بلوچستان اپنی تاریخی، ثقافتی اور لسانی وسعت کے باعث مختلف اقوام اور زبانوں کا سنگم ہے، اسرار اللہ زہری
خضدار (رپورٹ: منیر احمد زہری) بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) کے مرکزی صدر سابق وفاقی اسرار اللہ خان زہری نے مادری زبانوں کا عالمی دن کے حوالے سے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ مادری زبان کسی بھی قوم کی شناخت، تہذیبی تسلسل اور فکری آزادی کی بنیاد ہے زبان صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ یہ نسلوں کے خواب دانش، روایات اور اجتماعی شعور کا سرمایہ ہے۔ جب زبان محفوظ رہتی ہے تو قوم کی فکری بنیادیں بھی مستحکم رہتی ہیں، اسرار اللہ خان زہری نے کہا کہ بلوچستان اپنی تاریخی، ثقافتی اور لسانی وسعت کے باعث مختلف اقوام اور زبانوں کا سنگم ہے یہاں براہوئی اور بلوچی کے ساتھ پشتو، سندھی، سرائیکی، ہزارگی اور اردو سمیت متعدد زبانیں بولی جاتی ہیں جو اس خطے کی ہم آہنگی اور مشترکہ سماجی ورثے کی علامت ہیں ان تمام زبانوں کا فروغ نہ صرف ثقافتی ضرورت بلکہ صوبائی خودمختاری اور قومی استحکام کے لیے بھی ناگزیر ہے انہوں نے کہا کہ مادری زبانوں کی بقاءاور فروغ کے لیے عملی اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں صوبائی بجٹ میں زبانوں کی اکیڈمیوں، ادبی بورڈز اور تحقیقی اداروں کے لیے خاطر خواہ وسائل مختص کیے جائیں تاکہ تحقیق، تالیف، تراجم، نصابی مواد اور ادبی سرگرمیوں کو مستحکم بنیاد ملے اور ابتدائی تعلیم مادری زبان میں فراہم کی جائے نصاب اور تعلیمی مواد مقامی زبان کے مطابق تیار ہوں اور اساتذہ کی تربیت کو ترجیح دی جائے تاکہ بچوں کی ذہنی اور فکری نشوونما ممکن ہوانہوں نے مزید کہا کہ جامعات اور تحقیقی اداروں میں علاقائی زبانوں کے شعبہ جات کو مضبوط کیا جائے ایم فل اور پی ایچ ڈی سطح پر تحقیق کی حوصلہ افزائی ہو اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے زبانوں کے ڈیجیٹل آرکائیوز قائم کیے جائیں تاکہ ہماری زبانیں علمی اور تکنیکی ترقی کے ساتھ ہم آہنگ رہیں انہوں نے کہا کہ مادری زبانوں کا تحفظ سماجی انصاف، قومی ہم آہنگی اور ثقافتی ترقی کی ضمانت ہے لسانی تنوع کمزوری نہیں بلکہ قومی طاقت ہے اور وفاق اسی وقت مضبوط ہوگا جب اکائیوں کی ثقافتی و لسانی شناخت کو عملی سرپرستی اور آئینی احترام حاصل ہو۔ بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) مادری زبانوں کے آئینی حقوق بجٹ میں ترجیحی حیثیت اور پالیسی سازی کے لیے اپنی تعمیری اور جمہوری آواز ہمیشہ بلند رکھے گی۔


