ہے، پشتونخوامیپ
کوئٹہ (این این آئی) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے صوبائی سیکرٹریٹ کے جاری کردہ پریس ریلیز میں مسلط نام نہاد حکومت کی جانب سے انگریزی دورحکومت میں قائم شدہ سنڈیمن پرونشل ہسپتال کوئٹہ اور ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں صوبے کے غریب نادار مریضوں کے لیے قائم شدہ بولان میڈیکل ہسپتال اور کالج کے نجکاری کے نوٹیفکیشن پرانتہائی دُکھ اورسخت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے اور اس طرح صوبائی حکومت کی عوام دشمن اقدام کو کھلی طور پر مسترد کیا گیا ہے ۔ بیان میں کہا گیا ہے سنڈیمن صوبائی ہسپتال(سول ہسپتال) اور بولان میڈیکل کمپلیکس (بی ایم سی ) کوئٹہ کے دو بڑے سرکاری ہسپتالوں کے لیے اٹونومس باڈی کا نوٹیفکیشن کرنا دراصل غریب عوام سے سرکاری علاج ومعالجہ اور صحت کی بنیادی سہولیات چھیننے کے مترادف ہے ۔ حکومت کی اس اقدام کی مخالفت میں تمام سیاسی جمہوری پارٹیوں ، سوشل تنظیموں اور تمام صوبے کے محب وطن اور شہریوں کی جانب سے اس کی مذمت اور نوٹیفکیشن واپس لینے کے لیے آواز بلند کرنا سب کی قومی ذمہ داری بنتی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ کوئٹہ شہر کی لاکھوں آبادی اور ساتھ ہی صوبے کے دیگر تمام اضلاع کے غریب عوام علاج ومعالجے کے لیے سول ہسپتال اور بی ایم سی ہسپتال آتے ہیں ۔ پہلے ہی محکمہ صحت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے ۔ غریب عوام کو ہسپتالوں میں کوئی بنیادی سہولت میسر نہیں اور رہی سہی کسر نجکاری کے نوٹیفکیشن سے پوری کردی گئی ہے ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ غریب عوام پہلے ہی حکومت اور حکومتی اداروں کی رشوت، پرسنٹ، اقرباءپروری، کرپشن اپنے عروج پر ہے دوسری جانب بدترین مہنگائی، سخت ترین بیروزگاری کے باعث عوام کو ذہنی کوفت کا شکاربنا چکے ہیں ۔ تعلیم ، صحت، پینے کے صاف پانی ، گیس ، بجلی سے محروم ہیں اور اب سرکاری ہسپتالوں کوپرائیویٹ کرکے صحت کے اخراجات عوام سے پورا کرنا تقریباً ناممکن ہوگیا ہے ۔ اور صوبے کے عوام کو مزید مشکلات سے دوچار کرنا افسوسناک اور قابل گرفت عمل ہے۔بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ حکومت فوری طور پر اٹونومس باڈی کے نوٹیفکیشن کو واپس لیکر ان دو بڑے ہسپتالوں میں مزید صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے اقدامات اٹھائیں اور عوام کو سرکاری علاج ومعالجے سے محروم کرنے کے خلاف پشتونخوامیپ اپنے عوام کی تائید وحمایت کے ساتھ احتجاج پر مجبور ہوں گی جس کی تمام تر ذمہ داری مسلط حکومت پر عائد ہوگی۔


